نئی دہلی، 15 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہفتے کے روز ملک کی جدوجہدِ آزادی میں وکلا کے تاریخی کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آزادی ملنے کے ساتھ قانون کے پیشے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کی نوعیت بدل گئی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کا قانون سے گہرا اور دیرپا تعلق رہا ہے۔ ملک کے عظیم ترین رہنماؤں اور جدید ہندوستان کے معماروں میں سے کئی قانون کے پیشے سے ہی وابستہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی حکومت کو چیلنج کرنے سے لے کر آزاد ہندوستان کے آئینی نقطہ نظر کو شرمندہ تعبیر کرنے اور انصاف کی رسائی ہر فرد، بالخصوص بے سہارا اور محروم طبقے تک یقینی بنانے کی ذمہ داری آج بھی وکلا پر ہے۔
مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا تحریکِ آزادی کے صرف تماشائی نہیں تھے، بلکہ اس کا اٹوٹ حصہ تھے۔ انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل، موتی لال نہرو، بال گنگادھر تلک، لالا لاجپت رائے، ڈاکٹر راجندر پرساد، نہرو، سی راجگوپال آچاری، چترنجن داس، بھولابھائی دیسائی، ایم جی راناڈے اور درگابائی دیشمکھ کی بے مثال خدمات کو بھی یاد کیا۔
یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ وکلا تحریکِ آزادی میں سب سے آگے کیوں رہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نوآبادیاتی حکومت کے خلاف لڑائی صرف سیاسی تحریکوں سے ہی نہیں، بلکہ عرضیوں، عوامی بحث و مباحثے اور قانون کی زبان سے بھی لڑی گئی تھی۔ وکلا کے پاس اپنی تربیت کی وجہ سے اصول و ضوابط سے آگے دیکھ کر یہ سوال کرنے کی صلاحیت تھی کہ آیا اقتدار کا استعمال اصولوں کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد اس ذمہ داری کی نوعیت بدل گئی اور اب اہم چیلنج آئینی تصور کو حقیقت میں بدلنا اور عدالت تک محروم طبقے کی آواز پہنچانا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج ذمہ داری اس آئینی وعدے کو زندہ رکھنے کی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے پاس اپنے حقوق کا دعویٰ کرنے کے وسائل یا آواز نہیں ہے۔ انہوں نے دفعہ 21 کی توسیعی تشریح کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح عدالتی تشریحات سے وقار، صاف ستھرے ماحول اور مفت قانونی امداد کے حقوق کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کام میں قانونی برادری کا اہم تعاون رہا ہے۔
نوجوان وکلا سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے شدید مسابقتی ماحول اور وکالت کی ابتدائی چیلنجز کو تسلیم کیا، لیکن ساتھ ہی ان کی علمی صلاحیت اور انصاف کے تئیں عزم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوجوان وکلا کو یاد دلایا کہ جدوجہدِ آزادی کے وقت سے بار کی اٹھائی گئی ذمہ داری جلد ہی ان کے کندھوں پر ہوگی۔ انہوں نے بار اور بینچ دونوں کی جانب سے نوجوان ارکان کو رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جو فاصلہ طے کرنا باقی ہے، وہ ان کا ہے اور پوری قانونی برادری ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گی۔










