ہفتہ, اگست 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

آزادی کا سفر اور کشمیر کا بدلتا منظرنامہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-15
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

آج ہفتہ ۱۵ ؍اگست کو بھارت اپنا ۸۰واں یومِ آزادی منا رہا ہے۔ یہ ایک ایسے قومی سفر کا سنگِ میل ہے جس میں غلامی سے آزادی، تقسیم سے تعمیرِ نو، غربت سے ترقی، اور انتشار کے خدشات سے جمہوری استحکام تک کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ یومِ آزادی دراصل ہر سال قوم کو یہ یاد دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ آزادی کسی حکومت یا نسل کی ملکیت نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔

۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو بھارت نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی تو اس کے سامنے مسائل کی ایک طویل فہرست تھی۔ ملک تقسیم کے زخموں سے لہولہان تھا، لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے تھے، معاشی حالت انتہائی کمزور تھی اور مختلف ریاستوں کو ایک مضبوط وفاقی ڈھانچے میں جوڑنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس کے باوجود بھارت نے جمہوریت، آئین، مذہبی و لسانی تنوع اور بالغ رائے دہی کو اپنی قومی تعمیر کی بنیاد بنایا۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں ملک نے جن شعبوں میں پیش رفت کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آزادی صرف اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک قوم کی اپنی سمت متعین کرنے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔

یومِ آزادی کی اصل معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب جشن کے ساتھ خود احتسابی بھی ہو۔ قومی پرچم لہرانا اور حب الوطنی کے نعرے لگانا یقیناً ضروری ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ آزادی کے ثمرات معاشرے کے آخری فرد تک کس حد تک پہنچے ہیں۔ کیا ہر شہری کو مساوی مواقع حاصل ہیں؟ کیا نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور باعزت روزگار میسر ہے؟ کیا خواتین، اقلیتیں، محروم طبقات اور کمزور معاشی پس منظر رکھنے والے لوگ اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ کیا اختلافِ رائے کو جمہوریت کی طاقت سمجھا جاتا ہے یا اسے کمزوری تصور کیا جاتا ہے؟ یہی سوال یومِ آزادی کو محض ایک رسمی تقریب سے حقیقی قومی احتساب میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ

 کشمیر کی بدلتی تصویر اور ہر گھر ترنگا

پارلیمنٹ کا تعطل، جمہوریت کا نقصان                

بھارت آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، اس کی سفارتی اہمیت بڑھی ہے، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور بنیادی ڈھانچے سے لے کر ڈیجیٹل خدمات تک کئی شعبوں میں ملک نے بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ لیکن ترقی کی رفتار کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ بڑے شہروں کی تصویر کتنی تبدیل ہوئی بلکہ یہ ہے کہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے عام شہری کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔ آزادی کا مطلب صرف بیرونی اقتدار سے نجات نہیں، بلکہ غربت، جہالت، بے روزگاری، امتیاز اور خوف سے بھی آزادی ہے۔ اسی وسیع مفہوم میں یومِ آزادی کی روح کو سمجھنا ہوگا۔

کشمیر کے لیے اس دن کی معنویت اس سے بھی زیادہ گہری ہے۔ ایک طویل عرصے تک وادی نے تشدد، دہشت گردی، سیاسی بے یقینی، ہڑتالوں اور خوف کے ایک ایسے دور کا سامنا کیا جس نے عام زندگی کو شدید متاثر کیا۔ اس عرصے میں کئی نسلوں کی تعلیم متاثر ہوئی، کاروبار کو نقصان پہنچا، سیاحت بار بار بحران کا شکار ہوئی اور نوجوانوں کے ذہنوں میں مستقبل کے بارے میں بے یقینی پیدا ہوئی۔ اس لیے کشمیر میں یومِ آزادی کا جشن صرف ایک قومی دن کی تقریب نہیں بلکہ امن، معمول کی زندگی اور بہتر مستقبل کی امید سے بھی جڑا ہوا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد شعبوں میں واضح تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ سڑکوں، سرنگوں، بجلی، صحت، تعلیم، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ بڑھی ہے۔ سرکاری سطح پر اس سال بھی سری نگر، جموں اور ضلع، تحصیل، بلاک اور پنچایت سطح تک یومِ آزادی کی تقریبات کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ ۲۴ جولائی کو چیف سیکریٹری کی زیر صدارت اجلاس میں پورے جموں و کشمیر میں ۸۰ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ انتظامی سرگرمی اس بات کا اشارہ ہے کہ قومی تقریبات اب محض بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی سطح تک لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تاہم کشمیر کے تناظر میں اصل امتحان یہ ہے کہ ترقی کے ساتھ اعتماد اور شمولیت کا احساس بھی کتنا مضبوط ہوتا ہے۔ کسی بھی خطے میں پائیدار امن صرف سڑکیں بنانے یا سکیورٹی انتظامات سخت کرنے سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشی مواقع، سیاسی شمولیت، انصاف، اداروں پر اعتماد اور نوجوانوں کے لیے امید کا ماحول بھی ضروری ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کو محض روزگار کے اعدادوشمار نہیں بلکہ یہ یقین درکار ہے کہ ان کی صلاحیتیں، خواب اور آواز ملک کے وسیع تر مستقبل میں اہمیت رکھتی ہیں۔

یہاں قومی یکجہتی کا مفہوم بھی خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ کشمیر کی شناخت، زبان، ثقافت، مذہبی روایات اور تاریخی ورثہ ہندوستان کی مجموعی تہذیبی تصویر کا حصہ ہیں۔ قومی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خطے کی انفرادیت ختم کردی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ مختلف شناختیں ایک بڑے آئینی اور قومی دائرے میں باوقار انداز سے پروان چڑھیں۔ کشمیر کے بارے میں قومی سوچ جتنی زیادہ اعتماد، مکالمے اور ترقی پر مبنی ہوگی، اتنا ہی مضبوط رشتہ قائم ہوسکے گا۔

یومِ آزادی ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ملک صرف حکومتوں سے نہیں بنتے، شہریوں سے بنتے ہیں۔ آزادی کے تحفظ میں فوج، پولیس، کسان، مزدور، استاد، ڈاکٹر، تاجر، صحافی، سائنس دان اور عام شہری سب کا کردار ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنے والا سپاہی جس آزادی کو محفوظ رکھتا ہے، شہری اپنی ذمہ داری، قانون کی پاسداری، ایماندارانہ محنت اور دوسروں کے حقوق کے احترام سے اسی آزادی کو مضبوط بناتے ہیں۔ اسی لیے قومی پرچم کے سامنے کھڑے ہوکر ہم صرف ماضی کے شہیدوں کو سلام نہیں کرتے بلکہ اپنے کردار کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

اس سال کی تقریبات میں نوجوانوں کی طاقت اور ۲۰۴۷ تک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کو نمایاں کیا جارہا ہے۔ یہ توجہ بلاشبہ بروقت ہے، کیونکہ بھارت کی آبادی کی بڑی طاقت نوجوان نسل ہے۔ لیکن نوجوان طاقت اسی وقت قومی سرمایہ بنتی ہے جب اسے تعلیم، ہنر، روزگار، تحقیق، اظہار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہوں۔ کشمیر کے نوجوان اس قومی منصوبے کا برابر حصہ ہیں اور ان کی کامیابی کو بھی بھارت کی کامیابی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

آج جب ہم ۸۰ویں یومِ آزادی کی دہلیز پر کھڑے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کے جشن کو ماضی کی یاد تک محدود نہ کیا جائے۔ یہ دن ہمیں مستقبل کے بھارت کا خواب دیکھنے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور انہیں دور کرنے کا عزم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کشمیر کے لیے اس خواب میں سب سے اہم عنصر پائیدار امن، معاشی خوشحالی، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔

آزادی کی اصل حفاظت سرحد پر ہی نہیں ہوتی؛ یہ اسکول میں بھی ہوتی ہے، عدالت میں بھی، بازار میں بھی، پارلیمان میں بھی اور عام شہری کے رویے میں بھی۔ بھارت نے آزادی کے ۷۹ برسوں میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اب ۸۰ویں یومِ آزادی کا تقاضا یہی ہے کہ ملک اپنی کامیابیوں پر فخر ضرور کرے، مگر چیلنجوں سے آنکھ نہ چرائے۔

کشمیر کی خوشحالی، اس کے لوگوں کا اعتماد اور یہاں کے نوجوانوں کا محفوظ و روشن مستقبل اسی قومی عزم کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ یہی یومِ آزادی کے پرچم کو حقیقی معنی دینے کا راستہ ہے، اور یہی ان لوگوں کی قربانیوں کے ساتھ انصاف بھی ہے جنہوں نے ایک آزاد، جمہوری اور متحد ہندوستان کا خواب دیکھا تھا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی

Next Post

یوم آزادی اور ہر گھر ترنگا !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

 کشمیر کی بدلتی تصویر اور ہر گھر ترنگا

2026-08-13
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

پارلیمنٹ کا تعطل، جمہوریت کا نقصان                

2026-08-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کانی شال کا اعزاز لیکن دستکار کی محنت کا معاوضہ؟                

2026-08-11
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر میں ترقی کی رفتار اور عام آدمی کی زندگی                

2026-08-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

شہباز شریف:پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیجئے!                

2026-08-08
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

دیوانے کا خواب یا قابلِ حصول حقیقت؟

2026-08-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

 ۵؍اگست:سات سال بعد

2026-08-05
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جموںکشمیر اور نشہ مکت بھارت کا خواب

2026-08-04
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

یوم آزادی اور ہر گھر ترنگا !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.