سری نگر؍۱۰ ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ‘ تنویر صادق کے حالیہ ’پاجامہ‘ ریمارکس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان تاریخی طور پر درست ہے اور نہ تنویر صادق کو معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی وضاحت پیش کرنے کی۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نےکہا کہ ماضی میں کشمیریوں کو درپیش غربت اور مشکلات تاریخ دانوں کی جانب سے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں اور یہ تنویر صادق کی ذاتی رائے نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا’’تنویر نے جو کچھ کہا وہ تاریخی طور پر درست ہے۔ اسے اپنے بیان پر معافی مانگنے یا وضاحت دینے کی ضرورت نہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ والٹر لارنس اور کئی دیگر تاریخ دانوں نے جموں و کشمیر کے حالات، خصوصاً کشمیریوں کی غربت اور زَیلداروں، چکداروں اور جاگیرداروں کے نظام کے تحت لوگوں کی مشکلات کے بارے میں لکھا ہے۔
انہوں نے کہا’’لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ تنویر نے اس بارے میں پہلی بار بات نہیں کی۔ شاید نیشنل کانفرنس کی کوئی ایسی سینئر قیادت ہو، صدر سے لے کر جنرل سیکریٹری اور دیگر رہنماؤں تک، جس نے اس بارے میں بات نہ کی ہو‘‘۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا’’ایک وقت تھا جب کشمیری اتنے غریب تھے کہ انہیں مسجد سے اپنا پاجامہ پہن کر شہر آنا پڑتا تھا۔ یہ تنویر کی اپنی سوچ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ تنویر صادق کا مقصد شاید ان مشکل حالات سے نکلنے کے بعد کشمیریوں کی ترقی کو اجاگر کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کررہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی اس معاملے کو اٹھا کر ایک ہی ’میچ‘ کھیل رہی ہیں اور دونوں کا ایجنڈا مشترک ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’تنویر کو اس پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ نہ اسے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی میری جماعت کو معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ تنویر نے کچھ غلط نہیں کیا‘‘۔
کانگریس کی جانب سے وندے ماترم کے مکمل بند گائے جانے پر اعتراض کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو موجودہ قانون اور قانونی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا’’ہمیں قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ قانون کو ختم کرسکتی ہے، لیکن جب تک قانون موجود ہے، ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جس تقریب میں دو گورنرز، لیفٹیننٹ گورنر اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس موجود ہوں، وہاں قومی ترانہ بجایا جانا لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانونی دفعات کے تحت سرکاری تقریبات میں جہاں قومی ترانہ بجایا جاتا ہے، وہاں وندے ماترم کے مکمل بند بھی بجانا ضروری ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ضابطہ صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ ہے، جن میں کانگریس کی حکومت والی ریاستیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا’’اگر ایسا نہیں ہوتا تو جو لوگ مکمل بند کے دوران کھڑے نہیں ہوتے، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ تو کانگریس کیا چاہتی ہے؟ کیا وہ اس بہانے کشمیریوں کو جیل میں ڈالنا چاہتی ہے؟ یہ ایک قانونی ذمہ داری ہے‘‘۔
فلم فیسٹیول کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت مقامی نوجوانوں کے لیے فلم سازی اور پروڈکشن کے شعبے میں مواقع پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ ہم اپنے مقامی بچوں کو کیمرہ ورک، پروڈکشن اور اس طرح کے دیگر کاموں سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں اس شعبے میں کورسز کرنے چاہئیں اور یہاں فلموں کی شوٹنگ بھی ہونی چاہیے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘










