بہتر سڑکیں کشمیریوں کا ایک دیرینہ خواب رہی ہیں۔ وادی میں سڑکوں کی خستہ حالی کوئی نئی شکایت نہیں۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہروں تک، سڑکوں کی حالت نے عوام کو ہمیشہ پریشان کیا ہے۔ سرینگر جیسے اہم شہر میں بھی بہت سی سڑکیں ایسی ہیں جہاں سفر کرنا روزمرہ کی ایک مشکل بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی علاقے میں سڑک کی مرمت ہوتی ہے، اس پر نئی میکڈم بچھائی جاتی ہے یا اسے بہتر بنایا جاتا ہے تو لوگ اسے خوش آئند تبدیلی سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اب کم از کم کچھ عرصے تک انہیں بہتر آمدورفت کی سہولت حاصل رہے گی۔
لیکن یہ خوشی اکثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ سڑک کی تعمیر یا مرمت مکمل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد کوئی نہ کوئی محکمہ وہاں پہنچ جاتا ہے اور کھدائی شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی بجلی کی کیبل بچھانے کے لیے، کبھی پانی کی پائپ لائن ڈالنے کے لیے، کبھی ٹیلی مواصلات کی تاریں گزارنے کے لیے اور کبھی نکاسی آب یا کسی دوسرے منصوبے کے لیے سڑک دوبارہ کاٹ دی جاتی ہے۔ یوں عوام کے پیسے سے تعمیر ہونے والی سڑک ایک بار پھر خستہ حالی کا شکار ہوجاتی ہے۔
یہ مسئلہ محض عوامی پریشانی تک محدود نہیں۔ ایک ہی سڑک کی تعمیر، پھر کھدائی اور اس کے بعد دوبارہ مرمت پر سرکاری خزانے سے بار بار رقم خرچ ہوتی ہے۔ ٹریفک متاثر ہوتا ہے، کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور شہریوں کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ مختلف محکموں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ایک ادارہ سڑک بناتا ہے اور دوسرا بعد میں اسی سڑک کو اپنے منصوبے کے لیے کھود دیتا ہے۔
جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے منظور کی گئی مشترکہ ڈکٹ پالیسی۲۰۲۶ اسی مسئلے کو بنیادی سطح پر حل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس پالیسی کا مرکزی تصور یہ ہے کہ مختلف بنیادی خدمات کے لیے الگ الگ سڑکیں کھودنے کے بجائے ایک مشترکہ زیر زمین نظام قائم کیا جائے، جس میں بجلی، پانی، ٹیلی مواصلات، گیس، سیوریج اور ڈیجیٹل نیٹ ورک کی لائنیں ایک منظم ڈھانچے کے اندر رکھی جاسکیں۔
اس پالیسی کا سب سے اہم نکتہ نئی سڑکوں کی تعمیر کے مرحلے ہی میں مشترکہ ڈکٹ کو منصوبے کا حصہ بنانا ہے۔ یعنی سڑک پہلے بنائی جائے اور بعد میں مختلف محکمے اپنی ضرورت کے مطابق اسے کھودتے رہیں، اس کے بجائے سڑک کی منصوبہ بندی کے وقت ہی یہ طے کیا جائے کہ اس کے نیچے مختلف خدمات کے لیے مطلوبہ جگہ اور راستے موجود ہوں۔ اس طرح مستقبل میں کسی نئی کیبل یا پائپ لائن کے لیے سڑک دوبارہ کاٹنے کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔
پالیسی صرف نئی سڑکوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں موجودہ بنیادی ڈھانچے کو بھی مرحلہ وار مشترکہ ڈکٹ کے نظام سے جوڑنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سرینگر، جموں اور دیگر شہری علاقوں میں پہلے سے موجود سڑکوں کی بڑی تعداد کو نظر انداز کرکے اس پالیسی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ اگر پرانی سڑکوں پر بھی بتدریج ایسا نظام قائم کیا جائے تو آنے والے برسوں میں بار بار کی کھدائی میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
پالیسی کا ایک اور اہم پہلو راستہ اجازت ناموں کے لیے یکساں اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔ مختلف محکموں کو سڑک کھودنے کے لیے الگ الگ طریقوں سے اجازت لینے کے بجائے ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کسی ایک مقام پر مختلف اداروں کے منصوبوں کو پہلے ہی مربوط کیا جاسکے گا۔ اگر ایک سڑک پر پانی کی پائپ لائن اور بجلی کی کیبل دونوں بچھانی ہیں تو بہتر ہوگا کہ دونوں کام ایک ہی مرحلے میں مکمل کیے جائیں، نہ کہ سڑک کو پہلے ایک ادارہ کھودے اور کچھ عرصے بعد دوسرا ادارہ دوبارہ وہی کام کرے۔
مشترکہ ڈکٹ پالیسی میں اخراجات کی تقسیم کا تصور بھی شامل ہے۔ چونکہ مشترکہ زیر زمین ڈھانچے سے متعدد خدمات فراہم کرنے والے ادارے فائدہ اٹھائیں گے، اس لیے اس کے اخراجات بھی مناسب اصول کے تحت ان اداروں کے درمیان تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف سرکاری وسائل پر دباؤ کم کرسکتا ہے بلکہ مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کو بھی زیادہ منظم بنا سکتا ہے۔
پالیسی کا ایک جدید پہلو ڈیجیٹل نقشہ سازی ہے۔ زیر زمین بچھائی جانے والی کیبلوں، پائپ لائنوں اور دیگر تنصیبات کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے گا تاکہ کسی بھی مقام پر موجود بنیادی ڈھانچے کے بارے میں متعلقہ اداروں کو درست معلومات دستیاب ہوں۔ اس کے ساتھ جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے زیر زمین اثاثوں کا نقشہ بھی تیار کیا جاسکے گا۔ یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ اکثر سڑکوں کی کھدائی کے دوران کسی نامعلوم کیبل یا پائپ لائن کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور نتیجتاً بجلی، پانی یا مواصلاتی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔
اس کے ساتھ حقیقی وقت میں خرابی کی نشاندہی کے لیے جدید نگرانی کے نظام اور سینسرز کے استعمال کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اگر کسی زیر زمین لائن میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے کو اس کی نشاندہی نسبتاً جلد ہوسکتی ہے۔ اس سے خرابی تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر سڑک کھودنے کی ضرورت بھی کم ہوسکتی ہے اور مرمت کا عمل تیز کیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلے میں ’’کھدائی سے پہلے اطلاع‘‘ کے نظام کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مقام پر کھدائی شروع کرنے سے پہلے وہاں موجود زیر زمین تنصیبات کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔ اس سے کیبلوں اور پائپ لائنوں کو حادثاتی نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ خدمات میں غیر ضروری تعطل کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
مشترکہ ڈکٹ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ مختلف خدمات کے لیے معائنہ گاہیں بنائی جاسکیں گی۔ اس صورت میں خرابی کی صورت میں پوری سڑک کھودنے کے بجائے متعلقہ معائنہ گاہ سے زیر زمین نظام تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس پالیسی کو محض ایک انتظامی اصلاح کے بجائے شہری بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم تبدیلی بنا سکتا ہے۔
تاہم کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار اس کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ مشترکہ ڈکٹ پالیسی بھی اس وقت کامیاب ہوگی جب تمام متعلقہ محکمے اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر نافذ کریں۔ نئی سڑکوں کی تعمیر میں اس کی پابندی لازمی ہونی چاہیے اور موجودہ سڑکوں کے لیے واضح ترجیحات مقرر کی جانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کسی سڑک کی تعمیر یا مرمت کے بعد بلا ضرورت کھدائی کی اجازت دینے سے بھی گریز کرنا ہوگا۔
حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مشترکہ ڈکٹ کی تعمیر محض کاغذی کارروائی نہ بن کر رہ جائے۔ اس کے لیے باقاعدہ نگرانی، ذمہ داری کا تعین اور خلاف ورزی کی صورت میں جواب دہی ضروری ہے۔ مختلف محکموں کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر نظام بھی قائم کرنا ہوگا تاکہ شہری بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں۔
۔۔۔۔۔۔



