پاکستان انتخابی عمل کی آڑ میں خطے میں شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے:وزارت خارجہ
’اسلام آباد کی اس طرح کی کھوکھلی مشقیں زمینی حقیقت کو نہیں چھپا سکتیں‘عوام میں بے چینی کا جواب گولی سے دیا جارہا ہے‘
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
نئی دہلی؍ ۴ ؍اگست
بھارت نے منگل کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میںاسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ’مکمل ڈھونگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان انتخابی عمل کی آڑ میں خطے میں شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں ہونے والے یہ ’نام نہاداسمبلی انتخابات‘وہاں جاری عوامی احتجاج اور پاکستانی فورسز کی جانب سے شہریوں کے اندھا دھند قتل کی حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔
جیسوال نے کہا ’’پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں ہونے والے یہ نام نہاد اسمبلی انتخابات مکمل ڈھونگ ہیں۔ اصل حقیقت عوامی احتجاج اور پاکستانی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے اندھا دھند قتل کی ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی مشقیں زمینی حقیقت کو نہیں چھپا سکتیں‘‘۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ مہینوں میں کریک ڈاؤن میں مزید شدت آئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’رواں سال جون سے اب تک جاری کارروائیوں میں کم از کم ۹۰ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘‘
جیسوال نے الزام لگایا کہ پاکستان انتخابات کا سہارا لے کر اپنے اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا، ’’پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے عوامی بے چینی کا جواب گولیوں، بلیک آؤٹ، دھونس اور جبر سے دیا ہے اور اب ایک کھوکھلی انتخابی مشق کے ذریعے قانونی حیثیت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اس کے اقدامات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
جیسوال نے کہا، ’’پاکستان کو جواب دہ بنایا جانا چاہیے اور دنیا کو انسانی حقوق کے بارے میں پاکستان کی منافقانہ تقاریر کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔‘‘
اس موقع پروزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ان بیانات پر بھی ردعمل ظاہر کیا جن میں انہوں نے طالبان حکومت کے بھارت کے ساتھ بڑھتے روابط پر تنقید کی تھی۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو ’’کافروں‘‘ سے دوستی نہیں کرنی چاہیے اور سوال اٹھایا تھا کہ کابل بھارت کے ساتھ تعلقات کیوں بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان کے تعلقات کو ’’آقا اور غلام‘‘ کا رشتہ قرار دیتے ہوئے بھارت پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جیسوال نے کہا، ’’اس قسم کے بیانات بھارت اور افغانستان کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کے بارے میں پاکستان کی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘
وزارتِ خارجہ کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مہنگائی، بجلی کے بلند نرخوں اور بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا دعویٰ ہے کہ ۲۷ جولائی کو راولاکوٹ کی جانب مارچ کرنے والے پرامن مظاہرین کو روکنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان پر فائرنگ کی، جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جے اے اے سی سے وابستہ مسلح مظاہرین نے پہلے پولیس پر حملہ کیا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کارروائی کی۔
امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اسمبلی انتخابات، جو پہلے ایک ہی مرحلے میں ہونے تھے، تین مرحلوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ آخری مرحلے کی پولنگ ۱۰ اگست کو مقرر ہے۔
پاکستان کی جانب سے ہندوستان کی سرحد کے قریب ہویٹزر توپیں تعینات کیے جانے سے جڑے سوال پر انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور میں سبھی نے ہندستانی افواج کی بہادری دیکھی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی پوری طرح بند ہو اور ہندوستان قومی مفاد میں ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی افواج ہر صورت حال میں تیار رہتی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندوستان سرحد پار دہشت گردی کی مخالفت کرتا رہا ہے اور ہندوستان تمام ممالک سے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کہتا رہا ہے جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس کی زمین پر جو دہشت گردانہ ڈھانچے ہیں ان کے خلاف قدم اٹھا کر انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔
ادھر پریس بریفنگ کے دوران سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے بھارت سے پریس کانفرنس کیے جانے سے متعلق سوال پر رندھیر جیسوال نے کہا، ’’اس معاملے میں حکومتِ ہند کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ ایک نجی میڈیا ادارے کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے۔‘‘
جیسوال نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ڈھاکہ نے بھی کہا ہے کہ بھارت کو اپنی سرزمین بنگلہ دیش میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔









