منگل, نومبر 3, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

یو پی آئی لین دین پر۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر فیس واپس لینے کا کوئی سوال نہیں:حکومتی عہدیدار

’یہ فیصلہ یو پی آئی کے پورے نظام کے وسیع تر مفاد میں اور اس کی سلامتی و تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-17
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, کاروبار
A A
₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

نئی دہلی /۱۶ستمبر

                حکومت کے ذرائع نے بدھ کے روز کہا کہ۲ ہزار روپے سے زیادہ کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) لین دین پر۰ء۴ فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی یا اسے واپس لینے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔

                ایک اعلیٰ عہدیدار سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حکومت۲ ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر عائد کی جانے والی مجوزہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ فیس واپس لینے پر غور کررہی ہے، جسے۱۵؍ اکتوبر سے نافذ کیا جانا ہے، تو انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اسے واپس لینے کا کوئی سوال نہیں ہے۔

متعلقہ

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

                ذرائع نے بتایا کہ ایم ڈی آر فیس عائد کرنے کا فیصلہ یو پی آئی کے پورے نظام کے وسیع تر مفاد میں اور اس کی سلامتی و تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

                ذرائع کے مطابق، دیگر ممالک میں رائج طریقۂ کار کی طرح فیس عائد کرنے کا فیصلہ یو پی آئی نظام متعارف کراتے وقت ہی۲۰۲۰ میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیا ایم ڈی آر نظام یو پی آئی کو خود کفیل بنانے میں مدد کرے گا۔

                اس فیصلے کی متعدد حلقوں، جن میں تاجر، دکاندار اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں، کی جانب سے سخت مخالفت کی گئی ہے۔ مخالفین نے اس اقدام کو ’’مودی ٹیکس‘‘ کا نام دیا ہے۔

                کچھ حزبِ اختلاف کی جماعتوں، جن میں کانگریس بھی شامل ہے، نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

                حکومت نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے منگل کو کہا تھا کہ وہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں یو پی آئی کی مزید توسیع کے لیے مراعات بھی فراہم کرے گی اور اس کی مسابقتی حیثیت برقرار رکھے گی، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ادائیگیوں کی بڑی اکثریت بدستور فیس سے پاک رہے۔

                پارلیمنٹ کی مالی امور سے متعلق قائمہ کمیٹی نے اپنی۳۲ ویں رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ صفر ایم ڈی آر کا نظام ’’حکومت کے مالی وسائل پر دباؤ ڈالتا ہے‘‘ اور طویل مدتی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے کی یو پی آئی نظام کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔ کمیٹی نے زور دیا تھا کہ ’’ایک قابلِ عمل آمدنی کا نظام قائم کرنا انتہائی اہم ہے تاکہ یو پی آئی کا نظام مالی طور پر پائیدار ہوسکے اور اسے ہمیشہ سرکاری خزانے پر بوجھ نہ ڈالنا پڑے۔‘‘

                کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ حکومت صفر ایم ڈی آر کی پالیسی کے تحت قائم مراعاتی نظام کی حمایت کے لیے تقریباً۲ ہزار کروڑ روپے سالانہ فراہم کررہی ہے۔

                تقریباً چھ سال تک مکمل طور پر مفت رہنے والی یو پی آئی ادائیگیوں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے حکومت نے منگل کو اعلان کیا کہ۱۵؍اکتوبر سے یو پی آئی کے ذریعے تاجروں کو کی جانے والی۲ ہزار روپے سے زیادہ مالیت کی ادائیگیوں پر۰ء۴ فیصد فیس عائد کی جائے گی۔ تاہم روزمرہ کے فرد سے فرد کے درمیان ہونے والے لین دین اور چھوٹی ادائیگیوں کو واضح طور پر کسی بھی فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

                وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہا، ’’صارفین کو یو پی آئی کے ذریعے ایسی ادائیگیاں کرتے وقت کسی قسم کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘ وزارت نے مزید کہا، ’’ایم ڈی آر مرچنٹ ادائیگیوں کے نظام کے اندر عائد کیا جانے والا چارج ہے۔ یہ یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارفین پر عائد ہونے والی فیس نہیں ہے۔‘‘

                وزارت کے مطابق، افراد یو پی آئی کا ’’لامحدود مفت استعمال جاری رکھیں گے، جس کے لیے نہ ماہانہ کوٹے ہوں گے، نہ لین دین کی تعداد کی کوئی حد اور نہ ہی مفت یو پی آئی لین دین پر درجے وار کوئی پابندی عائد ہوگی۔‘‘

                احتیاط سے طے کیے گئے اس فیصلے نے دنیا کے سب سے بڑے فوری ادائیگی کے نظام کے لیے ایک دور کے اختتام کی نشاندہی کی ہے، تاہم حکومت نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ روزانہ یو پی آئی استعمال کرنے والے کروڑوں افراد میں کسی قسم کی تشویش پیدا نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

نابالغ اور سوشل میڈیا، قانون کو فیصلہ کرنا ہوگا

Next Post

ریاستی درجہ کی بحالی سے حکومتی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیراعلیٰ کا ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے پر زور

2026-11-02
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
اہم ترین

مرکز اور جموں و کشمیر میں بداعتمادی کیلئے این سی ذمہ دار:محبوبہ

2026-11-02
پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
اہم ترین

پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات کیس میں۱۱کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک

2026-11-02
’قومی زعفراب مشن  کے بعد زعفران کی پیداوار میں اضافہ ہوا ‘
اہم ترین

پانپور میں زعفران کی فصل کی کٹائی شروع، گزشتہ سال کے بھاری نقصان کے بعد بہتر پیداوار کی امید

2026-11-02
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

دربار مو کا پہلا دن: ڈیلی ویجرز اور آشا ورکروں کا احتجاجی مارچ

2026-11-02
اسمبلی انتخابات سے قبل فوج کی دراندازی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میںاضافہ
اہم ترین

  ایل او سی کے نزدیک بارودی سرنگ  کے دھماکے میں فوجی پورٹر کا پاؤں ضائع

2026-11-02
شوپیاں گرینیڈ حملے میں ملوث تین افراد گرفتار، اسلحہ بر آمد:پولیس
اہم ترین

اننت ناگ میں مسجد پر پتھراؤ کے الزام میں چار افراد حراست میں

2026-11-02
اہم ترین

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ۳ہزار معاملات میں کارروائی

2026-11-02
Next Post
’عوامی مینڈیٹ سے غداری‘:بی جے پی کی این سی پر لینڈ گرانٹس بل کے حوالے سے تنقید

ریاستی درجہ کی بحالی سے حکومتی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.