بارہمولہ /۱۶ستمبر
جموں و کشمیر اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ حکمرانی میں ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے کو بہانے کے طور پر استعمال کررہی ہے۔
شرما نے الزام لگایا کہ بدعنوانی حد سے تجاوز کرچکی ہے اور نیشنل کانفرنس کی زیرِ قیادت حکومت میں نوجوان روزگار کے مسائل کے باعث پریشانی کا سامنا کررہے ہیں۔
بارہمولہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہیں اسے پورا کرنا چاہیے، جبکہ دستیاب اختیارات اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔
شرما نے حکومت اور اس کے طرزِ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’وہ ہمارے لیے راستہ تو بنائیں، ہم دکھائیں گے کہ کام کیسے کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس کام ہے، لیکن وہ اسے استعمال نہیں کررہے۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوجوان بالخصوص روزگار کے مسائل کے باعث پریشان ہیں اور حکومت پر ملازمتیں آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرنے کا الزام لگایا۔
شرما نے کہا کہ حزبِ اختلاف عوام سے متعلق مسائل، جن میں این ایچ ایم ملازمین، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور آنگن واڑی کارکنوں کے مطالبات شامل ہیں، مسلسل اٹھاتی رہے گی۔
حزبِ اختلاف کے رہنما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مرکز کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز کو زمینی سطح پر مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے اسے پنچایتی راج اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر سے بھی جوڑا۔
شرما نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف عوام کے حقیقی مسائل کو مسلسل اجاگر کرتی رہے گی اور اسمبلی کے فلور سمیت دیگر جمہوری پلیٹ فارموں پر حکومت سے جواب طلب کرتی رہے گی۔
۔۔۔(ایجنسیاں )









