منگل, اکتوبر 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

حقوق کی بحالی کے لیے اتحاد ناگزیر ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-06
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                 پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کو لداخ سے سبق سیکھنے اور اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مسائل کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ جموں و کشمیر کے موجودہ حالات میں شاید سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں کم از کم ان معاملات پر ایک مشترکہ موقف اختیار کریں جو پوری قوم کے مستقبل سے وابستہ ہیں۔

                ندائے مشرق بھی اپنے صفحات کے ذریعے بارہا یہ سوال اٹھاتا رہا ہے کہ اگر لداخ کے لوگ اپنے اختلافات، سیاسی وابستگیوں اور نظریاتی فرق سے اوپر اٹھ کر اپنے مطالبات کے لیے مشترکہ جدوجہد کرسکتے ہیں تو جموں و کشمیر میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ کیا یہاں کے سیاسی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ مشترکہ مفادات بھی ان کے سامنے بے معنی ہوجائیں؟ کیا ریاستی درجے کی بحالی، جمہوری حقوق، روزگار، معاشی مسائل، نوجوانوں کا مستقبل اور اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ جیسے معاملات کسی ایک جماعت کے مسائل ہیں؟ یقیناً نہیں۔ یہ پورے جموں و کشمیر کے مسائل ہیں اور ان کے لیے آواز بھی پوری قوت کے ساتھ اجتماعی طور پر ہی اٹھائی جاسکتی ہے۔

                محبوبہ مفتی نے جو کچھ آج کہا ہے، اس کے بنیادی نکتے سے اختلاف کی کوئی خاص گنجائش نہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے اور وہ یہ کہ اس اتحاد کی ابتدا کون کرے گا؟ اگر کسی سیاسی جماعت کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ اکیلے چل کر بڑے سیاسی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے تو اسے محض دوسروں کو اتحاد کا مشورہ دینے کے بجائے خود پہلا قدم اٹھانا چاہیے۔ خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے، اس لیے اگر محبوبہ مفتی واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اس اتحاد کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر سے، اپنی جماعت سے اور اپنی سیاست سے آغاز کرنا ہوگا۔

متعلقہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

                یہاں ماضی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاست میں ماضی کے فیصلے، اتحاد، اختلافات اور بیانات عوام کی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر آج اتحاد کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو اس کے لیے ماضی کے اختلافات کو ایک طرف رکھنے کی ضرورت بھی ہوگی۔ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن اگر ہر جماعت اپنے ماضی کو درست ثابت کرنے اور دوسرے کی غلطیاں گنوانے میں ہی مصروف رہے گی تو اتحاد کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ بڑی منزلوں کے لیے کبھی کبھی اپنی سیاسی انا سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

                جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے اس وقت سب سے اہم سوال ریاستی درجے کی بحالی کا ہے۔ ریاستی درجہ محض انتظامی بندوبست کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ سیاسی اختیار، عوامی نمائندگی اور اپنی حکومت کے تصور کا ایک گہرا تعلق ہے۔ اگر جموں و کشمیر کے سیاسی حلقے واقعی ریاستی درجے کی بحالی چاہتے ہیں تو انہیں اس مطالبے کو اپنی اپنی جماعتوں کے الگ الگ نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مشترکہ سیاسی مطالبے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ایک جماعت الگ آواز اٹھائے، دوسری الگ وفد بھیجے اور تیسری الگ بیان جاری کرے تو شاید سیاسی سرگرمی تو نظر آئے، لیکن اجتماعی دباؤ پیدا نہیں ہوگا۔

                یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ہر جماعت اگر یہ سمجھتی رہے کہ صرف اسی کی آواز اصل آواز ہے اور باقی سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں تو پھر اختلافات ہی سیاست کا مرکز بن جائیں گے۔ اس طرح نہ صرف سیاسی قوت تقسیم ہوگی بلکہ عوام میں بھی مایوسی بڑھے گی۔ عوام پہلے ہی طویل عرصے سے وعدے، یقین دہانیاں اور سیاسی بیانات سنتے آئے ہیں۔ اب انہیں الفاظ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔

                البتہ اتحاد کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی شناخت ختم کردیں یا اپنے نظریات سے دستبردار ہوجائیں۔ جمہوریت میں اختلاف ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے سے اختلاف بھی فطری ہے اور انتخابات میں مقابلہ بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ لیکن کیا انتخابات کے علاوہ بھی کوئی ایسا میدان نہیں ہوسکتا جہاں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں؟ کیا ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مشترکہ موقف اختیار نہیں کیا جاسکتا؟ کیا نوجوانوں کے روزگار اور مستقبل کے لیے ایک مشترکہ پالیسی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا؟ کیا جموں و کشمیر کی معیشت، صنعت، تجارت، سیاحت، زراعت اور باغبانی کے مسائل پر تمام جماعتیں ایک مشترکہ دستاویز تیار نہیں کرسکتیں؟ یقیناً کرسکتی ہیں، اگر ارادہ ہو۔

                یہاں نیشنل کانفرنس سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری یکساں ہے۔ اگر محبوبہ مفتی اتحاد کی بات کررہی ہیں تو انہیں سنجیدگی سے اس تجویز کو آگے بڑھانا چاہیے، لیکن دوسری جماعتوں کو بھی اس کا جواب سیاسی ضد یا جماعتی مفاد کے بجائے وسیع تر عوامی مفاد کے تناظر میں دینا چاہیے۔ اگر کسی جماعت کو موجودہ تجویز میں خامی نظر آتی ہے تو وہ اپنی تجویز سامنے لائے۔ اگر طریقۂ کار پر اختلاف ہے تو متبادل طریقۂ کار پیش کیا جائے۔ لیکن یہ طے ہونا چاہیے کہ اختلاف رائے کو مشترکہ جدوجہد کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

                محبوبہ مفتی نے لداخ کی مثال پیش کی ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے لداخ کی مثال کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مشترکہ مقصد کے لیے اختلافات کو وقتی طور پر پیچھے رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں سب ایک نظریے کے حامل ہیں یا تمام سیاسی اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے آتا ہے جسے لوگ اپنے اجتماعی مستقبل سے جوڑتے ہیں تو وہ کم از کم اس مسئلے پر ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

                جموں و کشمیر میں بھی یہی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی درجے کی بحالی اگر واقعی اجتماعی مطالبہ ہے تو اس کے لیے اجتماعی کوشش ہونی چاہیے۔ اس مطالبے کو کسی ایک جماعت کی سیاسی ملکیت نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح نوجوانوں کا مستقبل، اقتصادی بحالی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور زبان و ثقافت کا تحفظ بھی کسی ایک سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔

                منزل شاید آسان نہ ہو، راستہ بھی کٹھن ہوگا، اپنی انا اور سیاسی مصلحتوں کو قربان کرنا پڑے گا، لیکن اگر منزل بڑی ہو تو راستے کی مشکلات سے گھبرایا نہیں جاتا۔ جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو بھی صرف سیاسی بیانات اور وعدے دینا چاہتے ہیں یا واقعی ان کے مستقبل کے لیے کچھ عملی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر عملی کوشش مقصود ہے تو آغاز آج ہی ہونا چاہیے، کیونکہ بکھری ہوئی سیاست سے شاید جماعتیں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں، مگر مشترکہ حقوق کی بحالی کی جدوجہد کو وہ قوت نہیں مل سکتی جس کی اسے ضرورت ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

فضائیہ کے پاس لڑاکا طیاروں کی کمی، ہر سال 35 سے 40 طیارے ملیں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے: ایئر چیف مارشل

Next Post

یہ کیا بات ہوئی….؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

2026-10-04
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

2026-10-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تنخواہوں میں اضافہ اور جموں و کشمیر کی مالی حقیقت

2026-10-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

الطاف بخاری کے الزامات

2026-09-29
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کینسر: اعداد سے آگے کا چیلنج             

2026-09-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

2026-09-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

2026-09-24
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

2026-09-23
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

یہ کیا بات ہوئی....؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.