چلئے صاحب، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا خاتمہ بالخیر ہو گیا…… اللہ میاں کی قسم، ہمارے تو کان پک گئے تھے‘ کئی ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں سے پک گئے تھے…… ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اپنے کشمیر میں کچھ اور ہو ہی نہیں رہا ہے…… اور سچ بھی یہی ہے کہ کچھ اور ہو بھی نہیں رہا تھا کہ ساری توانائی‘ ساری توجہ اس فیسٹیول پر مرکوز تھی۔نہیں جناب، ہم کون ہوتے ہیں اس پر اعتراض کرنے والے؟ ہمیں اس پر کوئی اعتراض تھا، نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے…… الٹا ہم تو خوش ہیں‘ اس بات پر خوش ہیں جو باتیں اس فیسٹیول کے دوران کی گئیں‘ کشمیر کے حوالے سے‘ کشمیر کی خوبصورتی کے حوالے سے‘ کشمیر میں فلم انڈسٹری کو فروغ دینے کے حوالے سے‘ کشمیر کی کہانیاں دنیا کے سامنے لانے کے حوالے سے…… ہم ان سب باتوں سے خوش ہیں‘ اس لئے جناب، آپ کسی بھی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہمیں فلم فیسٹیول پر کوئی اعتراض تھا…… جناب، بالکل بھی کوئی اعتراض نہیں تھا…… اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی نہیں ہوگا…… گرچہ آنے والا کل کسی نے نہیں دیکھا ہے‘ بالکل بھی نہیں دیکھا ہے……لیکن صاحب، البتہ ہم نے یہ ضرور دیکھا کہ بہت سارے لوگ یہاں آئے…… فلم انڈسٹری سے جڑے لوگ…… یہاں آکر بڑی اچھی اچھی باتیں بھی کیں‘ سرکاری مہمان نوازی کا لطف بھی اٹھایا‘ سرکاری مراعات اور رعایات بھی حاصل کیں‘ شوٹنگ کرکے خوش و خرم ہو کر واپس بھی چلئے گئے اور…… اور جب ان کی تخلیقات پردۂ سیمیں پر جلوہ افروز ہوئیں تو…… تو کیا دیکھا؟ ہم اور آپ نے یہ دیکھا کہ کس طرح کشمیریوں کو‘ کشمیریوں کے سماج اور پورے معاشرے کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا……فلم فیسٹیول کے دوران بھی آپ کے اور ہمارے بارے میں اچھی باتیں کی جارہی ہیں…… تعریفوں کے پل باندھے جارہے ہیں…… ہم تو صاحب زیادہ کچھ نہیں کہیں گے‘ سوائے اس ایک بات کے کہ جناب، آپ یہاں آئے‘ سر آنکھوں پر…… آپ نے ہماری مہمان نوازی کا لطف اٹھایا‘ یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے…… آپ نے اچھی اچھی باتیں کیں‘ بڑے بڑے وعدے اور دعوے بھی کئے……ہم سے وعدوں اور دعوؤں کی ایک تاریخ ہے‘ جس کی اپنی ایک تاریخ ہے…… اس لئے اگر آپ بھی اپنے ان وعدوں اور دعوؤں پر پورا نہیں اترتے ہیں تو…… تو اللہ میاں کی قسم، کوئی غم نہیں‘ ہمیں اس کی عادت ہے……لیکن…… لیکن صاحب، بس ایک بات کا دھیان رکھ لیجئے کہ اگر آپ ہمارے لئے کچھ اچھا نہیں کرسکتے ہیں تو برا بھی نہ کیجئے، جیسا بالی ووڈ کے کچھ ایک فلم سازوں نے حالیہ برسوں میں کیا ہے۔ ہے نا؟



