سرینگر؍۲ نومبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان پائی جانے والی ’’بداعتمادی‘‘ کے لیے نیشنل کانفرنس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ خطے کی قدیم ترین سیاسی جماعت کشمیر کے معاملے پر بار بار اپنا مؤقف تبدیل کرتی رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اس شک و شبہے کی فضا کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ آج سے۷۹سال پہلے ہندوستان آزاد ہوا تھا اور۷۹ سال پہلے ہی جموں و کشمیر نے ہندوستان سے الحاق کیا تھا۔ اس الحاق پر (این سی کے بانی) شیخ محمد عبداللہ نے دستخط کیے تھے۔ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود انہوں نے ہندوستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ الحاق کے چند ہی برس بعد نیشنل کانفرنس نے اپنا بیانیہ بدل لیا اور رائے شماری کا مطالبہ کرنے لگی۔
محبوبہ نے کہا، ’’آپ (این سی) نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ الجھن اور شک پیدا کیا۔۲۲ سال تک پاکستان میں رائے شماری کا مطالبہ کرتے رہے اور پھر۱۹۷۵ میں اچانک دوبارہ اقتدار کی کرسی قبول کرلی۔‘‘ محبوبہ مفتی کا اشارہ اندرا۔شیخ معاہدے کی طرف تھا، جس کے تحت این سی کے بانی شیخ عبداللہ وزیر اعلیٰ بنے، حالانکہ ان کی جماعت کے پاس کوئی رکن اسمبلی نہیں تھا۔
پی ڈی پی صدر نے دعویٰ کیا کہ شیخ عبداللہ نے اقتدار کی خواہش میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کیا۔انہوں نے کہا، ’’جب آپ وزیر اعظم کے بجائے وزیر اعلیٰ بنے تو لوگوں سے کہا کہ رائے شماری کو بھول جائیں، کیونکہ آپ کو اقتدار چاہیے تھا۔ ہندوستان کے رہنماؤں، چاہے وہ جواہر لعل نہرو ہوں یا ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، نے ہمیں خصوصی حیثیت اور آئین دیا تھا، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں نہ صرف رہنماؤں بلکہ ہر کشمیری کے بارے میں شک پیدا کیا گیا۔‘‘
محبوبہ نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور کہا کہ جب تک یہ جماعت اقتدار میں رہے گی، امن قائم ہونا مشکل ہے۔
پی ڈی پی صدر نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں۲۰۱۴میں حکومت سازی کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر شرمندہ نہ ہونے کی تلقین کی۔انہوں نے کہا، ’’جب وہ (این سی) آپ سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا ذکر کریں تو انہیں یاد دلائیں کہ کشمیر پر بدلتے ہوئے مؤقف کے ذریعے لوگوں کو مصیبت میں ڈالنے والے ان کے اپنے رہنما تھے۔‘‘
این سی صدر فاروق عبداللہ کا نام لیے بغیر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہنے والے رہنما یہ کہہ کر کشمیریوں کو بالواسطہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کشمیر کی حفاظت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ دہلی کو ان کا اشارہ ہے کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ ہیں۔‘‘
مرکز پر تنقید کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
محبوبہ نے کہا، ’’کشمیر کا مسئلہ یو اے پی اے، پی ایس اے یا ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسے بات چیت اور کاشغر، ختن اور یارکند کے روایتی تجارتی راستے کھول کر حل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اتراکھنڈ کے لیپولیکھ میں انتظام کیا گیا ہے۔ طاقت کے استعمال کی یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوگی۔ آپ کب تک یہ طریقہ جاری رکھ سکتے ہیں؟ یہاں کے لوگوں کو کب تک خاموش رکھیں گے؟‘‘
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ سات برس سے طاقت کے استعمال کے ذریعے دباؤ اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’باقی ملک نے۲۲ جولائی اور۱۲؍ اکتوبر کو اس کا ایک نمونہ دیکھا۔ وہ ایک دن بھی یہ برداشت نہیں کر سکے، جبکہ ہم سات برس سے یہ سب سہہ رہے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









