سری نگر؍۸ ستمبر
اداکار پنکج ترپاٹھی اور دیویندو، جو مقبول ویب سیریز مرزا پور میں بالترتیب کالین بھیا اور منا ترپاٹھی کے کرداروں کے لیے معروف ہیں، نے منگل کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں علاقائی سنیما کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کہانیاں، نوجوان صلاحیتیں اور فروغ پاتا ڈیجیٹل نظام فلم سازوں کے لیے اہم مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں اینڈ کشمیر کے دوسرے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکاروں نے کہا کہ انہوں نے کشمیر میں اپنے قیام کے دوران یہاں کے کھانوں اور مقامی لوگوں سے میل جول سمیت ہر چیز سے لطف اٹھایا۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں یہاں بہت اچھا لگا۔ ہم نے کشمیری کھانا کھایا، یہاں کے لوگوں سے ملے اور اپنائیت کا احساس ہوا۔ یہ بہت شاندار تھا۔ ہم چاہیں گے کہ ہماری مزید فلمیں یہاں آئیں۔‘‘
خطے میں سنیما کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکاروں نے کہا کہ کشمیر میں کہانیاں بیان کرنے کی صلاحیت محض اس کی قدرتی خوبصورتی تک محدود نہیں ہے۔
ترپاٹھی نے کہا، ’’آگے بہت کچھ ہے۔ یہاں سنیما گھر ہوں گے، او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہوں گے اور بہت سے دوسرے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ امکانات بہت زیادہ ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں فروغ پاتے فلمی ماحولیاتی نظام سے یہاں کے نوجوان ہنرمندوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
فیسٹیول میں شریک طلبہ اور فلم سازی کے خواہشمند نوجوانوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اداکاروں نے کہا کہ فلم فیسٹیولز اور ماسٹر کلاسز تجربہ کار پیشہ ور افراد سے سیکھنے کے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ فلمیں کیسے بنتی ہیں۔ چار روزہ فیسٹیول میں اگر ماسٹر کلاسز ہوں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ سننے اور سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔‘‘
کشمیر میں فلم بنانے کے حوالے سے سوال پر اداکاروں نے کہا کہ یہ خطہ کہانی بیان کرنے کے لیے بے حد بھرپور مواد رکھتا ہے۔ انہوں نے اس کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ یہاں کی جڑوں سے جڑی مقامی کہانیوں کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا، ’’مجھے ڈل جھیل پسند ہے۔ کشمیر میں خوبصورت اور اپنی جڑوں سے جڑی ہوئی کہانیاں ہیں۔‘‘
ترہاٹھی نے مزید کہا کہ کشمیر فلم سازوں کو صرف اپنے قدرتی مناظر ہی نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں، کھانوں، ثقافت اور روزمرہ زندگی سمیت بہت سے دوسرے موضوعات بھی فراہم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’کشمیر ملک کے خوبصورت ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ اگر یہاں بنیادی ڈھانچے کو مزید ترقی دی جائے تو یہاں آکر کشمیر کے بارے میں کہانیاں بیان کرنا شاندار ہوگا۔‘‘
کشمیر کے فلمی صنعت کے ساتھ طویل تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے اداکاروں نے کہا کہ ماضی میں فلم ساز یہاں زیادہ تر گانوں کی عکس بندی اور شوٹنگ کے لیے آتے تھے، تاہم اب یہاں کے لوگوں اور ثقافت کے بارے میں گہری اور بامعنی کہانیاں بیان کرنے کا موقع موجود ہے۔انہوں نے کہا، ’’کشمیر کا سنیما کے ساتھ طویل عرصے سے تعلق رہا ہے۔ لوگ یہاں گانوں اور شوٹنگ کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن یہاں اور بھی بہت کچھ ہے، یہاں کے لوگ، کھانا اور ثقافت۔ ان کے بارے میں بات کیوں نہ کی جائے؟‘‘
اداکار ان دنوں سری نگر میں جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں اینڈ کشمیر میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جس نے ملک اور بیرونِ ملک سے فلم سازوں، اداکاروں، ٹیکنیشنز، طلبہ اور سنیما کے شائقین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔
اس سے پہلے معروف فلم ساز اور اسکرین رائٹر سری رام راگھون نے منگل کو کہا کہ بالی ووڈ کو جموں و کشمیر میں سنیما کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شوق اور اعتماد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے ساتھ اپنے دیرینہ سنیما تعلق کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہیے۔
’’ایک حسینہ تھی‘‘، ’’جانی غدّار‘‘، ’’ایجنٹ ونود‘‘ اور ’’بدلاپور‘‘ جیسی فلموں کے ہدایت کار سری رام راگھون نے سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں جاری جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) کے دوسرے روز شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر ہدایت کاری اور اسکرین پلے رائٹنگ کے موضوع پر ماسٹر کلاس بھی منعقد کی۔
جموں و کشمیر کے ساتھ بالی ووڈ کے تعلقات میں پائے جانے والے خلا، خصوصاً گزشتہ سال پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد، سے متعلق سوال پر راگھون نے کہا کہ ہندی فلم انڈسٹری کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں علاقائی سنیما بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے اور ہر ریاست کی اپنی فلمی ثقافت ہے۔ انہوں نے ملیالم سنیما کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اس وقت بہت اچھا کام ہورہا ہے اور اسی طرح جموں و کشمیر میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔
راگھون نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سنیما کے حوالے سے شوق اور اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یو ٹی حکومت کی جانب سے وضع کی گئی فلم پالیسی اس اعتماد کو مزید تقویت دے گی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اب یہ اعتماد حاصل ہورہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر آکر فلم بناسکتے ہیں اور انہیں غیر ضروری افسر شاہی یا دفتری رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں فلم سازی کے لیے محبت اور جوش موجود ہے، اس لیے انہیں یقین ہے کہ بالی ووڈ اور جموں و کشمیر کے درمیان موجود خلا پُر ہوجائے گا۔
فلم ساز نے کہا کہ فلم سازی کے شعبے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں اور فلم فیسٹیول اس شعبے کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فلم سازی کے لیے بڑی تعداد میں ماہر تکنیکی افراد اور دیگر پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیسٹیول کی وجہ سے ان لوگوں کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا جو پہلے ہی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اب انہیں یہ احساس ہوگا کہ وہ بھی فلم سازی کے میدان میں اپنی قسمت آزما سکتے ہیں۔
راگھون نے کہا کہ اس کے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آئیں گے، تاہم آئندہ دو تین برسوں میں اس کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گے۔
دریں اثنا، یادوں سے نقل مکانی، ثقافتی ورثے اور کشمیر کے بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے تک مختلف موضوعات پر مبنی جموں و کشمیر کے پانچ فلم سازوں کی فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر (آئی ایف ایف جے کے)کے مسابقتی زمرے ’’جے کے سلیکٹ‘‘ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
حکام نے منگل کو بتایا کہ فیسٹیول کے لیے قائم پری ویو کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے کے بعد ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی زمرے کے لیے موزونیت کی بنیاد پر ان فلموں کی سفارش کی۔
حکام کے مطابق منتخب فلمیں جموں و کشمیر کی ثقافتی میراث، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی متنوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں ’’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘‘، روہن رویندرن نائر کی ’’آرفہ‘‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’’بٹہ کوچہِ‘‘ (دی لاسٹ لین)‘‘، کپل مٹو کی ’’تصرف دار‘‘ (جنز آف کشمیر) اور بابا تصدق حسین کی ’’نقشِ دور‘‘ (دی اسٹوری آف غلام نبی دھر) شامل ہیں۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ فلمیں بچپن، خاندان اور یادوں سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ثقافتی ورثے، مزاحمت اور کشمیر کے بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے، جبکہ ’’آرفہ‘‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’’بٹہِ کوچہ‘‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے رہنے کے تصور کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ ’’تصرف دار‘‘ (جنز آف کشمیر) میں کشمیر کے ماضی کے زخموں کے ساتھ پراسراریت اور یادوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
’’نقشِ دور‘‘ (دی اسٹوری آف غلام نبی دھر) سری نگر کے ڈاؤن ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے پدم شری سے سرفراز لکڑی کے معروف کاریگر غلام نبی دھر کی زندگی اور ورثے کو پیش کرتی ہے اور کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور استقامت کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ پانچوں فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روشناس ہونے اور ان پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندائے مشرق رپورٹ









