معاف کیجیے، ہم کہنا چاہتے ہیں کہ شرم ان کو مگر نہیں آتی، اور بالکل بھی نہیں آتی۔ بھئی، سیاست دان ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے، کہ آپ کچھ بھی کہہ دیں …….کچھ بھی؟ آپ کی زبان پر جو بھی اور جیسے بھی الفاظ آئیں، آپ انہیں ادا کریں …….وہ بھی اپنے گھر کی چار دیواری میں نہیں، تنہائی میں نہیں، بلکہ کیمرے پر، سوشل میڈیا پر؟حالیہ کچھ دنوں سے دو سیاسی جماعتیں‘جن میں سے ایک ضلع کپوارہ کے ایک اسمبلی حلقے تک محدود ہے، جبکہ دوسری تین چار حلقوں تک سمٹ گئی ہے‘ایک دوسرے کے خلاف جو زبان اور جو لہجہ استعمال کر رہی ہیں، ہم تو صاحب ایک ہی بات کہیں گے کہ انہیں شرم آتی ہے یا نہیں، لیکن ہمیں ضرور آتی ہے ……. ان کے اس لب و لہجے پر آتی ہے۔مانتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ سیاست دان ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں، ضرور کرتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو ذلیل و خوار نہیں کرتے۔ یہ وار تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن نہ جانے ان دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ جب تک وہ اپنا لب و لہجہ جارحانہ نہیں رکھیں گے، جب تک وہ کچھ ناپسندیدہ اور غیر شائستہ الفاظ ادا نہیں کریں گے، ان کا حریف وہ سب نہیں سمجھے گا جو یہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان دونوں سیاسی جماعتوں میں تو ایک صاحب‘جو، اللہ میاں کی قسم، بیگانی شادی میں شیخ‘معاف کیجئے عبداللہ دیوانہ بنے ہوئے ہیں‘تمام حدیں پار کر رہے ہیں، اور بڑی ڈھٹائی سے کر رہے ہیں۔ کمال جرأت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ ان جناب کا ماضی اور حال ان کے حریف سیاست دانوں سے بھی زیادہ متنازع اور داغ دار ہے۔ یہ صاحب خود دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں، لیکن جب یہ اپنا منہ کھولتے ہیں اور کچھ بولتے ہیں تو اس انداز سے بولتے ہیں جیسے یہ زم زم کا پانی نہ صرف پیتے ہوں بلکہ اسی سے نہاتے بھی ہوں۔حریف سیاست دانوں اور حریف سیاسی جماعتوں کو آپ نشانہ بنائیے، ضرور بنائیے، کیونکہ سیاست اس کے بغیر نہیں ہو سکتی، بالکل بھی نہیں ہو سکتی۔ لیکن صاحب حدِ ادب میں رہ کر بھی سیاست کی جا سکتی ہے، اور کی جاتی ہے۔ جو اس حد کو پھلانگ دے، اس کا تو ہم کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ …….شرم تم کو مگر نہیں آتی!ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔





