جموں/سری نگر؍۱۱ ستمبر
جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر یونیفائیڈ بلڈنگ بائی لاز‘۲۰۲۱ میں ترامیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں اور عام لوگوں سے اعتراضات، تجاویز اور آراء طلب کی ہیں۔
محکمہ مکانات و شہری ترقی نے۹ستمبر۲۰۲۶ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں جموں و کشمیر میونسپل کارپوریشن ایکٹ‘۲۰۰۰ کی دفعہ۳۹۷ کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جے اینڈ کے یونیفائیڈ بلڈنگ بائی لاز‘۲۰۲۱ میں مجوزہ ترامیم تمام متعلقہ افراد کی اطلاع کے لیے شائع کی گئی ہیں تاکہ ترامیم کو حتمی شکل دینے سے قبل متعلقہ فریقوں اور عام لوگوں کو اپنی آراء پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کوئی بھی اعتراض، تجویز یا تبصرہ پیش کرنے کا خواہش مند شخص اسے سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ سے۱۵ دن کے اندر محکمہ مکانات و شہری ترقی کو تحریری طور پر جمع کرا سکتا ہے۔
محکمے نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد موصول ہونے والے کسی بھی اعتراض، تجویز یا تبصرے کو نہ تو قبول کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر غور کیا جائے گا۔
مجوزہ ترامیم کو نوٹیفکیشن کے ساتھ ضمیمہ ’اے کے طور پر منسلک کیا گیا ہے۔ محکمہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں محکمہ مکانات و شہری ترقی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب کرائی جائیں گی تاکہ مقررہ مدت کے اندر تجاویز اور آراء حاصل کی جا سکیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر حکومت تعمیرات کی اجازت اور شہری ترقی سے متعلق اپنے ضابطہ جاتی نظام کو مسلسل اپ ڈیٹ اور منظم کر رہی ہے۔ یونیفائیڈ بلڈنگ بائی لاز‘۲۰۲۱پہلے ہی محکمہ کے تعمیراتی اجازت کے نظام کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعد ازاں کی جانے والی ترامیم کا مقصد ضابطہ جاتی کارروائی کو مزید بہتر بنانا اور آن لائن طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔
یہ نوٹیفکیشن کمشنر/سیکریٹری، حکومت، محکمہ مکانات و شہری ترقی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کی نقول سینئر حکومتی اور انتظامی حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جن میں تمام فنانشل کمشنرز (ایڈیشنل چیف سیکریٹریز)، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، پرنسپل سیکریٹریز، حکومت کے کمشنرز/سیکریٹریز، ایڈیشنل سیکریٹری (جموں و کشمیر و لداخ)، وزارت داخلہ، حکومت ہند، ڈویژنل کمشنرز جموں و کشمیر اور دیگر متعلقہ محکمے و حکام شامل ہیں۔
محکمہ مکانات و شہری ترقی نے تمام متعلقہ شہریوں، پیشہ ور افراد، متعلقہ فریقوں اور دیگر دلچسپی رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیں اور مقررہ۱۵روزہ مدت کے اندر اپنی تجاویز، اعتراضات اور آراء محکمہ کو ارسال کریں۔
۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ڈیسک )










