سرینگر کا زیرِ زمین ڈرینیج نظام آخر ناکام کیوں ہو رہا ہے؟
سرینگر میں اب بارش کسی نعمت سے زیادہ ایک آزمائش بن چکی ہے۔ چند گھنٹوں کی تیز بارش ہوتی ہے اور شہر کی اہم شاہراہیں، سول لائنز، لال چوک، جہانگیر چوک، بٹہ مالو، رام باغ، کرن نگر، راجوری کدل، خانیار اور پائین شہر کے کئی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ پانی صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھروں، دکانوں اور سرکاری دفاتر میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ تو جموں و کشمیر سیکرٹریٹ کی نچلی منزل بھی زیرِ آب آگئی، جو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ مسئلہ اب معمولی نہیں بلکہ نظامی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
عوام کی بڑی تعداد اس صورتحال کا ذمہ دار سرینگر سمارٹ سٹی پروجیکٹ کو قرار دیتی ہے۔ اس کی بھی اپنی وجوہات ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں شہر کی سڑکیں کھودی گئیں، نئے ڈرینیج نیٹ ورک بچھائے گئے، کشادہ فٹ پاتھ تعمیر ہوئے، بجلی کی تاریں زیرِ زمین منتقل کی گئیں اور کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ لوگوں کو یقین دلایا گیا کہ ان منصوبوں کے بعد سرینگر جدید شہری سہولیات سے آراستہ ہو جائے گا۔ لیکن جب انہی علاقوں میں معمولی بارش کے بعد پانی جمع ہونے لگا تو سوال اٹھنا فطری تھا کہ آخر اتنی خطیر سرمایہ کاری کا نتیجہ کیا نکلا؟
تاہم حقیقت کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سرینگر میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ صرف سمارٹ سٹی منصوبے کے بعد پیدا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عوام کو امید تھی کہ سمارٹ سٹی منصوبہ اس دیرینہ بیماری کا مستقل علاج کرے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ یوں لوگوں کی مایوسی نے اس منصوبے کو تنقید کا سب سے آسان ہدف بنا دیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر زیرِ زمین ڈرینیج نظام بار بار ناکام کیوں ہو رہا ہے؟اس کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں جو نئی زیرِ زمین نالیاں اور پائپ بچھائے گئے، ان کی گنجائش بارش کے موجودہ حجم کے مطابق نہیں ہے۔ بعض مقامات پر پائپوں کی سطح قدرتی ڈھلان سے مطابقت نہیں رکھتی، جس کے باعث پانی اپنی رفتار سے آگے بڑھنے کے بجائے مختلف مقامات پر رک جاتا ہے۔ جب بارش کی شدت بڑھتی ہے تو پورا نظام دباؤ برداشت نہیں کر پاتا اور پانی واپس سڑکوں اور گھروں میں آنے لگتا ہے۔
دوسری اہم وجہ سرینگر کی بے ہنگم شہری توسیع ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شہر میں برساتی پانی قدرتی راستوں سے بہہ کر جھیلوں، دلدلی علاقوں اور ندی نالوں میں چلا جاتا تھا۔ نالہ مار، براری نمبل، دودھ گنگا، بمنہ کے دلدلی علاقے اور شہر کے اطراف موجود آبی ذخائر قدرتی اسفنج کا کردار ادا کرتے تھے۔ یہ بارش کا اضافی پانی جذب کر لیتے تھے اور شہر محفوظ رہتا تھا۔ لیکن گزشتہ پچاس برسوں میں ترقی کے نام پر انہی قدرتی آبی گزرگاہوں کو بند کر دیا گیا، دلدلی علاقوں پر کالونیاں تعمیر ہوئیں، ندی نالوں کو سڑکوں میں تبدیل کر دیا گیا اور شہر کا قدرتی ڈرینیج نظام تقریباً مفلوج ہو گیا۔ آج جب بارش ہوتی ہے تو پانی کے پاس بہنے کا قدرتی راستہ ہی موجود نہیں رہتا۔
تیسری وجہ دیکھ بھال کا فقدان ہے۔ زیرِ زمین نالیاں اور مین ہول سالہا سال تک صاف نہیں کیے جاتے۔ مون سون سے قبل بڑے پیمانے پر ڈی سلٹنگ ہونی چاہیے، لیکن اکثر یہ کام یا تو ہوتا ہی نہیں یا محض رسمی کارروائی تک محدود رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مٹی، پلاسٹک، کوڑا کرکٹ اور دیگر فضلہ پائپوں کو بند کر دیتا ہے۔ معمولی بارش بھی پورے نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ سرینگر کا موجودہ ڈرینیج نظام مکمل طور پر پمپنگ اسٹیشنوں پر منحصر ہو چکا ہے۔ ماضی میں پانی قدرتی ڈھلان کے ذریعے خود بخود نکل جاتا تھا، لیکن اب بیشتر برساتی پانی کو برقی موٹروں اور پمپوں کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے۔ اگر بجلی بند ہو جائے، جنریٹر میں ایندھن نہ ہو یا موٹر خراب ہو جائے تو چند ہی گھنٹوں میں پورا نظام جواب دے دیتا ہے۔ حالیہ بارشوں میں یہی منظر دیکھنے کو ملا جب متعدد پمپنگ اسٹیشن پوری صلاحیت سے کام نہیں کر سکے۔
اس تمام صورتحال میں سمارٹ سٹی منصوبے پر تنقید مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے تھے تو کیا شہر کے اصل مسئلے کو اولین ترجیح نہیں دی جانی چاہیے تھی؟ خوبصورت فٹ پاتھ، آرائشی لائٹس، سنگِ مرمر کی ٹائلیں اور تزئین و آرائش اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن جب انہی سڑکوں پر چند گھنٹوں کی بارش کے بعد کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو جائے تو شہری ان خوبصورتیوں سے لطف کیسے اندوز ہوں گے؟ سمارٹ شہر کی پہچان اس کی آرائش نہیں بلکہ اس کا مؤثر بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سمارٹ سٹی منصوبے کو قصوروار ٹھہرا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سرینگر کا ڈرینیج بحران نصف صدی کی غلط منصوبہ بندی، ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی، قدرتی آبی ذخائر کی تباہی، ناقص دیکھ بھال اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ اگر اس مسئلے کا مستقل حل مطلوب ہے تو محض نئی نالیاں بچھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ شہر کے قدرتی واٹر چینلز کو جہاں ممکن ہو بحال کرنا ہوگا، دلدلی علاقوں کو مزید تجاوزات سے بچانا ہوگا، نکاسیٔ آب کے پورے نظام کا سائنسی بنیادوں پر ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا، پمپنگ اسٹیشنوں کو جدید بنایا جائے، ہر سال باقاعدہ ڈی سلٹنگ کی جائے اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان واضح جوابدہی کا نظام قائم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے سمارٹ سٹی منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن اگر یہ محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوئی تو اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو ماضی کی کئی رپورٹوں کا ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہرین انجینئرنگ، شہری منصوبہ سازوں، ماحولیاتی ماہرین اور مقامی آبادی کی آرا کی روشنی میں ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے جو آئندہ پچاس برس کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہو، نہ کہ صرف اگلے چند برسوں کے لیے۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے کہ کیا کبھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ بارش کا پانی سڑکوں اور گھروں میں داخل ہونے کے بجائے اپنے قدرتی یا مصنوعی راستوں سے باہر نکل جائے گا؟ جواب مایوس کن نہیں ہے۔ دنیا کے بے شمار شہر سرینگر سے زیادہ بارش برداشت کرتے ہیں لیکن وہاں پانی چند منٹوں میں غائب ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں منصوبہ بندی سائنسی بنیادوں پر کی گئی، قدرتی آبی گزرگاہوں کا احترام کیا گیا اور بنیادی ڈھانچے کو نمائشی منصوبوں پر فوقیت دی گئی۔
لہٰذا سرینگر کے لیے بھی یہ کوئی دیوانے کا خواب نہیں، لیکن یہ خواب صرف اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب ہم سڑکوں کی خوبصورتی کے بجائے نکاسیٔ آب کو شہر کی ترقی کا بنیادی پیمانہ بنائیں۔ بصورتِ دیگر ہر بارش کے بعد سرینگر کی سڑکیں ہمیں یہی یاد دلاتی رہیں گی کہ اصل مسئلہ زمین کے اوپر نہیں بلکہ زمین کے نیچے دفن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔




