جموں؍۸ستمبر
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے حکام کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی معراج ملک کی سکیورٹی، بشمول ایسکارٹ گاڑی، بحال کرنے سے متعلق درخواست پر غور کرکے چھ ہفتوں کے اندر مناسب فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس سنجے دھر نے یہ ہدایت پیر کے روز معراج ملک کی جانب سے ایڈووکیٹ اپو سنگھ سلاتھیا کے ذریعے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے جاری کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ۲۷؍ اپریل کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت معراج ملک کی حراست منسوخ ہونے کے بعد جیل سے رہائی کے باوجود حکام نے ان کی سکیورٹی اور ایسکارٹ گاڑی بحال نہیں کی۔
اے اے پی کی جموں و کشمیر یونٹ کے صدر معراج ملک کو ستمبر۲۰۲۵میں ان کے آبائی حلقہ ڈوڈہ سے مبینہ طور پر امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں سخت گیر پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں انہیں کٹھوعہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
تاہم، بعد میں ہائی کورٹ نے ان کی حراست کو منسوخ کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ حراست کا حکم قانونی طور پر قابلِ برقرار نہیں اور ’’ذہن کا عدم اطلاق‘‘ پر مبنی تھا۔
اپنی درخواست میں مہراج ملک نے کہا تھا کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے انہیں سیاسی اور عوامی سرگرمیوں کے سلسلے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مختلف علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ۲۸؍ اپریل سے ان کی سکیورٹی مناسب غور و خوض کے بغیر کم کردی گئی اور ان کی ایسکارٹ گاڑی بھی واپس لے لی گئی۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ انہوں نے سکیورٹی کی بحالی کے لیے حکام کے سامنے متعدد بار درخواستیں پیش کیں، تاہم ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
شکایت کی نوعیت کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ معراج ملک کی جانب سے پہلے ہی دی گئی درخواستوں پر قانون کے مطابق غور کرکے فیصلہ کیا جائے۔
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ مہراج ملک کے معاملے کو سکیورٹی ریویو کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سامنے رکھا جائے تاکہ ان سے لاحق خطرے کا جائزہ لیا جاسکے اور اس کے بعد ان کے لیے مناسب درجے کی سکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ کارروائی کو تیزی سے مکمل کیا جائے اور درخواست پر فیصلہ حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو موصول ہونے کی تاریخ سے چھ ہفتوں کے اندر کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )








