تو صاحب! ایک چھوٹا سا سوال ہے، اور سوال یہ ہے کہ حکومت کی مانگیں، اس کے مطالبات کون پورا کرے گا؟ کوئی تو ہونا چاہیے جو حکومت کے مطالبات بھی حل کرے، اس کے مسائل کو بھی ایڈریس کرے کہ حکومت کے خود کے مسائل بھی تو ہوتے ہیں۔وہ کیا ہے کہ اپنی پریس کالونی……. یہ دوسری بات ہے کہ اب اپنی پریس کالونی میں کچھ بھی اپنا محسوس نہیں ہوتا ہے، بالکل بھی نہیں ہوتا ہے……. خیر!تو ہم کہہ رہے تھے کہ اپنی پریس کالونی میں روز لوگ آتے ہیں، ہاتھوں میں پلے کارڈ لیے آتے ہیں اور حکومت کے سامنے مسائل اور مشکلات پیش کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے گی۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایم بی بی ایس انٹرنز نے وظیفے میں اضافے کے حق میں احتجاج کیا اور بالآخر حکومت نے ان کا مسئلہ حل کرنے کی حامی بھی دی……. صرف حامی بھر دی، ابھی مسئلہ حل نہیں کیا، جب کرے گی تب ہم بھی دیکھیں گے اور آپ بھی۔ابھی یہ احتجاج ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ این ایم ایچ والے خیمہ زن ہو گئے……. اپنے مسائل کے حل کے لیے خیمہ زن ہو گئے۔ حکومت ان کو بھی مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی دے رہی ہے…….ڈیلی ویجروں کا تو روز کا رونا ہوتا ہے اور……. اور حکومت ان کا بھی مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی دیتی ہے……. یہ کہہ کر کہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی، اس مسئلے پر بیٹھی، معاف کیجیے، کام کر رہی ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے موٹے مسائل کے لیے روز حکومت سے فریاد کی جاتی ہے……. اور اللہ میاں کی قسم! ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔لیکن اگر فکر ہے تو……. تو اس ایک بات کی ہے کہ حکومت کے مسئلے کون حل کرے گا، اس کے مطالبات کون حل کرے گا کہ……. کہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اپنے بھی مسئلے ہیں……. ڈھیر سارے مسئلے……. اتنے مسئلے کہ یہ اپنے ہی مسئلوں میں پھنس گئی ہے۔کچھ اس قدر پھنس گئی ہے کہ اس کا صبح و شام اور شام و صبح انہی مسائل کے حل کی تلاش میں ’ضائع‘ ہوتے ہیں اور……. اور ساتھ ہی وہ فریادیں اور مطالبات بھی ضائع ہوتے ہیں جو لوگ……. عام لوگ، آپ اور ہم حکومت سے کرتے ہیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔




