سری نگر؍۱۱ ستمبر
جموں و کشمیر حکومت مختلف محکموں میں کام کرنے والے یومیہ اجرت ملازمین اور دیگر کارکنوں کو مرحلہ وار مستقل کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔ ڈپٹی وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے جمعہ کو یہ بات کہی۔
کشمیر ایکسپو۲۰۲۶ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومیہ اجرت ملازمین کے مطالبات جائز اور حق پر مبنی ہیں، تاہم انہوں نے ان سے صبر کا مظاہرہ کرنے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے کی اپیل کی۔
چودھری نے کہا کہ یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور میں کیا گیا وعدہ ہے، جبکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی قانون ساز اسمبلی میں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کو حل کیا جائے گا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یومیہ اجرت ملازمین مختلف محکموں میں کام کر رہے ہیں۔ انہیں مستقل ہونے کا حق ہے اور وہ مساوی حقوق کے مستحق ہیں۔‘‘
ڈپٹی وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور حکومت یومیہ اجرت ملازمین کو مرحلہ وار مستقل کرنے کے لیے حل تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے ملازمین سے ہڑتال پر نہ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارکن حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہیں اور حکومت ان کے حقیقی مطالبات کو حل کرے گی۔
کشمیر ایکسپو۲۰۲۶ کے حوالے سے ڈپٹی وزیراعلیٰ نے دستکاروں، افسران اور مختلف محکموں کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے جموں و کشمیر کے روایتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور دست ساز مصنوعات کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چودھری نے عوام پر زور دیا کہ وہ روایتی مصنوعات، خصوصاً کشمیری شالیں خریدیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مصنوعات کسی بھی معروف برانڈ کی اشیا سے کم قیمتی نہیں اور مقامی دستکاروں کی معاونت سے انہیں خطے کے صدیوں پرانے ورثے کو محفوظ رکھنے کی ترغیب ملے گی۔
وندے ماترم سے متعلق سوال پر سریندر چودھری نے کہا کہ اس گیت کا بھارت کی جدوجہد آزادی کے ساتھ تاریخی تعلق ہے اور اسے شہیدوں اور آزادی کے متوالوں کا گیت قرار دیا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کو اپنے جائز مطالبات اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے لداخ میں اٹھائے جانے والے مطالبات کا حوالہ دیا۔
ڈپٹی وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
نیشنل کانفرنس میں۲۰۲۳میں بی جے پی چھوڑ کر شمولیت اختیار کرنے والے چودھری نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ بی جے پی کے رکن اسمبلی اور قائد حزب اختلاف سنیل شرما سے یہ سوال کریں کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کتنے آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو خطے سے باہر تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا’’کیا کشمیر یا جموں سے تعلق رکھنے والے ایسے مقامی آئی پی ایس افسران نہیں ہیں جو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے سکیں؟ انہیں باہر بھیج دیا گیا ہے۔ سنیل شرما اس پر خاموش کیوں ہیں؟ گزشتہ برسوں کے دوران کتنے آئی اے ایس افسران کو یہاں سے باہر منتقل کیا گیا؟ حال ہی میں بھی کئی آئی اے ایس افسران کو دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔ یہ سب اسی مٹی کے بیٹے ہیں، کیا انہیں جموں و کشمیر میں ہی تعینات نہیں کیا جاسکتا؟ سنیل شرما اس معاملے پر بات کیوں نہیں کرتے‘‘؟
جموں یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے چودھری نے کہا کہ ایک وقت تھا جب امیتابھ مٹو، جو کشمیری پنڈت ہیں، یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، لیکن اب یونیورسٹی کی درجہ بندی نجی جامعات سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ موجودہ وائس چانسلر اہل نہیں ہیں، لیکن کیا ہمارے مقامی پروفیسر وائس چانسلر بننے کی خواہش نہیں رکھتے؟ بہت سی یونیورسٹیوں میں مقامی ماہرین تعلیم وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں، لیکن انہیں مقرر نہیں کیا گیا۔ سنیل شرما اس معاملے پر بات نہیں کریں گے‘‘۔
چودھری نے کہا کہ وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے کیونکہ اس سے معاملے کو سیاسی رنگ دیا جاسکتا ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کشمیر اور جموں سے تعلق رکھنے والے کتنے سینئر افسران ڈی جی یا آئی پی ایس رینک پر ہیں اور انہیں یہاں تعینات کیوں نہیں کیا جاتا؟
خطے میں ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عوام خود ترقیاتی صورتحال سے واقف ہیں اور سنیل شرما کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ براہِ راست اس موضوع پر بحث کریں۔
چودھری نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’ان کی حکمت عملی صرف ہٹ اینڈ رن ہے۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی مکمل طور پر ناکام اور فلاپ شو ہے، بالکل جسپال بھٹی کے ’فلاپ شو‘ کی طرح؛ ان کے پاس صرف باتیں ہیں
(ویب ڈیسک)
،










