کیا بیل آیا اور مار کے چلا بھی گیا؟ ہمیں تو صاحب ایسا ہی لگتا ہے کہ بیل مار کے چلا بھی گیا۔ اچھا تھا اور……. اور سو فیصد اچھا تھا کہ اگر بیل کو بند ہی کر دیا جاتا، لیکن اب ان کم عقلوں کو کون سمجھائے کہ انہوں نے بیل کو نہ صرف کھول دیا، اس کی تمام رسیاں کاٹ دیں بلکہ اسے مارنے پر اکسا بھی دیا اور……. اور اس نے مار بھی دیا۔ اب کسے مار دیا، اس کے لیے ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ کہنے کے لیے ہمیں کوئی انتظار نہیں کرنا پڑے گا کہ اگر آغا روح اللہ کو لگتا ہے کہ بیل اسے چھو بھی نہیں سکتا ہے تو جناب، جتنا ممکن ہو سکے، انہیں اس زعم سے باہر آنا چاہیے اور سو فیصد آنا چاہیے۔اور ہاں، اگر نیشنل کانفرنس سمجھ رہی ہے کہ بیل اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، وہ اس کی مزاحمت کرنے کی قوت رکھتی ہے تو جناب، کوئی این سی سے کہے کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائے اور……. اور اس لیے بیدار ہو جائے کہ یہ۲۰۲۴نہیں‘۲۰۲۶ہے، اور جب تک ہمارے روح اللہ صاحب نومبر میں لوک سبھا کی رکنیت سے استعفے کا اعلان کرتے ہیں، پھرچند ماہ میں ضمنی انتخابات ہوتے ہیں، تب۲۰۲۷آ بھی چکا ہوگا اور نصف سے زیادہ جا بھی چکا ہوگا……. عوام این سی سے مزید بیزار ہوئی ہوگی۔خطرہ ہے، دونوں کو بیل سے مار کھانے کا شدید خطرہ ہے، این سی کو زیادہ اور روح اللہ کو کم۔ این سی کو زیادہ اس لیے ہے کہ صاحب، بندہ جب اقتدار میں ہوتا ہے……. یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں بد مست ہوتا ہے تو اسے کچھ یا بہت کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے……. اسے جو نظر نہیں آتا ہے، وہ اسے حقیقت نہ سمجھنے کی غلطی کرتا ہے اور مار کھاتا ہے……. ہمیں ڈر ہے کہ این سی کے ساتھ بھی معاملہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جائے۔ورنہ کہاں یہ اور کہاں روح اللہ، دونوں میں کوئی موازنہ، کوئی مقابلہ نہیں۔ یہ یکطرفہ مقابلہ ہوتا اگر این سی اپنے ہوش میں ہوتی، لیکن صاحب، ہم جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ این سی اپنے ہوش میں نہیں ہے……. یہ اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہے……. اور سو فیصد بیٹھی ہے۔روح جوش میں ہیں، اب بھی جوش میں ہیں، لیکن کہنے والے اکثر کہتے ہیں کہ انسان جوش میں ہی ہوش گنوا دیتا ہے اور……. اور شاید انہوں نے بھی ہوش گنوا دیے ہیں……. ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔





