جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے بجلی کے بلوں کی صورت میں ایک اور بوجھ اٹھانا ہوگا۔ مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن نے مالی سال ۲۰۲۶۔۲۷ کیلئے بجلی کے نئے خوردہ نرخوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں اوسطاً ۶ء۸۳ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ شاید اتنا بڑا محسوس نہ ہو، خصوصاً اس حکومتی وضاحت کے تناظر میں کہ اگر بجلی کے شعبے کا پورا مالی خسارہ صارفین سے وصول کیا جاتا تو نرخوں میں تقریباً ۴۰ فیصد تک اضافہ کرنا پڑتا۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی اور گرانٹس کے ذریعے ۲۴۲۰ء۷۸ کروڑ روپے کا فرق پورا کرنے کا فیصلہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن عام صارف کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ نرخوں میں ۷ فیصد اضافہ ہوا یا ۴۰ فیصد، اصل سوال یہ ہے کہ جس حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، اس کے دورِ اقتدار میں بجلی سستی ہونے کے بجائے مزید مہنگی کیوں ہو رہی ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس نے موجودہ فیصلے کو محض ایک انتظامی یا مالی معاملہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سیاسی مسئلہ بھی بنا دیا ہے۔ بی پی ایل خاندانوں اور چھوٹے زرعی صارفین کے لیے رعایتی نرخ برقرار رکھے گئے ہیں، جو ایک مثبت پہلو ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گھریلو بجٹ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں بجلی کے بل میں معمولی سا اضافہ بھی کم آمدنی والے خاندان کے لیے معمولی نہیں رہتا۔
جموں و کشمیر میں بجلی کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ بجلی کی پیداوار، خرید، ترسیل، تقسیم، لائن لاسز، چوری، واجبات اور مالی خسارے کا ایک طویل سلسلہ ہے جس نے اس شعبے کو مسلسل مشکلات میں رکھا ہے۔ جے ای آر سی کا یہ کہنا اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کہ اگر پورا خسارہ صارفین پر ڈال دیا جاتا تو ٹیرف میں تقریباً ۴۰ فیصد اضافہ کرنا پڑتا اور اس سے ایک غیر معمولی ’’ٹیرف شاک‘‘ پیدا ہوتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ خسارہ مسلسل کیوں بڑھ رہا ہے؟ اس خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا بنیادی اصلاحات کی گئیں؟ بجلی چوری روکنے، لائن لاسز کم کرنے، وصولی بہتر بنانے اور تقسیم کے نظام کو مؤثر بنانے میں کتنی کامیابی حاصل ہوئی؟ اور سب سے اہم، صارفین سے بار بار زیادہ قیمت وصول کرنے کے بجائے بجلی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کیا ہے؟
عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ اگر اضافہ نہ کیا جاتا تو نرخ ۴۰ فیصد بڑھتے۔ عوام یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ موجودہ ۶ء۸۳ فیصد اضافے کے بعد انہیں کیا بہتر سہولت ملے گی۔ کیا بجلی کی فراہمی زیادہ قابل اعتماد ہوگی؟ کیا غیر اعلانیہ کٹوتیوں میں کمی آئے گی؟ کیا وولٹیج کے مسائل حل ہوں گے؟ کیا خراب ٹرانسفارمر جلد تبدیل ہوں گے؟ کیا شکایات کے ازالے کا نظام بہتر ہوگا؟ اگر قیمت بڑھ رہی ہے تو اس کے مقابلے میں خدمت کا معیار بھی بہتر ہونا چاہیے۔
لیکن اس پورے معاملے کا سب سے دلچسپ اور شاید سب سے زیادہ قابلِ غور پہلو نیشنل کانفرنس کی خاموشی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔یہ سیاسی ردعمل اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن اصل توجہ نیشنل کانفرنس کے طرزِ عمل پر ہونی چاہیے۔ حکمران جماعت کو اس فیصلے کے دفاع میں سامنے آنا چاہیے تھا۔ اگر نرخوں میں اضافہ واقعی مالی مجبوری کے باعث ضروری تھا تو نیشنل کانفرنس کو عوام کو یہ سمجھانا چاہیے تھا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا، اس کے متبادل کیا تھے اور اس کے باوجود صارفین پر بوجھ کم رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ لیکن خاموشی نے معاملے کو مزید مشکوک اور سیاسی طور پر زیادہ نقصان دہ بنا دیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی وعدہ کوئی معمولی سیاسی جملہ نہیں ہوتا۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ان وعدوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ اگر کوئی جماعت اقتدار میں آ کر یہ محسوس کرے کہ حالات ایسے ہیں کہ کسی وعدے پر عمل درآمد فوری طور پر ممکن نہیں تو اسے خاموش رہنے کے بجائے عوام کو سچ بتانا چاہیے۔ اسے کہنا چاہیے کہ ہم نے وعدہ کیا تھا، لیکن مالی حالات، بجلی کے شعبے کے خسارے اور دیگر مجبوریوں کے باعث فی الحال اس پر مکمل عمل درآمد ممکن نہیں۔ یہ اعتراف شاید سیاسی طور پر مشکل ہو، لیکن کم از کم عوام کے ساتھ دیانت داری تو ہوگی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھائے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے پہلے مفت بجلی کا وعدہ کیا تھا اور اب نرخ بڑھانے کے فیصلے پر اس کی خاموشی عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر رہی ہے کہ آخر انتخابی وعدے کی حیثیت کیا ہے؟
حکمران جماعت اگر سمجھتی ہے کہ حکومت نے درست فیصلہ کیا ہے تو اسے کھل کر اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ اگر اسے لگتا ہے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے حکومت سے وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ لیکن مکمل خاموشی نہ حکومت کے لیے اچھی ہے اور نہ پارٹی کے لیے۔ اس خاموشی سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے ہی انتخابی وعدے اور موجودہ حکومتی فیصلے کے درمیان موجود تضاد کا سامنا کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
خاص طور پر اس لیے کہ ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کا وعدہ نیشنل کانفرنس کے انتخابی منشور کا ایک نمایاں حصہ تھا۔ تقریباً دو سال بعد بھی جب یہ وعدہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس کے برعکس بجلی کے نرخوں میں اضافہ سامنے آ گیا ہے تو عوام سوال ضرور کریں گے۔ ان سوالات سے بچنے کے بجائے ان کا جواب دینا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔
جموں و کشمیر کے عوام مفت بجلی کے وعدے کو بھولے نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ یہ بھولے ہیں کہ یہ وعدہ کس سیاسی جماعت نے کیا تھا۔ اگر حالات نے حکومت کو اس وعدے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے تو اسے عوام کے سامنے آنا چاہیے، اپنی مجبوری بیان کرنی چاہیے اور ایک واضح ٹائم فریم دینا چاہیے۔ سیاست میں وعدہ پورا نہ ہو پانا شاید کبھی کبھی ناگزیر ہو، لیکن وعدے سے فرار اور اس پر خاموشی اختیار کرنا عوامی اعتماد کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
بجلی کے نرخوں میں ۶ء۸۳ فیصد اضافہ شاید اعداد و شمار کی زبان میں ایک محدود اضافہ ہو، مگر سیاست کی زبان میں یہ ایک بڑا سوال ہے۔ یہ سوال صرف بجلی کے بل کا نہیں، وعدے اور کارکردگی کے درمیان فاصلے کا ہے۔
اور اس سوال کا جواب صرف حکومت کو نہیں، نیشنل کانفرنس کو بھی دینا ہوگا۔کیونکہ عوام نے ووٹ بجلی کے بل میں اضافے کے لیے نہیں، وعدوں کی تکمیل کی امید میں دیا تھا۔





