جمعرات, ستمبر 17, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

نابالغ اور سوشل میڈیا، قانون کو فیصلہ کرنا ہوگا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-17
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

                سوشل میڈیا نے دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لا کھڑا کیا ہے۔ معلومات، تعلیم، تفریح اور رابطے کے بے شمار مواقع ایک چھوٹی سی اسکرین کے ذریعے دستیاب ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ایسے خطرات بھی پیدا ہوئے ہیں جن کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ایک ایسا بچہ جو حقیقی دنیا میں اجنبیوں پر اعتماد کرنے کے نقصانات کو پوری طرح نہیں سمجھتا، وہ چند لمحوں میں ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جہاں نامناسب مواد، جعلی شناخت، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور آن لائن استحصال جیسے خطرات اس کے منتظر ہوسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں سپریم کورٹ کا یہ سوال کہ نابالغوں کو آزادانہ طور پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے اور چلانے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

                سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے جس میں۱۸ سال سے کم عمر بچوں کو اپنے طور پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے سے روکنے، عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام قائم کرنے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی میں ہندوستانی قانون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے درمیان ایک بنیادی تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جب قانون۱۸ سال سے کم عمر شخص کو معاہدہ کرنے کی اہلیت نہیں دیتا تو پھر وہ سوشل میڈیا کی شرائط و ضوابط قبول کرکے ایک معاہداتی تعلق میں کیسے داخل ہوسکتا ہے؟

                یہ سوال صرف قانونی بحث تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے بچوں کی سلامتی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آن لائن اجنبی افراد بچوں سے دوستی کرکے ان کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں، انہیں نامناسب مواد کی طرف راغب کرسکتے ہیں، بلیک میل کرسکتے ہیں اور بعض صورتوں میں انہیں گھروں سے نکلنے یا خطرناک لوگوں کے ساتھ جانے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ عرضی گزار تنظیم نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا ہے جن میں بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر خطرے میں ڈالا گیا۔

                مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارم عمر کی ایک حد مقرر کرتے ہیں، مگر اس کی تصدیق ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ ایک بچہ چند سیکنڈ میں اپنی اصل عمر کے بجائے زیادہ عمر درج کرکے ایسا اکاؤنٹ بنا سکتا ہے جس پر والدین کی کوئی عملی نگرانی نہیں ہوتی۔ یوں گھر کی چار دیواری بظاہر محفوظ ہونے کے باوجود بچہ ایک ایسی دنیا کا حصہ بن جاتا ہے جہاں والدین کی رسائی محدود ہوسکتی ہے۔

                ہندوستان میں یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی رسائی تیزی سے بڑھی ہے۔ جموں و کشمیر بھی اس تبدیلی سے الگ نہیں۔ وادی کے شہری علاقوں سے لے کر دور دراز پہاڑی علاقوں تک بچے موبائل فون کے ذریعے تعلیم، معلومات، تفریح اور رابطے کے مواقع حاصل کررہے ہیں۔ آن لائن تعلیم اور مختلف تعلیمی ذرائع نے بچوں کے سیکھنے کے امکانات میں اضافہ کیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ضرورت بھی پیدا ہوئی ہے کہ انہیں ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب نظام موجود ہو۔

                جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ کیا والدین اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے پوری طرح واقف ہیں؟ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ کئی گھروں میں موبائل فون بچے کو مصروف رکھنے کا آسان ذریعہ بن گیا ہے۔ والدین اس بات سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ بچہ گھر میں بیٹھا ہے، مگر اس کی آن لائن دنیا میں کون داخل ہورہا ہے، وہ کیا دیکھ رہا ہے اور کس سے بات کررہا ہے، اس کی نگرانی ضروری نہیں کہ ہورہی ہو۔

                تاہم اس مسئلے کا حل بچوں کو مکمل طور پر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا سے کاٹ دینا بھی نہیں ہوسکتا۔ آج تعلیم، ہنر، زبان سیکھنے اور معلومات کے بے شمار مواقع ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ ہیں۔ اصل ضرورت مکمل پابندی کے بجائے محفوظ اور ذمہ دارانہ رسائی کی ہے۔ بچے کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنے کے بجائے اسے اس دنیا میں محفوظ رہنے کا طریقہ سکھانا زیادہ اہم ہے۔

                دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اسی مسئلے پر غور ہورہا ہے۔ یورپی یونین میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی رسائی محدود کرنے اور مختلف عمروں کے بچوں کے لیے والدین کی نگرانی اور محفوظ ڈیزائن جیسے اقدامات کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ بچوں کی آن لائن سلامتی اب عالمی سطح پر ایک اہم پالیسی مسئلہ بن چکی ہے۔

                ہندوستان میں بھی صرف عمر کی حد مقرر کردینا کافی نہیں ہوگا۔ عمر کی مؤثر تصدیق، والدین کی رضامندی، بچوں کے لیے محفوظ ابتدائی ترتیبات، وقت کے استعمال کی مناسب حدود، نامناسب مواد کی روک تھام اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام ضروری ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ عمر کی تصدیق کے نام پر بچوں کا نجی ڈیٹا خود ایک نئے خطرے میں تبدیل نہ ہوجائے۔ بچوں کی حفاظت اور رازداری دونوں کو یکساں اہمیت دینا ہوگی۔

                جموں و کشمیر میں اسکولوں کا کردار بھی نمایاں ہوسکتا ہے۔ بچوں کو صرف کمپیوٹر اور موبائل چلانا نہیں بلکہ محفوظ انٹرنیٹ استعمال کرنا بھی سکھایا جانا چاہیے۔ انہیں بتایا جائے کہ ہر آن لائن دوست قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، ذاتی معلومات یا تصاویر شیئر کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، اور ہراسانی یا بلیک میلنگ کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے والدین، اساتذہ یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو اطلاع دینی چاہیے۔

                والدین کو بھی نگرانی کا مطلب صرف موبائل چھین لینا نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ بچے کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا جائے تاکہ وہ کسی مشکل یا مشکوک رابطے کی صورت میں خوف کے بغیر گھر والوں سے بات کرسکے۔ سختی بعض اوقات بچے کو مزید چھپانے پر مجبور کرسکتی ہے، جبکہ اعتماد اسے خطرے کی صورت میں مدد لینے کی ہمت دیتا ہے۔

                سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر ان کے پلیٹ فارم بچوں تک پہنچ رہے ہیں تو انہیں صرف صارف کی غلط عمر درج کرنے کا جواز پیش کرکے اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ عمر کی مناسب تصدیق، بچوں کے لیے محفوظ ڈیزائن اور نقصان دہ سرگرمیوں کی فوری روک تھام ان کی ذمہ داری کا حصہ ہونی چاہیے۔

                سپریم کورٹ نے ابھی اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، تاہم عدالت کے سامنے اٹھنے والا سوال نہایت بنیادی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل تو کررہے ہیں جس کے فوائد بے شمار ہیں، لیکن کیا ہم انہیں اس دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے ضروری تحفظ اور شعور بھی دے رہے ہیں؟

                ضرورت سوشل میڈیا کی کھڑکی بند کرنے کی نہیں، بلکہ اس پر ایسی حفاظتی جالی لگانے کی ہے جس سے علم اور معلومات کی روشنی اندر آئے، مگر خطرات کو راستہ نہ ملے۔ ریاست قانون بنائے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنی ذمہ داری پوری کریں، اسکول شعور پیدا کریں اور والدین بچوں کی رہنمائی کریں۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جس کے ذریعے ہندوستان، اور بالخصوص جموں و کشمیر، اپنے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے فوائد سے محروم کیے بغیر اس کے خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزیر اعلیٰ صاحب! یہ کیا بات ہوئی ؟

Next Post

یو پی آئی لین دین پر۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر فیس واپس لینے کا کوئی سوال نہیں:حکومتی عہدیدار

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

2026-09-15
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

2026-09-13
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

 ایک نئے سفر کا آغاز: فلم فیسٹیول کشمیر کے لیے صرف چار دن نہیں؟

2026-09-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

2026-09-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

2026-09-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05
Next Post
₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا

یو پی آئی لین دین پر۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر فیس واپس لینے کا کوئی سوال نہیں:حکومتی عہدیدار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.