اپنے وزیر اعلیٰ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں……. مدتوں بعد انہوں نے کوئی صحیح بات کی ہے، ورنہ اللہ میاں کی قسم، آج کل تو ہمیں ان کی باتیں سمجھ ہی نہیں آ رہی ہیں……. لاکھ کوششوں کے بعد بھی نہیں آ رہی ہیں……. لیکن ان کی یہ والی بات ہم سمجھ گئے ہیں، یہ ہماری اس ناسمجھ سمجھ میں آ گئی ہے اور سو فیصد آ گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے لداخ کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرے……. وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ مرکز لداخ کی قیادت سے کچھ بھی کہے، انہیں دن میں ہی سپنے……. حسین و جمیل سپنے دکھائے، لداخ کی قیادت یہ سپنے دیکھے، دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن……. لیکن ان پر بھروسہ نہ کرے……. اُس وقت تک بھروسہ نہ کرے جب تک مرکز اسے لکھ کر نہ دے، مرکزی حکومت اسے ان سپنوں کو حقیقت میں بدلنے کی تحریری یقین دہانی نہ کرائے……. وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ تب تک لداخ کی قیادت کسی یقین دہانی پر بھروسہ نہ کرے اور……. اور بالکل بھی نہ کرے۔اب آپ پوچھیں گے کہ اپنے وزیر اعلیٰ نے لداخ کی قیادت کو یہ بات کیوں کہی، اسے یہ مشورہ کیوں دیا……. وہ بھی تب جب لداخ کی قیادت نے ان سے کوئی مشورہ نہیں مانگا تھا۔ اور یہ بھی اہم ہے کہ کیا لداخ کی قیادت بھی ایسا ہی سوچتی اور سمجھتی ہے جیسا کہ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ سوچتے ہیں اور سمجھتے ہیں؟یہ تو صاحب ہمیں نہیں معلوم، لیکن……. لیکن اگر وزیر اعلیٰ، ہمارے وزیر اعلیٰ نے اسے ایسا کہا ہے تو……. تو اسے آنکھیں بند کرکے ان کی اس بات پر عمل کرنا چاہئے……. اس لئے نہیں کہ وزیر اعلیٰ نے لداخ کی قیادت کو کسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر ایسا مشورہ دیا ہے……. نہیں صاحب، اس لئے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اس لئے کہ وزیر اعلیٰ……. جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی ایک سیاستدان ہیں اور……. اور ان سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی زبان کا کوئی بھروسہ نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ اس لئے ان کی کہی ہوئی بات پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہئے……. بالکل بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔اور یہ ایک بات اپنے وزیر اعلیٰ نے بالکل صحیح کہی ہے کہ پورا کشمیر اس سے اتفاق کرے گا، اس کی گواہی دے گا کہ سیاستدانوں کی باتوں پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے……. بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہے نا؟




