بانڈی پورہ؍۱۱ستمبر
نصابی کتابوں میں پڑھے گئے اسباق جب عملی مشاہدے اور تجربے میں بدل جائیں تو تعلیم محض یاد کرنے کا عمل نہیں رہتی بلکہ دریافت کا سفر بن جاتی ہے۔ اسی جذبے کے تحت پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ، بانڈی پورہ کے طلبہ نے حال ہی میں ایک مطالعاتی دورے کے دوران سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور سینک اسکول مانسبل کا دورہ کیا، جہاں انہیں تاریخ، فنِ تعمیر، سائنس، فلکیات اور فنونِ لطیفہ سے براہِ راست روشناس ہونے کا موقع ملا۔
دورے کا پہلا پڑاؤ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد تھی۔ بہت سے طلبہ کے لیے یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ اس عظیم تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ شاندار طرزِ تعمیر، بلند و بالا ستونوں اور تاریخی ماحول نے طلبہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
یہاں ایک دلچسپ تعلیمی لمحہ اس وقت پیدا ہوا جب طالبہ شوقیہ الطاف نے ادارے کے سربراہ سے سوال کیا کہ جامع مسجد میں کتنے ستون ہیں۔ جواب بتانے کے بجائے انہیں خود ستون گننے کی ترغیب دی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئیں اور انہوں نے ستونوں کی تعداد۳۶۴ بتائی، جو اصل تعداد سے صرف ۱۴م تھی۔ بظاہر ایک معمولی سرگرمی، لیکن اس نے طلبہ میں مشاہدہ، تجسس اور خود دریافت کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔
اسی مطالعاتی سفر کے اگلے مرحلے میں طلبہ نے سینک اسکول مانسبل کا دورہ کیا، جہاں انہیں کلاس روم سے باہر سائنس، فلکیات اور تخلیقی سرگرمیوں کے عملی تجربات سے روشناس کرایا گیا۔
دورے کا سب سے دلچسپ اور یادگار حصہ Cassegrain طرز کی دوربین کے بارے میں ایک عملی اور معلوماتی نشست تھی، جو مُجتبیٰ سر نے منعقد کی۔ ان کا یہ جملہ کہ ’’روشنی کی شعاعوں میں معلومات موجود ہوتی ہیں‘‘ طلبہ کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث بنا اور انہیں موضوع کو مزید سمجھنے اور سوالات اٹھانے پر آمادہ کیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے پورے دورے کو ایک منفرد تجربے میں بدل دیا۔ عملی مظاہرے کے دوران طلبہ نے دوربین کے ذریعے سورج کے دھبے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ نصابی کتاب میں پڑھا جانے والا ایک سائنسی تصور ان کے سامنے حقیقی مشاہدے کی صورت میں موجود تھا۔ اس تجربے نے طلبہ کو یہ سمجھنے کا موقع فراہم کیا کہ سائنس صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ اسے دیکھا، پرکھا اور تجربے کے ذریعے سمجھا بھی جا سکتا ہے۔
یہ تجربہ اس بنیادی تعلیمی اصول کو بھی تقویت دیتا ہے کہ سیکھنے کا عمل اس وقت زیادہ بامعنی ہوتا ہے جب طلبہ کو صرف معلومات یاد کرانے کے بجائے مشاہدہ کرنے، سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور خود دریافت کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
طلبہ نے اس موقع پر فلکیاتی طبیعیات کی لیبارٹری ، آرٹ گیلری اور آڈیٹوریم کا بھی دورہ کیا۔ ان مقامات نے انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ فنونِ لطیفہ اور ایک منظم تعلیمی ادارے کے ماحول کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔
اس مطالعاتی دورے کے دوران سینک اسکول مانسبل کے پرنسپل اور عملے کی جانب سے طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اسکول کی جانب سے طلبہ اور عملے کے لیے ریفریشمنٹ کا بھی انتظام کیا گیا، جس پر پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا گیا۔
منیر احمد نے سینک اسکول مانسبل کی جانب سے استقبالیہ کلمات پیش کیے، جبکہ مہر اج الدین بٹ نے پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ کی جانب سے کلماتِ تشکر ادا کیے۔
پروگرام کی کامیابی میں الطاف حسین میر کی رابطہ کاری اور مسلسل توجہ کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔ ان کی کاوشوں نے مطالعاتی دورے کو منظم اور بامقصد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس دوران جاوید جواد، سربراہِ ادارہ، پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ، طلبہ کے ساتھ موجود رہے اور پروگرام کے مختلف مراحل میں ان کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کی موجودگی نے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دی کہ دورہ نہ صرف محفوظ اور منظم رہے بلکہ اپنے تعلیمی مقصد کے حصول میں بھی کامیاب ہو۔
یہ پورا پروگرام قومی تعلیمی پالیسی کے تجرباتی اور عملی تعلیم کے تصور کی ایک خوبصورت مثال بھی ثابت ہوا۔ نئی تعلیمی پالیسی کا بنیادی زور محض معلومات رٹوانے کے بجائے طلبہ میں تجسس، تنقیدی سوچ، مشاہدے کی صلاحیت اور سائنسی مزاج کو فروغ دینے پر ہے، اور اس مطالعاتی دورے میں ان تمام عناصر کی جھلک نمایاں طور پر نظر آئی۔
اس دورے کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ طلبہ نے ایک تاریخی مسجد دیکھی یا دوربین کے ذریعے سورج کے دھبے دیکھے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے سوال پوچھنے، خود جواب تلاش کرنے اور کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے کا طریقہ سیکھا۔
جامع مسجد میں ستون گننے کی ایک چھوٹی سی سرگرمی نے انہیں مشاہدے کی طرف متوجہ کیا، جبکہ سینک اسکول مانسبل کی دوربین نے انہیں آسمان کی وسعتوں میں جھانکنے کا موقع دیا۔ ایک طرف ماضی کی تاریخ اور تعمیراتی ورثہ تھا، دوسری طرف کائنات کے اسرار۔ یوں یہ دورہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی تعلیمی تجربے میں سمیٹ گیا۔
یہ پروگرام طلبہ کے لیے محض ایک خوشگوار یاد نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ان کے فکری سفر کا ایک اہم موڑ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ جامع مسجد کے ستون گننے والی وہ طالبہ مستقبل میں کسی تاریخی تحقیق کی طرف جائے، یا سورج کے دھبے پہلی مرتبہ دیکھنے والا کوئی طالب علم مستقبل میں فلکیات اور خلائی سائنس کو اپنا شعبہ بنا لے۔
تعلیم کی اصل طاقت شاید یہی ہے کہ ایک معمولی سا مشاہدہ کسی بڑے سوال کو جنم دے، ایک سوال تحقیق کی طرف لے جائے اور تحقیق کسی نئے خواب کی بنیاد بن جائے۔ پی ایم شری لہروالپورہ کے طلبہ کا یہ سفر اسی امید کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق رپورٹ )










