جموں/۱۶ستمبر
اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرانے کے لیے مرکز کے ساتھ مسلسل بات چیت اور اسے قائل کرنے کی ضرورت ہے، تصادم کی نہیں۔
ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے حکومت کو کیا طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے، اس سوال کے جواب میں بخاری نے کہا، ’’ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے آگے بڑھنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے بات چیت۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘
تصادم کے راستے کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر نے۱۹۴۷ سے اب تک بہت تصادم دیکھ لیا ہے۔ آپ کو قائل کرنا ہوگا، آپ کے پاس دلیل ہونی چاہیے۔ یہ آسان نہیں ہوگا، لیکن دہلی کو قائل کرنا ہوگا اور ہمارے پاس دلیل موجود ہے۔‘‘
بخاری نے جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم۲۰۰ سال پرانی ریاست ہیں۔‘‘انہوں نے حالیہ لداخ احتجاج کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ بھی اسی طرح اپنی اجتماعی آواز بلند کرسکتے ہیں۔
اپنی پارٹی کے صدر نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر لداخ کے ڈھائی لاکھ لوگ اپنی آواز بلند کرسکتے ہیں تو شاید جموں و کشمیر کے یہ۱ء۳کروڑ لوگ بھی ایسا کرسکتے ہیں، بشرطیکہ ہم حوصلہ دکھائیں۔‘‘
بخاری نے کہا، ’’لیکن چونکہ ہم نے خود کو سیاسی جماعتوں کے پاس گروی رکھ دیا ہے، اس لیے ہم کون سی دلیل پیش کریں گے؟ یہ جماعتیں صرف اپنا وقت گزار رہی ہیں۔‘‘
اپنی پارٹی کے صدر نے اسمبلی اجلاس سے قبل منعقد ہونے والی مجوزہ کل جماعتی میٹنگ کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھایا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب طبی ملازمین اور ایم بی بی ایس انٹرن احتجاج کررہے ہیں۔
بخاری نے کہا، ’’کیا اس میٹنگ سے کوئی اہم نتیجہ نکلنے والا ہے؟ یہ کل جماعتی میٹنگ اسمبلی اجلاس سے پہلے منعقد کی جارہی ہے۔ وہ اس بات پر بحث کریں گے کہ قانون سازوں کی تنخواہیں کیسے بڑھائی جائیں۔ مجھے بتائیے، ان کی تنخواہیں کیسے بڑھائی جائیں گی؟‘‘
سینئر کشمیری لیڈر نے سوال کیا کہ اسی طرح کی توجہ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین اور انٹرن ڈاکٹروں کے مطالبات پر کیوں نہیں دی جارہی، جو اپنے انٹرن شپ الاؤنس میں اضافے کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔
تاہم بخاری نے واضح کیا کہ حکومت کی مخالفت کا مطلب کسی غیر جمہوری طریقے سے اسے ہٹانے کی حمایت نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’جمہوریت کی صورت میں حکومتِ ہند کی جانب سے ہمیں دیا گیا آخری تحفہ ایک منتخب حکومت ہے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اس میں مداخلت کرے۔ اگر اس حکومت کو جانا ہے تو عوام اسے ہٹا دیں گے۔‘‘
اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا، ’’ہم روز اس کی مخالفت کریں گے اور ایسا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ ہم یہ عوام کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے غیر جمہوری طریقے سے ہٹایا جائے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









