’وردی طاقت کی نہیں، خدمت اور ذمہ داری کی علامت ہے، افسران سچائی، فرض شناسی، ہمدردی کو اپنا شعار بنا لیں‘
سری نگر؍۱۸ستمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو لوک بھون سری نگر میں جموں و کشمیر پولیس گزیٹڈ سروسز کے لیے نئے منتخب امیدواروں کو تقرری کے خطوط حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری محض سرکاری ملازمت نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت اور حفاظت کی دعوت ہے۔
نئے منتخب افسران سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تقرری کے یہ خطوط پورے جموں و کشمیر کے عوام کے اعتماد کی ذمہ داری اپنے اندر رکھتے ہیں اور یہ عوام کی سلامتی، عزت اور مستقبل کے تحفظ کے عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’میں اسے محض تقرری کا خط نہیں سمجھتا بلکہ اسے خدمت کی دعوت سمجھتا ہوں۔ یہ دعوت جموں و کشمیر کی سلامتی کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ ہے۔ یہ ایک وعدہ بھی ہے کہ عوام کی سلامتی، عزت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ کام کیا جائے گا۔‘‘
ایل جی نے منتخب امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک سخت انتخابی عمل کامیابی سے مکمل کیا ہے، جس میں ان کی ذہانت، صبر، کردار، نظم و ضبط اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پرکھا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپ نے اپنی نسل کے باصلاحیت نوجوانوں کے درمیان سخت مقابلے کا سامنا کیا۔ آپ ایک ایسے مشکل عمل سے گزرے جس نے نہ صرف آپ کی ذہانت بلکہ صبر، کردار، نظم و ضبط اور نامساعد حالات کا سامنا کرنے کی قوت کو بھی پرکھا۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ تقرری کا خط ملنا ’’سفر کا اختتام نہیں‘‘ بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے، جس میں ذمہ داری ذاتی کامیابی سے بڑھ کر دوسروں کے تحفظ، عوام کی خدمت اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
سنہا نے کہا، ’’آپ ایک نئے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں۔ اب آپ کو ایسی جدوجہد میں داخل ہونا ہے جس کا مقصد اپنے لیے کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے تحفظ، عوام کی خدمت اور جموں و کشمیر میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے حالیہ برسوں میں اپنے انتخابی عمل میں غیر جانب داری، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایک ایسے وقت میں جب اداروں پر کئی مرتبہ شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی غیر جانب داری اور اعتماد کا تحفظ ایک مقدس چراغ کی طرح ہے۔‘‘
سرکاری بھرتیوں کے سابقہ نظام کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اب میرٹ کی بنیاد پر روزگار ایک مستحکم روایت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا، ’’مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہاں پہلے کیا ہوتا تھا۔ آپ کو ملازمت کیسے ملتی تھی؟ اس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہاں بیٹھے لوگ اس کتاب کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اب ایسا نظام قائم کیا گیا ہے جہاں سرکاری ملازمت امیدوار کی قابلیت، محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر حاصل کی جا سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے۲۰۲۲کے جموں و کشمیر ایمپلائمنٹ فیسٹیول کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں یہ یقین پیدا ہونا شروع ہوا کہ عام اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے بھی سرکاری افسر بننے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’مجھے یاد ہے کہ۲۰۲۲میں جموں و کشمیر ایمپلائمنٹ فیسٹیول منعقد ہوا تھا۔ اس وقت پہلی مرتبہ لوگوں نے کہا کہ سبزی فروش کا بیٹا بھی کے اے ایس افسر بن سکتا ہے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ایک والد اپنے بیٹے کو سرکاری افسر بنتے دیکھ سکتا ہے اور شاید ایک طویل عرصے کے بعد ایسا نظام قائم ہوا ہے۔سنہا نے کہا کہ بھرتی سفارش کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل کے لیے جے کے پی ایس سی کو ایک بار پھر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں ملازمت سفارش سے نہیں بلکہ نوجوان کی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر حاصل ہوگی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نئے منتخب افسران سے کہا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ان کی ذمہ داریاں محض روایتی پیشہ ورانہ فرائض تک محدود نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا، ’’اس تربیت کے بعد جو ذمہ داری آپ سنبھالیں گے، وہ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ادھمپور میں قائم شیرِ کشمیر پولیس اکیڈمی میں تربیت کے دوران افسران کو اس مشن کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
سنہا نے کہا کہ نظم و ضبط، محنت، سخت تربیت اور قیادت ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس وردی پر لگا بیج جموں و کشمیر کے عوام پر طاقت کی علامت نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ذمہ داری کی علامت ہونا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کا سلامتی کا ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور دہشت گردی روایتی طریقوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج جموں و کشمیر کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا ایک دہائی قبل پولیس افسران شاید تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ دہشت گردی کی شکل بدل رہی ہے اور جنگ اب صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جا رہی، جبکہ مجازی دنیا اور انتہا پسندی بھی نئے اور گہرے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے طریقے بھی تبدیل ہوئے ہیں اور روایتی ذرائع کے بجائے کرپٹو کرنسی، منی لانڈرنگ اور دیگر نئے طریقے سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے افسران کا کردار نہ صرف جموں و کشمیر میں سلامتی برقرار رکھنے بلکہ وسیع تر قومی سلامتی کے نظام میں بھی اہم ہوگا۔
سنہا نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد افسران کو دہشت گرد عناصر اور عام شہریوں کے درمیان حفاظتی حصار کے طور پر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’جب آپ خاکی وردی پہنیں گے تو آپ دہشت گرد قوتوں، دہشت گرد تنظیموں اور عام شہریوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار بن جائیں گے۔ آپ ہر شہری کے خوابوں کی حفاظت کریں گے۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جمہوریت میں ہر شہری کی سلامتی یقینی بنانا حکام کو سونپی گئی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور امید ظاہر کی کہ نئے افسران لوگوں میں بلاخوف زندگی گزارنے کا اعتماد پیدا کرنے میں مدد کریں گے۔سنہا نے افسران سے کہا کہ وہ جموں و کشمیر پولیس کے اپنے سینئر افسران کے تجربات اور قربانیوں سے سبق حاصل کریں۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس فورس فرض شناسی، لگن، محبت اور قربانی کی علامت سمجھی جاتی ہے اور اس فورس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سلامتی سے متعلق ہر چیلنج کا عزم اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیوں اور عزم نے جموں و کشمیر میں امن کے قیام میں کردار ادا کیا ہے اور نئے افسران کو ان کی قیادت اور تجربے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
سنہا نے واضح کیا کہ افسران کی ذمہ داریاں دہشت گردی سے نمٹنے تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ قانون کا نفاذ، شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کی ذمہ داری صرف دہشت گردی سے لڑنے تک محدود نہیں ہے۔ آپ کو قانون کو برقرار رکھنا ہے۔ قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے۔ سماجی ہم آہنگی قائم کرنی ہے اور ہر شہری کے حقوق کے تحفظ میں انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ جمہوریت کا حقیقی امتحان اس بات میں ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہریوں کا تحفظ کس طرح یقینی بناتی ہے، اور افسران کو اختیار کے ساتھ ہمدردی کو بھی جوڑنا ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’جمہوریت کی اصل حالت یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔ تربیت کے بعد آپ کے پاس اختیار ہوگا اور آپ کو اس اختیار میں ہمدردی کی اقدار شامل کرنا ہوں گی تاکہ آپ کے تمام اقدامات میں انسانی ہمدردی موجود ہو۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے افسران کو جموں و کشمیر پولیس کے دیرینہ اصول کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا: ’’بے گناہ کو ہاتھ نہ لگاؤ اور مجرم کو نہ چھوڑو۔‘‘انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ وردی پر فخر کریں، لیکن ان کا طرزِ عمل دیانت داری، حوصلے اور انکساری پر مبنی ہونا چاہیے۔
ایل جی نے نئے منتخب افسران سے کہا کہ وہ ہر صورتِ حال میں سچائی اور فرض شناسی کو مقدم رکھنے کا عہد کریں۔انہوں نے کہا، ’’حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، آپ ہمیشہ ترجیح کی بنیاد پر سچائی اور فرض شناسی کو اختیار کریں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ وردی کا احترام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اسے پہننے والے افسر دیانت داری، حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘
سنہا نے مزید کہا، ’’صرف وردی کا احترام نہیں ہوتا۔ اس لیے دیانت داری، حوصلے اور انکساری کے ساتھ آگے بڑھیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ تقرری جموں و کشمیر کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کی بھی نمائندگی کرتی ہے اور افسران کو اپنے اختیار کو انصاف کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔انہوں نے نئے منتخب افسران کے والدین اور رشتہ داروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مشکل سفر میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے خوابوں کو اپنا خواب سمجھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپ سب نے اپنے بچوں کو جموں و کشمیر کی خدمت کے لیے تیار کیا ہے۔ آپ نے ان کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے خوابوں کو اپنے خواب کے طور پر جیا۔‘‘سنہا نے کہا، ’’اس تعاون کے لیے بھارت اور جموں و کشمیر ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









