نہیں صاحب، ہم حلفاً بیان کرتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم سے کوئی دشمنی نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ لیکن وہ کیا کہتے ہیں نا کہ آپ دوست بدل سکتے ہیں، لیکن ہمسایہ نہیں؛ اس لیے چونکہ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے اس کی کرکٹ ٹیم کا حال بے حال دیکھ کر تھوڑا بہت افسوس تو ہوتا ہی ہے……. افسوس اس لیے بھی ہوتا ہے کہ یہ کیا تھی اور یہ کیا ہو گئی ہے۔ اس کا حال ایسا ہی ہو گیا ہے، جیسا اس ملک کا ہوا ہے…….ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم ٹھہرے ہمسایہ، اس کی کرکٹ ٹیم کا حال بے حال ہو کر ہمیں ’دکھ‘ ہوتا ہے، اندازہ لگائیے کہ اس ملک کے عوام کا کیا حال ہوتا ہوگا، جنہیں ہار کے بعد ہار کا صدمہ سہنا پڑتا ہے……. ہاں، ہم مانتے ہیں کہ کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہے، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمسایہ ملک کی کرکٹ ٹیم ہارتی نہیں ہے، وہ ہارتی بعد میں ہے، لیکن پہلے سرنڈر کرتی ہے، گھٹنے ٹیک دیتی ہے……. اور یہ بات اس ملک کے عوام کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے……. یہ صدمہ کہ ان کی ٹیم کو شکست نہیں ہوتی ہے، لیکن ذلت آمیز ہار ہوتی ہے۔چاہے وہ گھر میں کھیلے یا باہر، کسی چھوٹی موٹی ٹیم کے ساتھ کھیلے یا انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم سے نبردآزما ہو……. نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے، یا ایک جیسا ہی نکلتا ہے، اور وہ ہے ذلت آمیز شکست……. ایسی شکست جو اب اس ٹیم کا مقدر بن گئی ہے، اس کی تقدیر بن گئی ہے۔ہم تو زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے ہیں، اس لیے نہیں کہنا چاہتے کہ کیا معلوم ہمسایہ ملک کی وزارتِ خارجہ اسے بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دے……. اس لیے صاحب، ہم زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے، سوائے اس ایک بات کے کہ……. کہ ہمسایہ ملک کے لیے بہتر اور افضل یہی ہے کہ……. کہ اس کی ٹیم فی الحال کھیلنا بند کر دے……. کرکٹ سے توبہ کر لے، کان پکڑ لے کہ……. کہ وہ اس وقت تک بیٹ اور بال کو ہاتھ تک نہیں لگائے گی، جب تک وہ مقابلہ……. جی ہاں، صرف مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ جائے گی۔جس دن اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ مقابلہ کر سکتی ہے……. مقابلے کے لائق ہو گئی ہے، اس دن دوبارہ بیٹ اور بال کو ہاتھ لگائے۔ تب تک نہیں کہ خواہ مخواہ یہ ہمسایہ ملک کے عوام کی شرمندگی اور خجالت ہوتی ہے، اور سو فیصد ہوتی ہے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔



