بدھ, ستمبر 9, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-09
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                منبر و محراب کسی بھی مسلم معاشرے میں محض عبادت اور مذہبی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ اخلاقی رہنمائی، سماجی اصلاح اور اتحاد کے مراکز بھی سمجھے جاتے ہیں۔ خصوصاً کشمیر جیسے معاشرے میں، جہاں مذہب صدیوں سے اجتماعی زندگی کا اہم حوالہ رہا ہے، منبر و محراب کا بنیادی کردار لوگوں کو جوڑنا اور معاشرے کو اخلاقی سمت دکھانا رہا ہے۔ افسوس کہ آج یہی منبر و محراب بعض جگہ کشمیری سماج کو جوڑنے کے بجائے اس کی تقسیم کی ایک وجہ بنتے جارہے ہیں۔

                مذہبی اور مسلکی اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ مسلم دنیا میں فقہی اور فکری اختلافات صدیوں سے موجود رہے ہیں اور علمی اختلاف نے مسلم علمی روایت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن علمی اختلاف اور نفرت، تحقیر اور اشتعال پھیلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جب اختلاف دلیل اور تحقیق سے نکل کر الزام، طعن و تشنیع اور ایک دوسرے کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش بن جائے تو وہ علم نہیں رہتا بلکہ سماجی انتشار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

                کشمیر بھی مختلف مذہبی اور مسلکی روایات کا حامل رہا ہے، مگر یہاں باہمی برداشت اور سماجی ربط نے اختلافات کو بڑے پیمانے پر تصادم میں تبدیل ہونے سے روکے رکھا۔ یہی اس معاشرے کی ایک بڑی طاقت تھی۔ آج بعض مذہبی شخصیات کی گفتگو اور طرزِ عمل اس برداشت کو کمزور کررہا ہے۔

متعلقہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

                دیوبندی اور بریلوی روایات کے اختلافات ہوں یا حنفی اور سلفی تعبیرات کے درمیان فکری فاصلے، ان کا اپنا علمی اور تاریخی پس منظر ہے۔ اسی طرح شیعہ اور سنی اختلافات بھی مسلم تاریخ کا حساس باب ہیں۔ لیکن ان اختلافات کو علمی انداز میں سمجھنے کے بجائے اگر منبر سے اشتعال انگیز زبان استعمال کی جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ اختلاف کو نفرت اور مسلکی شناخت کو باہمی دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی مذہبی رہنما کے شایانِ شان نہیں ہوسکتا۔

                منبر کی زبان کا اثر عام گفتگو سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ایک عام شخص کی اشتعال انگیز بات چند افراد تک محدود رہ سکتی ہے، لیکن منبر سے کہی گئی بات سینکڑوں لوگوں تک پہنچتی ہے اور سوشل میڈیا اسے ہزاروں افراد تک پہنچا دیتا ہے۔ یوں ایک مقامی اختلاف بھی وسیع تر تنازع کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

                اس صورت حال کا سب سے افسوس ناک پہلو خود کشمیری سماج کی خاموشی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہورہا ہے، سن رہے ہیں کہ کیا کہا جارہا ہے اور یہ بھی محسوس کررہے ہیں کہ مذہبی اختلافات کس طرح سماجی فاصلے میں تبدیل ہورہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر معاشرے نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی وہ جرأت کم ہوتی جارہی ہے جو کسی زندہ اور باشعور معاشرے کی بنیادی علامت ہے۔

                یہ خاموشی خطرناک ہے، کیونکہ خاموشی کو اکثر تائید سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص منبر سے ایسی بات کہتا ہے جو نفرت پیدا کرتی ہے اور اہلِ علم، دانشور، سماجی شخصیات اور عام لوگ اس پر خاموش رہتے ہیں تو مقرر کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اس کی بات قبول کی جارہی ہے۔ پھر وہی رویہ مزید شدت اختیار کرتا ہے اور معاشرہ غیر محسوس طور پر ان باتوں کا عادی ہوجاتا ہے جنہیں ابتدا ہی میں مسترد کیا جانا چاہیے تھا۔

                مذہبی شخصیات کا احترام ضروری ہے، لیکن ان کی ہر بات کو بلا سوچے سمجھے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ مذہبی منصب کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہیں بناتا۔ جو شخص معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے، اس پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کے الفاظ میں احتیاط، رویے میں تحمل اور فیصلوں میں بصیرت ہو۔

                منبر کا اصل مقصد دلوں کو جوڑنا ہے، دلوں میں زہر بھرنا نہیں۔ مسجد انسان کو اللہ کے قریب لے جانے کی جگہ ہے، کسی دوسرے مسلمان سے دور کرنے کی نہیں۔ اگر کسی مذہبی خطاب کے بعد لوگ اپنے ہی محلے، دوست یا مسلمان بھائی کو شک اور نفرت کی نظر سے دیکھنے لگیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم مذہب کی روح سے دور تو نہیں ہورہے۔

                یہاں علما اور ائمہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اکثریت یقیناً اس ذمہ داری کو سمجھتی اور نبھاتی ہے، لیکن چند آوازوں کی شدت پورے مذہبی ماحول کو متاثر کرسکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اہلِ علم خود ایسے عناصر کے خلاف علمی اور اخلاقی آواز بلند کریں جو مذہب کے نام پر نفرت کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاموشی اس وقت غیر جانب داری نہیں رہتی جب اس کے نتیجے میں معاشرے کو نقصان پہنچ رہا ہو۔

                عام شہریوں اور دانشوروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر اختلاف کو جنگ اور ہر فکری فرق کو دشمنی بنانے سے انکار کرنا ہوگا۔ کسی مسلک یا مکتبِ فکر سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اختلاف کا مطلب تحقیر یا نفرت نہیں۔ ایک باشعور معاشرہ دلیل کا جواب دلیل سے دیتا ہے اور اشتعال کا جواب اشتعال سے نہیں دیتا۔

                کشمیر پہلے ہی طویل عرصے کے انتشار اور تقسیم کی قیمت ادا کرچکا ہے۔ اسے مزید مذہبی اور مسلکی تقسیم کے راستے پر لے جانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ منبر و محراب پر بیٹھنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کے سامنے صرف ایک مجمع نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے۔ ان کا ایک جملہ کسی دل کو سکون دے سکتا ہے اور ایک جملہ نفرت پیدا کرسکتا ہے۔ یہ اختیار ایک بڑی امانت ہے۔

                کشمیر کو ایسے منبر درکار ہیں جو دلوں کو جوڑیں، ایسے خطیب چاہییں جو زخموں پر مرہم رکھیں اور ایسا معاشرہ چاہیے جو ہر صحیح بات کی حمایت اور ہر غلط بات کی مخالفت کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ہمیں شخصیتوں کے بجائے اصولوں کا ساتھ دینا ہوگا اور مذہب کے نام پر کہی گئی ہر بات کو عقل، اخلاق اور اجتماعی مفاد کے پیمانے پر پرکھنا ہوگا۔

                اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی تو معاشرہ پہلے فکری اور پھر سماجی طور پر تقسیم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر کشمیری سماج غلط کو غلط کہنے کی روایت دوبارہ قائم کرلے تو نفرت کی یہ آگ پھیلنے سے پہلے ہی بجھائی جاسکتی ہے۔

                منبر کو زہر بانٹنے کی جگہ بننے سے روکنا صرف علما کی ذمہ داری نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ مذہبی آزادی، اختلافِ رائے اور مسلکی شناخت اپنی جگہ محترم ہیں، لیکن ان سب سے بالاتر ایک اجتماعی ذمہ داری ہے: سماج کو ٹوٹنے سے بچانا۔

                خاموشی ہمیشہ امن نہیں ہوتی؛ بعض اوقات خاموشی ہی انتشار کو طاقت دیتی ہے۔ اس لیے آج ضرورت ہے کہ کشمیری سماج اپنی خاموشی توڑے، غلط کو غلط کہنے کی جرأت پیدا کرے اور منبر و محراب کو دوبارہ اصلاح، اخلاق، برداشت اور اتحاد کا مرکز بنائے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مودی کل گجرات اور مہاراشٹر کادورہ کریں گے ، 35,000 کروڑ روپے کے متعدد منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے

Next Post

یہ کیسا لہجہ ہے ؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

  احتجاج اور جوابی احتجاج کے بیچ پستا عام آدمی    

2026-09-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

انٹرنز کا وظیفہ: جائز مطالبہ، مگر مریض اولین ترجیح

2026-09-02
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر کی ازسرنو ترتیب

2026-09-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ایک ہی دن کے دو اعلانات: لداخ کو۳۷۱، کشمیر کو۳۷۰ کی سیاست؟                

2026-08-30
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میںبی جے پی لیڈروں پر مقدمات                

2026-08-29
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

یہ کیسا لہجہ ہے ؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.