جموں و کشمیر میں مجموعی شرحِ پیدائش یعنی ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ کا۲ء۱ کی متبادل سطح سے گر کر۱ء۵ تک پہنچ جانا بظاہر ایک ایسا اشاریہ ہے جسے صحت عامہ، خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کی بہتر صحت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، اور یقیناً اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں۔ خواتین میں تعلیم کا فروغ، زچگی کے دوران بہتر طبی سہولتیں، خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی، بچوں کی صحت کے حوالے سے شعور اور چھوٹے خاندان کی خواہش کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی علامت سمجھے جا سکتے ہیں۔ لیکن کشمیر میں پیدائش کی شرح میں تیزی سے آنے والی کمی کو محض طبی کامیابی قرار دے کر مطمئن ہو جانا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ اس گرتی ہوئی شرح کے پیچھے کچھ طبی وجوہات ضرور ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم وہ سماجی تبدیلیاں ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے، شادی کے تصور اور خاندان کی ترجیحات کو اندر سے تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ماہرین نے کم ہوتی زرخیزی کے کئی طبی اسباب کی نشاندہی کی ہے۔ دیر سے شادی، ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش خوراک، سگریٹ نوشی، جسمانی سرگرمی میں کمی اور بعض ہارمونی مسائل تولیدی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے مردوں میں اسپرم کاؤنٹ میں کمی کا ذکر بھی کیا ہے۔ کشمیر کے مخصوص موسمی حالات، کانگڑی کے زیادہ استعمال، مسلسل ذہنی دباؤ اور کئی دہائیوں سے جاری بے یقینی کے نفسیاتی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
خواتین کے حوالے سے طبی ماہرین یہ بھی بتا رہے ہیں کہ شادی میں تاخیر کے باعث بہت سی خواتین اس عمر میں داخل ہو جاتی ہیں جب حمل کے امکانات بتدریج کم ہونے لگتے ہیں اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ سب عوامل اپنی جگہ حقیقت رکھتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ شادی میں اتنی تاخیر ہو کیوں رہی ہے؟یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
کشمیر کا معاشرہ، جو کبھی شادی کو خاندان بسانے کی ایک فطری اور نسبتاً سادہ ضرورت سمجھتا تھا، اب اسے سماجی حیثیت، مالی استحکام، ملازمت، آمدنی، نمود و نمائش اور مستقبل کی ضمانت سے جوڑنے لگا ہے۔ آج بہت سے لڑکے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی تعلیم یافتہ ہو، خوبصورت ہو، بااخلاق ہو، اور ساتھ ہی کماؤ بھی ہو۔ یہاں تک کہ صرف ملازمت کافی نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ سرکاری ملازمہ ہو۔ کسی نجی ادارے میں اچھی ملازمت کرنے والی لڑکی بھی کئی مرتبہ سرکاری ملازمت کرنے والی لڑکی کے مقابلے میں کم پسند کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ایسے رشتے کی تلاش شروع ہو جاتی ہے جس میں تقریباً ہر خوبی ایک ہی لڑکی میں موجود ہو، اور اسی تلاش میں مہینے نہیں، برس گزر جاتے ہیں۔
یہاں کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا یا ملازمت کرنا مسئلہ ہے۔ ہرگز نہیں۔ تعلیم اور معاشی خودمختاری خواتین کا حق بھی ہے اور معاشرے کی ضرورت بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے شادی کے لیے توقعات اس قدر بڑھا دی ہیں کہ ایک مناسب اور معقول رشتہ بھی ناکافی دکھائی دینے لگا ہے۔ ایک طرف ہم اپنی بیٹیوں کے لیے اچھی تعلیم اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں، دوسری طرف رشتے کے مرحلے پر ان سے ایسی شرائط وابستہ کر دیتے ہیں جو ہر خاندان پوری نہیں کر سکتا۔ کہیں لڑکی کی عمر کم ہونی چاہیے، کہیں وہ لازماً ملازمت پیشہ ہو، کہیں سرکاری ملازمت ضروری ہے، کہیں خاندان کا معیار، کہیں آمدنی، اور کہیں سماجی حیثیت۔ یوں شادی ایک انسانی رشتے کے بجائے مطلوبہ خصوصیات کے کسی طویل انتخابی عمل میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔
اس کا ایک افسوس ناک نتیجہ یہ ہے کہ وہی لڑکی جس کے لیے کم عمری میں اچھے رشتے دستیاب ہو سکتے تھے، اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور پھر ’’مناسب‘‘ رشتہ کی تلاش کے دوران اس عمر تک پہنچ جاتی ہے جہاں شادی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں اور اولاد کے امکانات بھی۔ مسئلہ صرف لڑکیوں کا نہیں؛ لڑکے بھی سرکاری ملازمت، مستقل آمدنی اور مضبوط مالی بنیاد کے انتظار میں شادی مؤخر کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں چونکہ خواتین کے لیے حیاتیاتی طور پر تولیدی عمر کا دائرہ نسبتاً محدود ہے، اس لیے تاخیر کا اثر ان پر زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ شادی اور اولاد سے متعلق ہماری موجودہ ترجیحات کہاں سے آئی ہیں۔ ہم نے ایک طرف مہنگی شادیوں کو معیار بنایا، دوسری طرف جہیز، رسومات، ہال، ملبوسات اور تقریبات کو اتنا بڑھا دیا کہ متوسط طبقے کے لیے شادی ایک بھاری مالی منصوبہ بن گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ والدین بھی تاخیر کرتے ہیں اور نوجوان بھی۔ بہت سے خاندان پہلے بیٹی کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کرتے ہیں، پھر ملازمت کا، پھر مستقل آمدنی کا، پھر مناسب رشتے کا اور پھر شادی کے لیے مالی انتظام کا۔ اس سارے عمل میں زندگی کا ایک اہم مرحلہ خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
یہ صورت حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ اگر شرحِ پیدائش ایک طویل مدت تک متبادل سطح سے نیچے رہتی ہے تو مستقبل میں آبادی کے عمرانی ڈھانچے پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ نوجوانوں کا تناسب کم ہوگا، بزرگوں کی تعداد بڑھے گی، افرادی قوت سکڑ سکتی ہے اور معیشت پر انحصار کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ آج جو چیز ہمیں چھوٹے خاندان اور محدود بچوں کی صورت میں سہل معلوم ہو رہی ہے، کل وہ معاشی اور سماجی چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس لیے کشمیر میں کم ہوتی شرحِ پیدائش پر صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور خاندانی منصوبہ بندی کے زاویے سے بحث کافی نہیں۔ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اگر لڑکے والوں کی اولین ترجیح یہ ہوگی کہ لڑکی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ لازماً کماؤ اور بالخصوص سرکاری ملازمہ بھی ہو، تو رشتوں کا دائرہ محدود ہوگا اور شادی میں تاخیر بڑھے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اچھی بیوی، اچھی ماں اور اچھی انسان بننے کے لیے سرکاری ملازمت لازمی شرط نہیں۔ اسی طرح لڑکی کی تعلیم یا ملازمت کو شادی کی رکاوٹ بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، مذہبی و سماجی رہنما، تعلیمی ادارے اور حکومت سب مل کر شادی کے بارے میں ایک متوازن سماجی شعور پیدا کریں۔ سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی ہو، غیر ضروری رسوم اور مالی بوجھ کم کیا جائے، نوجوانوں کو بروقت شادی کے مواقع دیے جائیں، تولیدی صحت کے بارے میں درست طبی آگاہی عام کی جائے اور خواتین و مردوں دونوں کے لیے صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی





