مانتے ہیں اور سو فیصد مانتے ہیں کہ آپ کی اتحادی، کانگریس پارٹی سے غلطی ہوئی، اس نے اپنے چھوٹے سے منہ سے زیادہ بڑی بات کی……. لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ اب آپ اس کی جان لیں گے۔ ایسا نہیں ہو تا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔وندے ماترم کے حوالے سے کانگریس جو کچھ بھی کہہ رہی ہے، وہ اس کا موقف ہے، اگر صدیوں نہیں تو دہائیوں پرانا موقف ہے……. اس لیے وزیراعلیٰ صاحب، آپ کو یہ بات سمجھنی چاہیے، لیکن……. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ بات کو سمجھنے کے بجائے جیل ویل کی باتیں کر رہے ہیں۔ جناب، کوئی جیل ویل نہیں جا رہا ہے، کسی کو جیل میں نہیں ڈالا جا رہا ہے، نہ کانگریسیوں کو اور نہ آپ نیشنلیوں کو۔کانگریس تو محض اپنے موقف کا اعادہ کر رہی تھی، بالکل ایسے ہی جیسے آپ نے بھی اپنی جماعت کا موقف بیان کیا……. وندے ماترم کے حوالے سے کیا۔ہاں، کانگریس ایک بات بھول گئی کہ آپ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ بھی ہیں، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ جب اور جہاں بھی قومی گانا بجایا جائے گا تو مکمل بجایا جائے گا اور اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو جائیں……. یہ ایک بات کانگریس بھول گئی۔لیکن……. لیکن وزیراعلیٰ صاحب، بھول تو آپ بھی رہے ہیں۔ یہ بھول رہے ہیں کہ اپنی بات کہنے کا ہر کسی کو حق ہے……. کانگریس کو بھی اور ہاں، آپ کو بھی۔اور اپنی بات کہنے سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ڈر کس بات کا ہے؟ اپنی بات تو تمل ناڈو والے بھی کہتے ہیں، قومی گانے اور قومی نغمے کے بارے میں کہتے ہیں……. اپنے تمل قومی گیت کے بارے میں بھی وہ بات کرتے ہیں، اس گیت کو قومی گیت اور قومی ترانے پر ترجیح دینے کی بھی بات کرتے ہیں……. لیکن وہاں تو کوئی جیل ویل کی بات نہیں کرتا ہے……. کوئی بھی نہیں۔اس لیے وزیراعلیٰ صاحب، آپ بھی نہ کیجیے اور……. اور اس لیے نہ کیجیے کہ آپ یہ بھول گئے ہیں کہ ہم ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری ملک بھارت کے باسی ہیں، جہاں کسی کو بھی اپنی بات پُرامن طور پر کہنے کا حق ہے اور سو فیصد ہے۔رہی بات قومی گانے، وندے ماترم کی، تو صاحب، کیجیے نا، اس کا احترام کیجیے۔ آپ کو کون روک رہا ہے؟ آپ کو کوئی روک سکتا ہے اور نہ ٹوک سکتا ہے۔ کانگریس بھی نہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




