جموں؍۲ نومبر
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پٹنی ٹاپ ہوٹل اراضی تجاوزات معاملے میں انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت۱۰ء۶۶کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں عارضی طور پر منسلک کرلی ہیں۔
ای ڈی کے ترجمان نے پیر کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ منسلک جائیدادوں میں ادھم پور ضلع کے پہاڑی سیاحتی مقام پٹنی ٹاپ میں واقع ہوٹل ہالی ڈے اِن، ہوٹل براڈوے، ہوٹل ہالی ووڈ اور ہوٹل ماؤنٹ ویو کی اراضی اور عمارتیں شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق، ای ڈی نے اس سے قبل۲۰۲۵ میں دو عارضی منسلکی احکامات جاری کرتے ہوئے اسی معاملے میں تقریباً۳۰ء۷۲ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں منسلک کی تھیں۔ تازہ کارروائی کے بعد کیس میں عارضی طور پر منسلک جائیدادوں کی مجموعی مالیت تقریباً۴۱ء۳۸ کروڑ روپے ہوگئی ہے۔
ای ڈی نے اپنی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے انسدادِ بدعنوانی شاخ جموں کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ ایف آئی آر میں پٹنی ٹاپ علاقے کے مختلف ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریزورٹس، کاٹیجز اور رہائشی جائیدادوں کے مالکان و ڈائریکٹروں کے علاوہ پٹنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ الزامات میں رہائشی عمارتوں کا تجارتی استعمال، منظور شدہ حدود سے تجاوز کرکے تعمیرات اور ممنوعہ علاقوں، بشمول گھنے جنگلات، زرعی اور رہائشی زونوں میں تجارتی ادارے چلانا شامل ہیں۔ تحقیقات کے دوران پی ڈی اے کے افسران کی جانب سے مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے میں مبینہ کوتاہیوں کا بھی انکشاف ہوا۔
سی بی آئی نے۲۰۲۳میں چھ ہوٹلوں سے وابستہ آٹھ ہوٹل مالکان اور پی ڈی اے کے متعدد افسران کے خلاف جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون، رنبیر پینل کوڈ، رجسٹریشن آف ٹورسٹ ٹریڈ ایکٹ اور جموں و کشمیر فارسٹ ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت چھ چارج شیٹس دائر کی تھیں۔
ای ڈی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ہوٹل ہالی ڈے اِن کو عمارت کی تعمیر کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود منظور شدہ نقشے سے ہٹ کر۷۵۵۲ء۷۴ مربع فٹ اضافی غیر قانونی تعمیر کی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق ہوٹل براڈوے، ہوٹل ہالی ووڈ اور ہوٹل ماؤنٹ ویو مطلوبہ اجازت نامے حاصل کیے بغیر تجارتی طور پر چلائے جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان ہوٹلوں کی عمارتوں، غیر قانونی تعمیرات، ملحقہ اراضی اور غیر مجاز تجارتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مساوی مالیت کی شناخت شدہ جائیدادوں کو پی ایم ایل اے کے تحت ’’جرم سے حاصل شدہ آمدنی‘‘ قرار دیتے ہوئے عارضی طور پر منسلک کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)









