سرینگر؍۱۰ستمبر
لداخ گزشتہ چار برس سے جن خصوصی آئینی تحفظات کا مطالبہ کررہا ہے، انہیں حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت نے لداخ کو آئین کے آرٹیکل۳۷۱ کے تحت خصوصی آئینی تحفظات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، جبکہ ہمالیائی خطے کے انتظام کے لیے ایک منتخب ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔ اسے ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا ’سوئی جنریس‘ ماڈل قرار دیا جارہا ہے۔
لداخ کے چیف سیکریٹری آشیش کندرا نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ پارلیمنٹ آرٹیکل۳۷۱ میں ترمیم کرے گی تاکہ لداخ کو مناسب آئینی تحفظات فراہم کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے لداخ کو آئینی تحفظات اور منتخب ادارہ فراہم کرنے کے لیے عمل شروع کردیا ہے۔
آئین ہند کا آرٹیکل۳۷۱ بعض ریاستوں کو ان کی منفرد علاقائی اور سماجی ضروریات کے پیش نظر عارضی، عبوری اور خصوصی اختیارات فراہم کرتا ہے۔
کندرا نے کہا’’یہ ایک منفرد ماڈل ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں۔ یہ ’سوئی جنریس‘ طرز حکمرانی کا ماڈل ہے۔ لداخ میں ایک منتخب ادارہ ہوگا، لیکن یہ قانون ساز اسمبلی والی یونین ٹیریٹری یا اسمبلی والی ریاست نہیں ہوگی‘‘۔
’سوئی جنریس‘ ایک ایسا منفرد قانونی و انتظامی فریم ورک ہے جو کسی مخصوص اور غیر معمولی صورتحال کے انتظام کے لیے وضع کیا جاتا ہے۔اس لاطینی اصطلاح کے معنی ’اپنی نوعیت کا‘ یا ’منفرد‘ ہیں۔
کندرا مرکزی حکومت کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو لداخ کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ منگل کے روز دونوں فریقوں کے درمیان نئی دہلی میں مذاکرات بھی ہوئے۔
لداخ کے چیف سیکریٹری‘ آشیش کندرا نے بدھ کے روز نئی دہلی میں ہونے والے سب کمیٹی اجلاس میں شرکت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لداخ کے لیے خصوصی آئینی فریم ورک کے تحت یو ٹی سطح پر ایک منتخب ادارہ قائم کرنے کی تجویز پر بات چیت آگے بڑھی ہے۔
کندرا نے بتایا کہ لیہ ایپیکس باڈی(ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے) کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مجوزہ یو ٹی سطح کے ادارے کے انتخابات براہِ راست حلقہ وار بنیادوں پر کرائے جائیں، بجائے اس کے کہ یہ انتخابات لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں(ایل اے ایچ ڈی سی) کے ذریعے بالواسطہ طور پر ہوں۔تاہم، کندرا کے مطابق مجوزہ ادارے کے اختیارات اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق کئی امور ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
لداخ کے چیف سیکریٹری نے کہا’’کچھ سوالات ایسے ہیں جو ایل اے ایچ ڈی سی اور یو ٹی سطح کے ادارے کے درمیان تعلق، ایل اے ایچ ڈی سی کے دائرہ اختیار میں آنے والے اختیارات اور یو ٹی سطح کے ادارے کو دیے جانے والے اختیارات سے متعلق ہیں‘‘۔
کندرا نے بتایا کہ اجلاس میں شریک رہنماؤں کے ساتھ تقریباً۸ سے۱۰ سوالات کی فہرست شیئر کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان پر آپس میں غور کریں، عوام سے مشاورت کریں اور اپنے خیالات مرکز تک پہنچائیں۔
لداخ کے چیف سیکریٹری نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اس معاملے پر کام شروع کردیا ہے اور لداخ کی قیادت سے موصول ہونے والے جوابات کو آگے وزارت داخلہ کو بھیجا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکز اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان اگلی میٹنگ اکتوبر کے پہلے نصف میں ہوگی اور اس کا مقصد بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے کے بعد آئینی ترمیم کے مسودے کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔
چیف سیکریٹری نے واضح کیا کہ مرکز لداخ کے عوام پر ایسا کوئی نظام مسلط نہیں کرنا چاہتا جسے وہ قبول نہ کریں۔
انہوں نے کہا’’کسی دستاویز کی تیاری سے پہلے اصولوں پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ان اصولوں پر اتفاق کے بعد ہی بل کی قانونی تدوین کی جائے گی‘‘۔
کندرا کے مطابق جاری بات چیت کا مقصد لداخ کے عوام کی بنیادی خواہشات کو مدنظر رکھنا ہے، جن میں اراضی، ثقافت، ورثے، معدنی وسائل، ماحولیات اور روزگار کا تحفظ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمتوں میں ریزرویشن کا نظام لداخ کے لیے پہلے ہی فراہم کیا جاچکا ہے، جبکہ مرکز نے دیگر خدشات کے لیے آئینی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کندرا نے بتایا کہ مجوزہ حکومتی ڈھانچے میں نچلی سطح پر پنچایتیں ہوں گی، ان کے اوپر لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلیں اور ان سے اوپر مجوزہ یو ٹی سطح کا منتخب ادارہ ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ یہ تجویز عام قانون سازی نہیں بلکہ آئینی ترمیم سے متعلق ہے۔
اکتوبر کی میٹنگ سے قبل مجوزہ مسودہ جاری کرنے کے مطالبے پر کندرا نے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مرکز چاہتا ہے کہ حتمی نظام مشاورت کے ذریعے سامنے آئے۔انہوں نے کہا’’اگر ہم جلدی میں کوئی ایسی چیز طے کردیں جو بعد میں درست نہ نکلے تو اسے تبدیل کرنا مشکل ہوجاتا ہے‘‘۔
گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کندرا نے کہا کہ جن مقدمات کو واپس لینے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، انہیں لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا جائے گا، جبکہ معاوضے سے متعلق ایک تجویز بھی ان کے غور کے لیے پیش کی جائے گی۔انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مثبت ماحول برقرار رکھے اور کہا کہ بات چیت نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
کندرا نے کہا’’اکتوبر زیادہ دور نہیں ہے۔ ستمبر کے دس دن پہلے ہی گزر چکے ہیں،‘‘ اور لداخ کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ سوالات کے جوابات جلد از جلد فراہم کریں تاکہ مسودہ تیار کرنے کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔
لداخ کو مرکز کی جانب سے سابق ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کرکے اسے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنے اور آرٹیکل۳۷۰ کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد الگ یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر لداخ کے ایک طبقے نے مرکز کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم بعد میں افسر شاہی پر مبنی نظام کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی گئی۔
لداخ کے عوام کی جانب سے گزشتہ چار برس سے ریاستی حیثیت اور آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
چھٹی شیڈول کے تحت مقامی کونسلیں قائم کی جاسکتی ہیں جنہیں اراضی، جنگلات، پانی اور زراعت سے متعلق قوانین بنانے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے مقامی برادریوں کو علاقائی اقتصادی ترقی کے معاملات میں براہِ راست کردار ملتا ہے۔
گزشتہ سال لے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ تشدد کے بعد کارکن سونم وانگچک سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد کے خلاف مقدمات پہلے ہی واپس لیے جاچکے ہیں۔ کندرا کے مطابق جن معاملات میں چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے، ان پر لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر جلد فیصلہ کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










