جموں و کشمیر میں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا انعقاد محض ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسے امکانات کی دستک ہے جسے برسوں سے محسوس تو کیا جا رہا تھا مگر منظم انداز میں آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوشش کم ہی دکھائی دی۔ چار روزہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر(آئی ایف ایف جے کے)کے اختتام پر اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ کشمیر نے ایک مرتبہ پھر سنیما سے اپنا پرانا رشتہ زندہ کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ میلہ محض ایک کامیاب تقریب بن کر رہ جائے گا یا ایک مستقل فلمی ماحولیاتی نظام کی بنیاد رکھے گا؟ اصل امتحان یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
کشمیر کا سنیما سے تعلق نیا نہیں۔ ایک طویل عرصے تک وادی کے برف پوش پہاڑ، ڈل جھیل، سبز میدان، باغات اور لکڑی کے روایتی مکانات بھارتی فلمی کہانیوں کا لازمی پس منظر رہے۔لیکن ماضی کی اس خوبصورت یاد سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس نکتے پر زور دیا، وہ اس پورے فیسٹیول کی سب سے اہم معنوی جہت ہے کہ جموں و کشمیر کو صرف ایک خوبصورت فلم بندی کے مقام کے طور پر نہیں رہنا چاہیے۔ یہاں صرف دوسروں کی کہانیاں فلمائی نہ جائیں بلکہ یہاں سے اپنی کہانیاں بھی جنم لیں، مقامی صلاحیتیں دریافت ہوں اور فلمیں لکھی، بنائی اور دنیا تک پہنچائی جائیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو کشمیر کے فلمی مستقبل کو محض سیاحت کے اشتہار سے ایک تخلیقی صنعت میں بدل سکتی ہے۔
کشمیر کے پاس خوبصورت مناظر کی کوئی کمی نہیں، لیکن صرف خوبصورت مناظر کبھی بھی ایک مضبوط فلمی صنعت نہیں بناتے۔ فلمی صنعت لوگوں سے بنتی ہے، ہنر سے بنتی ہے، کہانی سے بنتی ہے، اداروں سے بنتی ہے اور مسلسل کام کے ماحول سے بنتی ہے۔ کشمیر کی اصل دولت اس کے پہاڑوں اور جھیلوں کے ساتھ ساتھ اس کے قصبوں، دیہات، زبانوں، لوک داستانوں، موسیقی، ادب، دستکاری، تاریخ اور روزمرہ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ کشمیری، ڈوگری اور پہاڑی ثقافتوں میں ایسی بے شمار کہانیاں موجود ہیں جو ابھی تک بڑے پردے یا عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک پوری قوت کے ساتھ نہیں پہنچ سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس فیسٹیول کی سب سے بڑی کامیابی محض۱۳۵ فلموں کی نمائش یا دنیا بھر سے آنے والے فلم سازوں کی موجودگی نہیں، بلکہ وہ انسانی اور تخلیقی روابط ہیں جو اس دوران قائم ہوئے۔ ایک نوجوان مصنف کی کسی ہدایت کار سے ملاقات، کسی نوآموز فلم ساز کا کسی تجربہ کار ماہر سے سیکھنا، یا دو ایسے لوگوں کا ایک ہی جگہ ملنا جو آنے والے برسوں میں مل کر کوئی فلم بنائیں، بظاہر چھوٹے واقعات ہیں لیکن بڑی صنعتیں انہی چھوٹی ملاقاتوں سے تشکیل پاتی ہیں۔
یہاں حکومت کے لیے بھی ایک واضح سبق موجود ہے۔ فلمی صنعت صرف ثقافت کا شعبہ نہیں، ایک سنجیدہ معاشی سرگرمی بھی ہے۔ ایک فلم کی تیاری سے مقامی ٹرانسپورٹ، رہائش، کیٹرنگ، دستکاری، ٹیکنیکل خدمات، روشنی، آواز، ایڈیٹنگ، میک اپ اور درجنوں دوسرے شعبوں میں روزگار پیدا ہوتا ہے۔ اگر فلمی سرگرمی مستقل بنیادوں پر بڑھے تو اس کے اثرات صرف فنکاروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقامی معیشت کے کئی حصوں کو فائدہ پہنچے گا۔
اسی لیے فلم فیسٹیول کو سال میں چار روزہ تقریب تک محدود رکھنا اس کے امکانات کو خود محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ اسے پورے سال جاری رہنے والے ایک پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہوگا‘جہاں اسکریننگ کے ساتھ تربیتی ورکشاپس، اسکرپٹ ڈویلپمنٹ، فلم پروڈکشن، ایڈیٹنگ، ساؤنڈ، اینیمیشن، اے آئی، دستاویزی فلم سازی اور دیگر جدید شعبوں میں باقاعدہ پروگرام منعقد ہوں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کو قومی سطح کے اداروں اور فلمی صنعت سے جوڑنا ہوگا تاکہ ان کے لیے راستہ صرف فیسٹیول کے دروازے تک نہ ہو بلکہ اس کے بعد بھی کھلا رہے۔
مرکزی وزیر مملکت ایل مرگن اور اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری چندر کمار کی گفتگو سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ جموں و کشمیر کے لیے قومی تخلیقی معیشت میں ایک وسیع کردار کا تصور موجود ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مقامی فلم سازی کو صرف مرکزی دھارے کی نقل نہیں بننا چاہیے۔ کشمیر اگر اپنی شناخت کے ساتھ سنیما میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو اسے اپنی آواز پر اعتماد کرنا ہوگا۔ مقامی زبان، مقامی کردار، مقامی مسائل اور مقامی تجربات سنیما کو منفرد بناتے ہیں۔ دنیا آج ایسے ہی مواد کی تلاش میں ہے جو مصنوعی طور پر عالمی بننے کی کوشش نہ کرے بلکہ اپنے مقامی تجربے میں سچا ہو۔ کشمیر کی اپنی کہانیاں، اگر مضبوط فنی زبان میں پیش کی جائیں، تو وہ نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کے ناظرین سے بھی مکالمہ کر سکتی ہیں۔
تاہم اس پورے عمل میں حقیقت پسندی ضروری ہے۔ محض فیسٹیول منعقد کرنے، مشہور فلمی شخصیات کو بلانے اور چند یادگار شامیں سجانے سے فلمی صنعت قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مستقل پالیسی، آسان اجازت نامے، شفاف فلم پالیسی، مناسب بنیادی ڈھانچہ، تربیت یافتہ افرادی قوت، پروڈکشن سہولیات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ مقامی فلم سازوں کے لیے فنڈنگ اور سرپرستی کے راستے بھی پیدا کرنے ہوں گے تاکہ پہلی فلم بنانے والا نوجوان صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنا خواب ترک نہ کرے۔
اسی طرح فلمی سرگرمیوں کے ساتھ کشمیر کے سماجی و ثقافتی تنوع کو بھی احترام کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ یہاں آنے والے فلم ساز کشمیر کو صرف ایک غیر معمولی خوبصورتی کی تصویر کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے ایک زندہ معاشرے کے طور پر سمجھیں۔ جو صنعت مقامی لوگوں کو صرف پس منظر میں کھڑا کرتی ہے، وہ دیرپا صنعت نہیں بنتی؛ جو صنعت مقامی لوگوں کو تخلیقی عمل میں شریک کرتی ہے، وہی جڑ پکڑتی ہے۔
پہلے فیسٹیول نے ایک دروازہ کھولا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دروازے کو بند نہ ہونے دیا جائے۔ آنے والے برسوں میں کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فیسٹیول میں کتنے ممالک شریک ہوئے یا کتنے سرخ قالین بچھائے گئے۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کتنے نوجوانوں نے اپنا کیریئر شروع کیا، کتنے مقامی لکھاریوں کو مواقع ملے، کتنی فلمیں کشمیر سے بن کر باہر گئیں، کتنے پروڈکشن یونٹس یہاں واپس آئے اور کتنی کہانیوں نے ملک اور دنیا کے ناظرین تک رسائی حاصل کی۔
کشمیر کبھی بھارتی سنیما کے پردے پر ایک خواب کی صورت دکھائی دیتا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر صرف دوسروں کے خوابوں کا منظر نہ رہے بلکہ اپنی کہانی خود لکھے، اپنی آواز میں بیان کرے اور دنیا کو اپنے زاویۂ نظر سے دکھائے۔ پہلے فلم فیسٹیول کے چار دن اگر اس سمت میں ایک مستقل سفر کا آغاز بن جائیں تو یہی اس تقریب کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ بھی بہت سی خوبصورت تقریبات کی طرح یادوں کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔
کشمیر کے لیے انتخاب صاف ہے: محض فلم بندی کا مقام بننا ہے یا فلمی کہانیوں کا مرکز؟ وقت جواب دینے کا نہیں، عملی طور پر ثابت کرنے کا ہے۔




