جموں و کشمیر میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بالخصوص وادیٔ کشمیر میں، جہاں ماضی میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد انتہائی کم یا تقریباً نہ ہونے کے برابر بتائی جاتی تھی، ان کی موجودہ تعداد میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جموں خطے میں 6737 روہنگیا اور 46 بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں، جبکہ وادیٔ کشمیر میں روہنگیا کی تعداد 919 اور بنگلہ دیشی شہریوں کی تعداد 458 تک پہنچ چکی ہے۔ بظاہر یہ اضافہ گزشتہ تین چار برسوں میں بہت زیادہ نہیں ہوا، لیکن مسئلے کی سنگینی صرف تعداد میں اضافے سے نہیں بلکہ ان افراد کے جغرافیائی پھیلاؤ سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جو غیر قانونی تارکینِ وطن کبھی صرف جموں اور سانبہ کے علاقوں تک محدود تھے، وہ اب جموں خطے کے تقریباً تمام دس اضلاع اور وادیٔ کشمیر کے چھ اضلاع تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ صورت حال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ جموں و کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک غیر معمولی نوعیت کے امن و امان کے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی، سرحد پار دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی اسلحے کی ترسیل اور تخریبی سرگرمیوں نے اس خطے کی سلامتی کو مسلسل حساس بنائے رکھا ہے۔ ایسے میں ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی شناخت، ان کے پس منظر کی جانچ اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا کسی بھی حکومت اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ کسی فرد کے خلاف محض اس کی قومیت یا مذہب کی بنیاد پر بدگمانی درست نہیں، لیکن غیر قانونی داخلہ بذاتِ خود قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس کے قانونی نتائج سے صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کشمیر میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی غیر معمولی نقل و حرکت کے بارے میں ابتدائی سطح پر ہی مکمل معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ برسوں کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب کسی سرگرمی، نقل و حرکت یا مشتبہ نیٹ ورک پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بعد میں اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ غیر قانونی طور پر یہاں قیام پذیر افراد کی باقاعدہ شناخت اور ان کے پس منظر کی جانچ نہ صرف انتظامی ضرورت ہے بلکہ سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی اہم ہے۔
اس معاملے میں سب سے ضروری چیز ایک واضح، شفاف اور قانون کے مطابق طریقۂ کار ہے۔ ہر شخص جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوا ہے، اس کی شناخت کی جائے، اس کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ کی جائے، اس کے داخلے کے راستے اور سابقہ رہائش کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں اور اگر اس کے خلاف کوئی مجرمانہ یا مشتبہ سرگرمی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر مکمل جانچ کے بعد یہ ثابت ہوجائے کہ متعلقہ شخص غیر قانونی تارک وطن ہے اور اسے ملک میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، تو اس کی ملک بدری کے لیے مقررہ قانونی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
حالیہ دنوں میں رام بن کے بانہال علاقے میں 21 بنگلہ دیشی شہریوں کی گرفتاری اور ان کے لیے ہولڈنگ سینٹر میں قیام کا انتظام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انتظامیہ اب اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ منظم طریقہ اختیار کررہی ہے۔
یہاں حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایک اور پہلو پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی، اور وہ ہے مزید غیر قانونی داخلے کی روک تھام۔ صرف ان افراد کو شناخت کرکے ملک بدر کردینا کافی نہیں جو پہلے ہی جموں و کشمیر میں پہنچ چکے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ راستے بند کیے جائیں جن کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل ہوکر مختلف ریاستوں اور بالآخر جموں و کشمیر تک پہنچتے ہیں۔ اگر سرحدی اور داخلی نگرانی میں خامیاں موجود رہیں تو ایک گروہ کی ملک بدری کے بعد دوسرا گروہ اسی طریقے سے داخل ہوسکتا ہے۔ اس لیے سرحدی نگرانی، سفری دستاویزات کی جانچ، شناختی نظام اور بین الریاستی معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔
غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے کو انسانی پہلو سے بھی متوازن انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوا ہو لازماً دہشت گرد یا مجرم نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو ایک ہی نظر سے دیکھنا مناسب ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی حساس خطے میں ایسے افراد کی موجودگی، جن کے پس منظر، داخلے کے ذرائع اور سرگرمیوں کے بارے میں ریاستی اداروں کے پاس مکمل معلومات نہ ہوں، سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے احتیاط اور نگرانی کو تعصب یا اجتماعی الزام تراشی کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
کشمیر کی آبادی، سماجی توازن اور امن و امان کے تناظر میں غیر قانونی طور پر آباد کاری کے کسی بھی رجحان پر بروقت توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی برائے ڈیموگرافک تبدیلیاں اگر جموں کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے غیر قانونی تارکین وطن کی بستیوں کا جائزہ لے رہی ہے تو اس اقدام کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ مسئلے کی حقیقت کو زمینی سطح پر سمجھا جائے اور اس کے لیے پائیدار پالیسی مرتب کی جائے۔ اس عمل میں اعداد و شمار کی درستگی، شفافیت اور سیاسی یا جذباتی مداخلت سے پاک جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس مسئلے پر واضح پالیسی کے ساتھ آگے بڑھے۔ جو افراد غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں، ان کی مکمل شناخت کی جائے، ان کے ریکارڈ کی تصدیق کی جائے، مشکوک یا مجرمانہ سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور جن کے پاس ملک میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں، ان کی قانون کے مطابق ملک بدری یقینی بنائی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ مقامی سطح پر کوئی ایسا نیٹ ورک تو موجود نہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کو رہائش، روزگار، شناخت یا نقل و حرکت میں غیر قانونی سہولت فراہم کررہا ہو۔
جموں و کشمیر نے گزشتہ تین دہائیوں میں امن کے لیے جو قیمت ادا کی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کسی بھی نئے سکیورٹی چیلنج کو ابتدا ہی میں سنجیدگی سے لینا دانش مندی ہوگی۔ روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی کا مسئلہ اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ نہ غیر ضروری خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی آنکھیں بند کرنے کی۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ قانون نافذ ہو، شناخت مکمل ہو، نگرانی مؤثر ہو، سرحدیں محفوظ ہوں اور غیر قانونی طور پر قیام پذیر افراد کی قانونی طریقے سے واپسی یقینی بنائی جائے۔





