لو جی، یہ شریف تو بڑے بدمعاش نکلے …….بدمعاش ہیں، یہ تو ہمیں معلوم تھا، لیکن اتنے یہ ہمیں خبر نہیں تھی، بالکل بھی نہیں تھی۔ پھر بھی ہمیں ان شریفوں کے اعلیٰ درجے کے بدمعاش ہونے پر اعتراض نہیں ہوتا، لیکن کم بخت یہ بدمعاش کے ساتھ ساتھ کم عقل بھی ہیں اور ہاں، احمق بھی۔سیاسی دنیا کا ایک اصول ہے، اللہ میاں کی قسم، یہ عالمگیر اصول ہے کہ سیاستدان جتنی دیر جیل میں رہتا ہے ……. جیل میں اس کا قیام جتنا طویل ہوتا ہے، اتنا ہی طویل اس کا قد بھی ہو جاتا ہے ……. سیاسی قد۔اور ہم یہ بات حلفاً بیان کرنے کو تیار ہیں کہ شریف برادران کی حکومت نے خان صاحب …….عمران خان صاحب کے ساتھ ہسپتال کی منتقلی اور علاج کے نام پر جو کیا، اس سے خان صاحب کے جسمانی مرض ٹھیک ہوں گے یا نہیں، لیکن ان کی سیاسی بیماریوں میں کافی افاقہ ہو جائے گا۔ اور اس لیے ہو جائے گا جو خان صاحب کا بدترین دشمن بھی ہو گا، اور یقین کیجئے، ان کے دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے، اسے بھی آج خان صاحب سے ہمدردی ہو گی ……. وہ اگر ان شریفوں کا کتنا بھی بڑا فین ہو گا، جسے شاہ خان کی زبان میں ’جبرا فین‘کہتے ہیں، تو بھی وہ انہیں سنا رہا ہو گا، اور خوب سنا رہا ہو گا۔چھوٹا شریف تو چھوٹا بدمعاش ہے، لیکن اُس بڑے بدمعاش ……. ہمارا مطلب بڑے شریف کی کیا متی ماری گئی تھی؟ کیا وہ یہ بھول گیا کہ بیماری کے نام پر اس نے اُس وقت کے حکمرانوں سے کتنی رعایتیں حاصل کیں اور لوگوں سے ہمدردیاں بھی ……. حتیٰ کہ یہ جناب تو جیل سے سیدھا لندن علاج کے لیے گئے اور پھر سالوں وہیں کے ہو گئے ……. اور ایک خان صاحب کو جیل سے بھی اُس ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا جس کا حکم دیا گیا تھا۔ہمیں تو شریفوں کے ملک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے ……. لیکن صاحب، ایک بات، جی ہاں، ایک بات ضرور کہنا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ……. کہ دونوں شریفوں نے اپنی سیاسی قبریں کھود دی ہیں، بس اب انہیں ان میں جانے کی دیر ہے ……. اس لیے نہیں کہ یہ دونوں اول درجے کے بدمعاش ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ اعلیٰ درجے کے کم عقل اور احمق بھی ہیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




