ایک بات کا جواب ہمیں آج تک نہیں مل پایا ہے…….اس ایک بات کا کہ……. کہنے اور کرنے میں فرق، اتنا بڑا فرق کیوں ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان کہتا کچھ اور ہے اور کرتا کچھ اور ہے۔ نہیں صاحب، ہم کوئی بھاشن نہیں دیں گے بلکہ براہِ راست مدعے پر آتے ہیں۔حالیہ اسمبلی الیکشن میں ایک صاحب کی باتیں سن کر ہمیں ان پر پیار آیا‘ ان کا ماتھا چومنے کو جی کرتا تھا۔ واللہ، کیا باتیں کرتے ہیں……. ان کی باتیں سن کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے، کہہ نہیں بلکہ حلفاً بیان کر سکتا ہے کہ ان جیسا کشمیر اور کشمیریوں کا کوئی غم خوار نہیں ہو سکتا، کوئی ہمدرد نہیں ہو سکتا……. یہ جناب ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، ایسے اعداد و شمار سامنے لاتے ہیں کہ سر چکرا جاتا ہے کہ کیا واقعی ہم……. ہم کشمیریوں کے ساتھ اتنی ناانصافیاں ہو رہی ہیں……. وہ بھی تب، جب کشمیریوں کی ’اپنی‘ جماعت مسندِ اقتدار پر ہے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا، بالکل بھی نہیں ہوا، بلکہ اس سے پہلے بھی ایک دو اسمبلی اجلاسوں میں ان صاحب نے ایسے ایشوز اٹھائے جن کا تعلق براہِ راست کشمیر اور کشمیریوں سے تھا۔ ایسے ایشوز جن پر ہماری روزمرہ زندگی میں کم ہی باتیں ہوتی ہیں یا سرے سے ہوتی ہی نہیں ہیں کہ……. کہ ہم جن ایشوز پر باتیں کرتے ہیں……. ہم انہیں ایشوز پر باتیں کرتے رہ گئے اور ایک دن جب ہمیں ان باتوں سے فرصت ملے گی، ٹائم ملے گا تو ہمیں احساس ہو جائے گا کہ ہمارے پاؤں تلے تو زمین تک کھسک گئی ہے……. اور یہ جناب ایسے ہی ایشوز کو اٹھاتے ہیں……. لیکن شومئی قسمت کہ یہ ایشوز، آپ کے اور ہمارےایشوز نہیں بن پا رہے ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس ختم ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ان ایشوز پر بات کرنا بھی ختم ہو جاتا ہے۔لیکن صاحب، اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ان صاحب سے ان ایشوز کو اٹھانے کا کریڈٹ چھین لیں۔ نہیں صاحب، یہ پاپ ہم سے نہیں ہوگا اور بالکل بھی نہیں ہوگا۔رہی بات اس ایک بات کی کہ کہنے اور کرنے میں فرق کیوں ہے تو صاحب، ہم ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں کہ جب یہ صاحب، کشمیریوں کے غم خوار اور ہمدرد، کسی زمانے میں وزیر تھے……. جموں و کشمیر کے وزیر تھے، تو کیا ان دنوں بھی انہیں کشمیریوں کا غم کھائے جا رہا تھا؟ کیا یہ ان دنوں بھی کشمیریوں کے غم خوار اور ہمدرد تھے؟جواب……. یہ صاحب اس بات کا جواب جانتے ہیں اور اس بات کا بھی کہ کیا کہنے اور کرنے میں فرق نہ ہونا واقعی میں مشکل ہے۔ ہے نا؟



