جموں؍۱۱ ستمبر
طویل عرصے سے تعطل کا شکار سنگ پورہ وائیلو جڑواں ٹیوب سرنگ منصوبہ اب آگے بڑھنے کے مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ(این ایچ آئی ڈی سی ایل)نے سنتھن پاس کے تحت کشتواڑ،وائیلو کھنہ بل قومی شاہراہ۲۴۴ کے حصے پر سرنگ کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں۔
تقریباً۳۵۶۷ء۵۱کروڑ روپے لاگت کے اس منصوبے کا مقصد چناب وادی کے کشتواڑ اور جنوبی کشمیر کے اننت ناگ کے درمیان ہر موسم میں قابلِ اعتماد رابطہ قائم کرنا ہے۔ یہ راستہ دشوار گزار سنتھن ٹاپ کے متبادل کے طور پر تیار کیا جائے گا، جو شدید برف باری کے باعث اکثر سردیوں میں بند ہو جاتا ہے۔
این ایچ آئی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری نوٹس انوائٹنگ بِڈ کے مطابق۳۸ء۶۱۱کلومیٹر طویل ہائی وے پیکیج کو انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن(ای پی سی) طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
منصوبے میں۱۰ء۳۳۱کلومیٹر طویل بائیں ٹیوب اور۱۰ء۳۶۳کلومیٹر طویل دائیں ٹیوب کی تعمیر کے علاوہ اپروچ روڈز اور دیگر متعلقہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ تعمیر کی مقررہ مدت۶۰ ماہ جبکہ اس کے بعد دیکھ بھال کی مدت۱۲۰ ماہ مقرر کی گئی ہے۔
یہ منصوبہ کشتواڑ ضلع کے چھاترو کو اننت ناگ ضلع کے وائیلو سے جوڑے گا۔ چھاترو سے سرنگ کے پورٹل تک مشرقی سمت کا حصہ۱۷ء۰۸۸ کلومیٹر طویل ہوگا، جبکہ ویلّو کی جانب مغربی اپروچ، پورٹل سیکشن سمیت‘۱۱ء۱۶۰ کلومیٹر پر مشتمل ہوگی۔
مجوزہ مشرقی پورٹل کشتواڑ ضلع کے سنگ پورہ کے نزدیک تقریباً۲۲۴۳ میٹر کی بلندی پر قائم کیا جائے گا، جبکہ مغربی پورٹل گڈولے میں تقریباً۲۴۰۴ میٹر کی بلندی پر ہوگا۔
سرنگ میں نو میٹر چوڑا کیریج وے، پیدل چلنے والوں کے لیے راستے اور ہنگامی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دونوں ٹیوبوں کو تقریباً ہر۵۰۰ میٹر کے فاصلے پر کراس پاسجز کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ پیدل آمدورفت اور ہنگامی حالات میں انخلا کو آسان بنایا جا سکے۔
منصوبے کے دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر۲۰ کراس پاسجز تعمیر کیے جائیں گے، جن میں سے ہر ایک کی چوڑائی۶ء۱ میٹر اور لمبائی۱۸ء۵میٹر ہوگی۔
سرنگ میں نیم افقی وینٹی لیشن نظام، آگ کا سراغ لگانے اور بجھانے کے نظام، سی سی ٹی وی نگرانی، ہنگامی مواصلاتی سہولت، ٹریفک کنٹرول سسٹم، روشنی، نکاسیٔ آب اور واٹر پروفنگ کا انتظام کیا جائے گا۔
ہر۲۵۰ میٹر کے فاصلے پر فائر ہائیڈرنٹس نصب کیے جائیں گے، جبکہ اس کے علاوہ کم فاصلے پر ہوز کنکشن اور آگ بجھانے کے آلات بھی دستیاب ہوں گے۔
منصوبے کے پیکیج میں اپروچ روڈز، پل، وایاڈکٹس، کلورٹس، نکاسیٔ آب، حفاظتی تنصیبات اور دیگر ضمنی تعمیراتی کام بھی شامل ہیں۔
کل۲۱ بڑے اور چھوٹے پلوں، وایاڈکٹس اور وایاڈکٹ-کم-برج ڈھانچوں کی تعمیر کی تجویز ہے۔ ان میں سب سے طویل وایاڈکٹ۱۳۴۵ میٹر کا ہوگا، جو ڈیزائن چینج 139+660 پر تعمیر کیا جائے گا۔
اپروچ سڑکوں کو دو لین کی شاہراہوں کی صورت میں پختہ شولڈرز کے ساتھ تیار کیا جائے گا۔ منصوبے میں بالترتیب۲۶؍اور۲۸ کلومیٹر طویل سڑک کنارے اور کیچ ڈرینز کی تعمیر بھی شامل ہے۔
سرنگ کو متعلقہ بھارتی اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعمیر کیا جائے گا، جن میں روڈ ٹنلز کے لیے قابل اطلاق انڈین روڈ کانگریس کی ہدایات، سرنگوں کی روشنی کے لیے کے معیارات اور فائر سیفٹی سے متعلق این ایف پی اے کی دفعات شامل ہیں۔
وائیلو سنگ پورہ سرنگ منصوبے کی منظوری۲۰۱۷ میں دی گئی تھی، جبکہ۲۰۲۱ میں اس کی دوبارہ توثیق کی گئی۔ تاہم مختلف وجوہات کے باعث یہ منصوبہ برسوں سے تاخیر کا شکار رہا۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سرنگ سے سنتھن ٹاپ کے راستے کا ایک قابلِ اعتماد اور ہر موسم میں قابلِ استعمال متبادل دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ اس سے کشمیر اور چناب وادی کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا، سفر کا دورانیہ کم ہوگا اور لوگوں اور مال برداری کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہوگی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے دونوں خطوں میں سیاحت، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ قومی شاہراہ۲۴۴کے ساتھ اسٹریٹجک اور بین العلاقائی رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔
۔۔۔۔۔









