ایک بات جو ہماری سمجھ میں آ گئی……. یا آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ……. کہ گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ‘عمرعبداللہ کی کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے……. بالکل بھی نہیں آ رہی ہے۔ کم از کم وہ باتیں تو بالکل بھی نہیں، جو انہوں نے آج کیں……. احتجاجی ملازمین کے حوالے سے کیں……. اللہ میاں کی قسم، ہم نے لاکھ کوشش کی کہ ہم ان کی ان باتوں کو سمجھ سکیں……. لیکن ایسی ہماری قسمت، قسمت نہیں، سمجھ کہاں!وزیرِ اعلیٰ صاحب احتجاج کو جمہوری حق بھی قرار دے رہے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملازمین احتجاج کریں، انہیں احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روکے گا……. پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب ملازمین جب تک احتجاج پر ہیں، سڑکوں پر ہیں، ان سے کوئی بات نہیں کی جائے گی، بالکل بھی نہیں کی جائے……. کہ اگر ان سے احتجاج کے دوران بات چیت کی گئی تو پھر سبھی احتجاج کرنے بیٹھ جائیں گے……. اللہ میاں! وزیرِ اعلیٰ کو صحتِ بدن عطا کرے، آخر یہ جناب کہنا کیا چاہتے ہیں؟یہ اب ان کا کون سا اسٹائل ہے……. یہ تو صدیوں سے آتا ہے کہ ملازمین احتجاج کرتے ہیں، ہڑتال کرتے ہیں اور پھر حکومت ان سے بات کرتی ہے……. احتجاج اور ہڑتال اس لیے کی جاتی ہے تاکہ حکومت کی توجہ حاصل کی جا سکے……. ورنہ سالہا سال تک ان کے مسائل پر حکومت بات تک نہیں کرتی ہے۔صاحب، ہماری سن لی جائے تو خطا ملازمین کی نہیں ہے، احتجاجی ملازمین کی نہیں اور بالکل بھی نہیں ہے……. قصور حکومت کا ہے، جو مسائل کا انبار بناتی ہے، اسے جمع کرتی ہے، لیکن ان مسائل کو حل نہیں کرتی ہے……. بالکل بھی نہیں کرتی ہے۔رہی بات، بات چیت سے پہلے احتجاج ختم کرنے کی بات تو……. تو صاحب، انٹرن ڈاکٹروں سے پہلے بات چیت ہوئی، ایک دو ادوار ہوئے اور اسی بات چیت کی وجہ سے ہی ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کیا……. سو اگر وزیرِ اعلیٰ انٹرن ڈاکٹروں کی مثال دیتے ہیں……. یہ کہہ کر دیتے ہیں کہ انہوں نے پہلے احتجاج اور ہڑتال ختم کی، پھر حکومت نے ان سے بات چیت کی تو……. تو گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ صاحب، بالکل غلط کہہ رہے ہیں……. آج تک کہیں پر بھی احتجاج ختم کرنے کے بعد بات چیت ہوئی ہے؟……. کہیں پر بھی نہیں۔بلکہ بات چیت احتجاج ختم کرنے کے لیے ہی کی جاتی ہے اور پھر اصل معاملات پر بھی مذاکرات ہوتے ہیں……. لیکن نہ جانے وزیرِ اعلیٰ یہ کون سی منطق پیش کر رہے ہیں اور کیوں پیش کر رہے ہیں……. ایسی منطق، ایسی بات جو ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے……. بالکل بھی نہیں آ رہی ہے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




