ایک زمانے میں ….اجی اُس زمانے میں جب کشمیر میں…. جموں کشمیر میں دفعہ ۳۷۰بقید حیات تھی…. اس بات پر یقین کرنے کو جی ہی نہیں کرتا تھا کہ…. کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس دفعہ کو کشمیر سے دفع کیا جائےگا…. ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کیا جائےگا ۔ لیکن آپ بھی گواہ ہیں اور ہم بھی کہ…. کہ دفعہ ۳۷۰دفع ہو گئی ہے اور…. اور اس دفعہ کو دفع ہو ئے زائد از سات سال ہو گئے ہیں…. اب آپ اس پر یقین کریں یا نہیں ‘ لیکن صاحب حقیقت تو یہی ہے کہ یہ دفعہ اب قصہ ٔ پارینہ ہے…. اور یہ ایک ایسی بات ‘ ایسی حقیقت ہے ‘ جس پر اب ہمیں اور آپ کو یقین کرنا ہو گا ‘ اور ان کو بھی جو اس دفعہ کے نام پر آج بھی سات سال بعد بھی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں۔ اب دفعہ۳۷۰ کے دفع ہو نے پر یقین ہے لیکن ہمیں اس بات پر اب بھی یقین نہیں ہے اور…. اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اپنے کشمیر میں بجلی۲۴x۷دستیاب رہے گی …. اس بات پر ہم یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں…. اس کے باوجو دبھی تیار نہیں ہیں کہ حکام کاکہنا ہے کہ آئندہ کچھ ایک برسوں میں کشمیر بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہی نہیں ہوگا بلکہ بجلی بر آمد بھی کرےگا…. وہ یہ بات بار بار کہہ رہے ہیں…. لیکن ان کے کہنے سے کیا ہو گا کہ …. کہ اگر اللہ میاں بھی ہمیں یہ کہیں گے تو بھی ہم نہیں مانیں گے اور…. اور بالکل بھی نہیں مانیں گے…. اورامسال ہمارا یہ یقین مزید پختہ ہو گیا ہے اور…. اوراس لئے ہو گیا ہے کہ…. کہ جو حال بے حال گرما اور اب خزاں میں بجلی کا ہے…. وہ پہلے کبھی نہیں تھا…. بالکل بھی نہیں ہے…. اور ایسا س لئے ہے کیونکہ اصل میں تاریکیوں میں رہنا کشمیریوں کا مقدر بن گیا ہے…. اگر ایسا نہیں ہو تا تو…. تو سرما تو سرما ‘گرما میں بھی بجلی کا جو حال رہا…. جس نے ہمیں بے حال کردیا …. پہلے کبھی نہیں تھا…. بالکل بھی نہیں تھا۔ اس لئے صاحب تیار رہئے …. سردی اور…. اور تاریکیوں کیلئے بھی ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔



