اتوار, اکتوبر 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-04
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                جموں و کشمیر میں صفائی، کچرے کے مناسب انتظام اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت ایسے مسائل ہیں جنہیں الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے سے جوڑ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف شہروں اور قصبوں میں بڑھتا ہوا کچرا، خصوصاً نامیاتی فضلہ، ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، تو دوسری طرف توانائی کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی 2026 ایک ایسا راستہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے کچرے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے وسائل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

                سری نگر کا اچن ڈمپنگ سائٹ برسوں سے اس مسئلے کی ایک نمایاں مثال بنا ہوا ہے۔ شہر کا کچرا ایک مخصوص مقام پر جمع ہوتا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اردگرد رہنے والی آبادی کو بدبو، آلودگی اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں اسمبلی میں اس مسئلے پر ارکان کی جانب سے تشویش کا اظہار اور حکومت کی طرف سے۱۸ ماہ میں منصوبے کو مکمل کرنے کی یقین دہانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کچرے کا مسئلہ اب محض صفائی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ شہری صحت، ماحول اور انتظامی کارکردگی سے بھی جڑ چکا ہے۔

                اسی تناظر میں کمپریسڈ بایو گیس پالیسی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پالیسی کا بنیادی تصور سادہ مگر دور رس ہے: جس نامیاتی کچرے کو ہم عام طور پر پھینک دیتے ہیں، اسے ایک مفید توانائی کے وسیلے میں تبدیل کیا جائے۔ مویشیوں کا گوبر، سیب کی باقیات، فصلوں کا فضلہ، چیڑ کے درختوں کی سوئیاں اور میونسپل نامیاتی کچرا اگر مناسب طریقے سے جمع اور پراسیس کیا جائے تو یہی مواد کمپریسڈ بایو گیس اور نامیاتی کھاد کی تیاری میں استعمال ہوسکتا ہے۔

متعلقہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

                یہ تبدیلی صرف کچرے کے ڈھیر کم کرنے تک محدود نہیں ہوگی۔ اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں ایک مکمل حیاتیاتی معیشت کو فروغ دینے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔ آج جس فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے زمین، مشینری، ٹرانسپورٹ اور مسلسل اخراجات درکار ہوتے ہیں، کل وہی فضلہ آمدنی پیدا کرنے والا خام مال بن سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی بھی جدید کچرا انتظامی نظام کو محض صفائی کی مہم سے ایک معاشی سرگرمی میں تبدیل کرتی ہے۔

                سیب کی صنعت اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کشمیر میں ہر سال بڑی مقدار میں سیب اور اس سے متعلقہ پیداوار تیار ہوتی ہے، جس کے ساتھ بڑی مقدار میں سیب کی باقیات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ان باقیات کو سائنسی طریقے سے جمع کرکے بایو گیس کی تیاری میں استعمال کیا جائے تو ایک طرف باغات اور منڈیوں کے اطراف فضلے کا مسئلہ کم ہوگا اور دوسری طرف کسانوں اور مقامی کاروباری افراد کے لیے ایک نئی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔ اسی طرح فصلوں کی باقیات اور مویشیوں کا گوبر بھی دیہی علاقوں میں توانائی اور آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

                پالیسی کا ایک اہم پہلو روزگار ہے۔ حکومت نے 2030 تک تقریباً دو ہزار براہ راست دیہی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ تاہم اس شعبے کی اصل روزگار کی صلاحیت صرف ان براہ راست ملازمتوں تک محدود نہیں ہوگی۔ بایو گیس پلانٹ کے لیے کچے مال کی جمع آوری، نقل و حمل، چھانٹی، ذخیرہ، پلانٹ کی دیکھ بھال، تکنیکی خدمات، تیار شدہ گیس کی ترسیل اور نامیاتی کھاد کی مارکیٹنگ سمیت پوری ایک زنجیر وجود میں آسکتی ہے۔ اس سے نوجوانوں، کسانوں، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

                اس پالیسی کا ایک اور اہم فائدہ صاف توانائی کی پیداوار ہے۔ کمپریسڈ بایو گیس کو گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نامیاتی کھاد زراعت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر یہ منصوبے بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتے ہیں تو روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس سے توانائی کے شعبے میں تنوع آئے گا اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی توانائی کے استعمال کے امکانات بڑھیں گے۔

                لیکن کسی بھی پالیسی کی کامیابی صرف مراعات کا اعلان کرنے سے یقینی نہیں ہوتی۔ حکومت نے فی ٹن یومیہ پیداواری صلاحیت کے حساب سے سرمایہ جاتی معاونت، سرکاری زمین معمولی لیز پر فراہم کرنے، محصولاتی مراعات، قرضوں پر سود میں رعایت اور دیگر سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات سرمایہ کاروں کے لیے ماحول سازگار بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر اصل امتحان ان منصوبوں کے عملی نفاذ کا ہوگا۔

                یہ بھی ضروری ہے کہ اچن جیسے بڑے شہری کچرا مراکز کے مسئلے کو اس پالیسی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ اگر شہر کا نامیاتی کچرا پہلے ہی مرحلے میں الگ کیا جائے اور اسے بایو گیس پلانٹس تک پہنچایا جائے تو ڈمپنگ سائٹس پر جانے والے کچرے کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے گھر گھر کچرے کی علیحدگی، مناسب نقل و حمل، شہری اداروں کی استعداد اور مسلسل نگرانی ضروری ہوگی۔ صرف پلانٹ لگا دینا کافی نہیں؛ خام مال کی مستقل فراہمی اور اس کے معیار کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

                جموں و کشمیر کے لیے یہ پالیسی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں نامیاتی فضلے کے ذرائع متنوع ہیں۔ زرعی باقیات، باغبانی کا فضلہ، مویشیوں کا گوبر، جنگلاتی علاقوں سے حاصل ہونے والا بایوماس اور شہری نامیاتی کچرا ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، مگر مناسب ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں توانائی کے وسائل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح صفائی، توانائی، زراعت اور روزگار کے چار الگ الگ مسائل ایک مربوط معاشی ماڈل کا حصہ بن سکتے ہیں۔

                ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس پالیسی کو صرف سرمایہ کاری کی پالیسی نہ رہنے دے بلکہ اسے جموں و کشمیر کے جامع صفائی منصوبے سے منسلک کرے۔ بلدیاتی اداروں، پنچایتوں، کسانوں، باغبانوں، نجی سرمایہ کاروں اور مقامی نوجوانوں کو اس نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اگر کچرے کی علیحدگی سے لے کر بایو گیس کی پیداوار اور نامیاتی کھاد کی فروخت تک ایک مکمل زنجیر قائم ہوجاتی ہے تو اس کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔

                اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب شہری اور دیہی علاقوں میں لوگ کچرے کو محض پھینکے جانے والی چیز نہیں بلکہ قابلِ استعمال وسیلہ سمجھنے لگیں۔ کچرے سے توانائی، توانائی سے روزگار اور روزگار سے ایک مضبوط مقامی معیشت—یہ وہ سلسلہ ہے جو جموں و کشمیر کو زیادہ صاف، زیادہ خود کفیل اور زیادہ پائیدار مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’گاندھی کے نظریات آج کے دور میں بھی اہم‘

Next Post

اگر اللہ میاں بھی….

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

2026-10-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

2026-10-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

الطاف بخاری کے الزامات

2026-09-29
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کینسر: اعداد سے آگے کا چیلنج             

2026-09-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

2026-09-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

2026-09-24
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

2026-09-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ: بچوں کو آرام بھی چاہیے، مگر حساب بھی ضروری ہے         

2026-09-22
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

اگر اللہ میاں بھی....

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.