نئی دہلی، 15 اگست (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز یومِ آزادی کے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کیے جا رہے ہیں جن سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے لیے عالمی مارکیٹ میں وسعت حاصل کرنے کا بڑا موقع آیا ہے اور انہیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے اس کے لیے مصنوعات کی کوالٹی بڑھانے اور لاگت گھٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔ لال قلعے کی فصیل سے اپنے خطاب میں مسٹر مودی نے کہا، "…آج ہندوستان کا پروفائل پوری طرح بدل رہا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کے لیے ایک مقبول اور قابلِ احترام ملک بن رہا ہے۔ ہندوستان کے پاس مستحکم سیاسی مینڈیٹ ہے، مستحکم حکومت ہے، ہندوستان میں متحرک جمہوریت ہے، ہندوستان کا مضبوط عدالتی نظام ہے اور ہم سب کو سمت دینے والا ہندوستان کا آئین ہے، اور اب دنیا ہمارے اس سامرتھیہ کو پہچاننے لگی ہے۔”
انہوں نے کہا، "اور اسی لیے 2014 کے بعد، دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ ہمارے ایف ٹی اے ایگریمنٹ (آزاد تجارتی معاہدے) ہو رہے ہیں۔…یہ ایک بہت بڑا موقع ہے اور اسی لیے خاص طور پر میں اپنے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنتعتوں (ایم ایس ایم ای) سے کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ دنیا میں ہمیں پہنچنا ہے، ہندوستان کی مصنوعات کی ہر چیز دنیا کی مارکیٹ میں پہنچے اور چاہے ہمارا ٹیکسٹائل ہو، ہماری مشینری ہو، ادویات ہوں، ہم نے موقع چھوڑنا نہیں ہے، لیکن عالمی سطح کے جو پیرامیٹرز (معیارات) ہیں، ان معیارات کو ہمیں عبور کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا سے جو ملتا ہے، اس سے بہتر دینا پڑے گا۔ دنیا میں جو ملتا ہے، اس سے سستا دینا پڑے گا۔”
قابلِ ذکر ہے کہ ان تجارتی معاہدوں میں 27 رکن ممالک والے یورپی یونین (ای یو) کے ساتھ ہوا اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ بھی شامل ہے جس کو عمل میں لانے کی بات چیت چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "اور پنجاب کے لدھیانہ سے لے کر تمل ناڈو کے تروپور تک ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر دنیا میں پہنچ سکتا ہے۔…کیرلم سے لے کر گجرات اور تمل ناڈو سے لے کر بنگال کے ساحلی علاقے میں ہمارے مچھیرے بھائی بہنوں کے لیے آج ان ایف ٹی اے کی بدولت شرمپ یعنی جھینگے کی برآمدات کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے سی فوڈ (سمندری غذائیں) کی دنیا میں رسائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔”
وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے گزشتہ 12 سالوں میں مختلف شعبوں میں خود کفالت سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کووڈ جیسی وبا اور مختلف جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) بحرانوں سے نمٹنے میں ہندوستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "اگر ہم خود کفالت کے منتر کو لے کر 10 سال صحیح سمت میں نہ چلے ہوتے، تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی چیلنجز کا مضبوطی سے مقابلہ کیسے کرتے۔” انہوں نے کہا، "ہماری تیاریاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔”
مسٹر مودی نے کہا، "ایک وقت تھا، جب میں خود کفالت کی بات کر رہا تھا، تو کچھ لوگ ایئر کنڈیشنڈ کمروں (چیمبرز) میں بیٹھ کر سوچنے والے ہمیں بتا رہے تھے کہ گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کا کیا ہوگا۔ لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا نے گلوبلائزیشن بولنا ہی بند کر دیا ہے۔ جہاں سے گلوبلائزیشن کی آوازیں آتی تھیں، وہ بند ہو گئیں، سنائی نہیں دیتی ہیں۔”
انہوں نے کہا، "دنیا کا ہر ملک اپنے اپنے مسائل کے مزاج کی طرف بڑھا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس بحران کے دور میں کچھ لوگوں نے اپنا رعب دکھانے کے لیے وسائل کو ویپنائز (ہتھیار کے طور پر استعمال) کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ دنیا اپنے پاس جو کچھ بھی ہے، اسے ویپنائز کرنے میں لگی ہے۔ وسائل کا ویپنائزیشن، پیٹرول، ڈیزل، فرٹیلائزر، ادویات، ٹیکنالوجی کی چپس، اتنا ہی نہیں زمینی علاقوں کو بھی ویپنائز کیا جا رہا ہے۔”
یو این آئی ایف اے









