سرکار……. لولی لنگڑی ہی سہی، ہے کس کی؟ جناب، این سی کی ہے اور کس کی؟ وزیر اعلیٰ کون؟ جناب، اپنا گورا گورا بانکا چھورا عمر عبداللہ ہی ہیں اور کون ہے؟ سرکار کا وزیر صحت کون؟ جناب، میڈم سکینہ ایتو صاحبہ ہیں اور کون ہے؟تو اب مجھے ایک بات بتائیں، اگر سرکار این سی کی ہے، این سی کے عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ ہیں اور این سی کی سکینہ ایتو وزیر صحت ہیں تو پھر ایم بی بی ایس انٹرنوں کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہوتا؟ کم از کم اس ایک معاملے کا تو ایل جی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ وہ اس میں ٹانگ اڑا رہے ہیں، تو پھر یہ مسئلہ حل کیوں نہیں ہورہا ہے؟خود وزیر اعلیٰ کہتے ہیں، اور ہم نے انہیں خود یہ کہتے ہوئے سنا اور دیکھا ہے کہ فیصلہ سکینہ صاحبہ کو لینا ہے۔ آج این سی کے تنویر صادق کہہ رہے ہیں کہ انٹرنوں کی مانگیں جائز ہیں، جنہیں حل کیا جانا چاہیے۔’’فیصلہ سکینہ ایتو کو لینا ہے‘‘……. ’’مسئلہ حل کیا جانا چاہیے‘‘۔۔۔ صاحب، یہ کون سی زبان ہے، یہ کیسا لہجہ ہے؟ لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ، سکینہ صاحبہ کے باس نہیں ہیں جو یہ جناب کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ سکینہ صاحبہ کو لینا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت این سی کی نہیں، کسی اور جماعت کی ہے، جو تنویر صادق کہتے ہیں کہ ’’مسئلہ حل ہونا چاہیے‘‘۔صاحب! حکومت آپ کی، وزیر اعلیٰ آپ کا، وزیر صحت آپ کی، کابینہ آپ کی، وزیر خزانہ آپ خود ہیں، تو پھر یہ کیسی زبان اور یہ کیا لہجہ اختیار کیا جارہا ہے؟سیدھا کہیے کہ یہ معاملہ ہمارے زیرِ غور ہے، اس پر بات چیت یا مشاورت جاری ہے اور جلد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن نہیں…….جو زبان اور لہجہ اختیار کیا جارہا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ اس میں اپنا پن بالکل بھی نہیں ہے، اس میں مسئلہ حل کرنے کی سنجیدگی کہیں سے بھی نظر نہیں آرہی ہے۔نظر آرہی ہوتی تو اللہ میاں کی قسم، ہم کہتے، لیکن صاحب، ایسا نہیں ہے اور……. اور بالکل بھی نہیں ہے۔یہ سکینہ صاحب کا مسئلہ نہیں ہے، یہ حکومتِ وقت کا مسئلہ ہے اور حکومتِ وقت کے وزیر اعلیٰ کا مسئلہ ہے۔ انہیں اس مسئلے کو ’own‘ کرنا چاہیے اور پھر حل بھی۔ممکن ہے کہ وزیر اعلیٰ کے لیے یہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو، یا وہ اسے اتنا چھوٹا سمجھتے ہوں اور شاید اسی لیے انہوں نے اس حوالے سے گیند سکینہ صاحبہ کے پالے میں ڈال دی ہے۔ لیکن صاحب، ان کے لیے تو یہ مسئلہ نہیں بلکہ بہت بڑا مسئلہ ہے جو اب کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے لیے یہ ضرور مسئلہ ہے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




