ہفتہ, ستمبر 19, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ریاستی درجہ بحال ہونے پر موجودہ اسمبلی برقرار رہ سکتی ہے‘نئے انتخابات لازمی نہیں: قانونی ماہرین

سنیل شرما کا مؤقف اس کے برعکس؛ بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے ساتھ نیا آئینی بندوبست ہوگا اور دوبارہ انتخابات کرانا پڑیں گے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-19
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
مبارک گل عبوری اسپیکر مقرر‘21 اکتوبر کو اراکین اسمبلی کی حلف برداری ہوگی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سری نگر؍۱۸ستمبر

                جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے سوال نے ایک بار پھر سیاسی بحث کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی بحث کو بھی تیز کردیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دیا جاتا ہے تو موجودہ اسمبلی کی جگہ نئے انتخابات کرانا ہوں گے، کیونکہ موجودہ اسمبلی مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے آئینی بندوبست کے تحت منتخب ہوئی ہے۔ تاہم، آئینی ماہرین کی ایک پہلے سے سامنے آچکی رائے اس سے مختلف ہے اور ان کے مطابق ریاستی درجہ بحال ہونے کی صورت میں موجودہ اسمبلی کو تحلیل کرنا لازمی نہیں ہوگا۔

                سنیل شرما نے جمعرات کو اننت ناگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی کا انتخاب مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے طور پر ہوا تھا، اس لیے ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد ’’نیا آئینی بندوبست‘‘ وجود میں آئے گا اور اس کے تحت تازہ انتخابات کرانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ’’جب بھی ریاستی درجہ بحال ہوگا، نئے انتخابات ہوں گے۔ اگر آج ریاستی درجہ آتا ہے تو انتخابات کرانا ہوں گے، کیونکہ نیا آئینی بندوبست ریاست کا ہوگا۔ موجودہ بندوبست کے تحت ہونے والے انتخابات مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لیے تھے۔‘‘

متعلقہ

’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘

’حسبِ توقع وہی پرانا ٹال مٹول‘: بحری تصادم پر پاکستان کا جواب مسترد

                بی جے پی رہنما نے اسی بنیاد پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کے تسلسل پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر موجودہ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیثیت کے باعث اس کے پاس مطلوبہ اختیارات نہیں ہیں تو پھر اسے اسمبلی کی موجودہ مدت مکمل ہونے کا انتظار کیوں کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ریاستی درجہ آنے کے بعد ویسے بھی نئے انتخابات ہونے ہیں تو موجودہ حکومت اس دوران کیا کرے گی۔

                شرما نے وزیرِ اعلیٰ سے اسمبلی تحلیل کرنے پر بھی غور کرنے کو کہا اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت خود یہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس مؤثر اختیارات نہیں ہیں تو اسے اقتدار میں برقرار رہنے کے بجائے عوام کے پاس دوبارہ جانا چاہیے۔ ان کے یہ ریمارکس اس وسیع تر سیاسی تنازعے کا حصہ ہیں جس میں بی جے پی موجودہ حکومت پر اختیارات کی کمی کو اپنی انتظامی کارکردگی کے لیے عذر بنانے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

                تاہم اس معاملے کا قانونی پہلو سیاسی بیان سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ اکتوبر۲۰۲۴میں، جب جموں و کشمیر میں موجودہ۹۰ رکنی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے تھے، سینئر آئینی قانون کے ماہر‘ راکیش دیویدی نے کہا تھا کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کی صورت میں اسمبلی کو تحلیل کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ قانون میں پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم کرکے اسی اسمبلی کو ریاستی اسمبلی کے طور پر جاری رکھا جاسکتا ہے۔

                سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے بھی اس سے ملتی جلتی رائے ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ اسمبلی پہلے ہی تشکیل پاچکی ہوگی، ریاستی درجہ بحال ہونے سے اس کی قانونی حیثیت لازماً ختم نہیں ہوگی۔

                دیویدی نے۲۰۲۴میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی آئینی ساخت میں تبدیلی کے نتیجے میں ریاستی سطح پر نیا بندوبست کیا جائے تو پارلیمانی قانون میں ترمیم کافی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل۳؍ اور۴ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی تنظیمِ نو کا قانونی عمل انہی آئینی دفعات کے تحت انجام پاسکتا ہے۔

                اس قانونی رائے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسمبلی کی تشکیل اور اس کے اختیارات دو الگ قانونی سوالات ہوسکتے ہیں۔ یعنی ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد حکومت اور اسمبلی کے اختیارات میں تبدیلی لانے کے لیے ضروری قانونی ترمیم کی جاسکتی ہے، مگر اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ موجودہ ارکان کی رکنیت خودبخود ختم ہوجائے اور فوری طور پر نئے انتخابات کرانا پڑیں۔ کم از کم۲۰۲۴میں سامنے آنے والی مذکورہ آئینی تشریح یہی تھی۔

                جموں و کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت بھی اس بحث کے مرکز میں ہے۔۲۰۱۹میں سابق ریاست کو دو مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر کو قانون ساز اسمبلی دی گئی، جبکہ لداخ کو اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنایا گیا۔

                 سپریم کورٹ نے دسمبر۲۰۲۳میں دفعہ۳۷۰ سے متعلق مرکز کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے۔ عدالت کے فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی پیش کی گئی تھی۔

                موجودہ اسمبلی۲۰۲۴ کے انتخابات کے بعد وجود میں آئی اور اس میں۹۰ منتخب ارکان ہیں۔ نیشنل کانفرنس سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی۔ ریاستی درجہ کی بحالی نیشنل کانفرنس اور حکومت کے اہم سیاسی مطالبات میں شامل رہی ہے، جبکہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی موجودہ ساخت میں اختیارات کی تقسیم، خصوصاً لیفٹیننٹ گورنر اور منتخب حکومت کے درمیان، سیاسی بحث کا مسلسل موضوع بنی ہوئی ہے۔

                یوں موجودہ تنازعے میں دو الگ سوال سامنے آتے ہیں۔ پہلا سیاسی سوال یہ ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کی صورت میں کیا حکومت اور اپوزیشن تازہ عوامی مینڈیٹ کے حق میں ہیں؟ جبکہ دوسرا قانونی سوال یہ ہے کہ کیا آئینی اور قانونی طور پر ایسا کرنا ضروری بھی ہوگا؟ سنیل شرما پہلے سوال کا جواب تازہ انتخابات کی صورت میں دیتے ہیں، جب کہ۲۰۲۴میں سامنے آنے والی سینئر آئینی ماہرین کی رائے دوسرے سوال کے بارے میں اس کے برخلاف تھی کہ موجودہ اسمبلی کو لازماً تحلیل نہیں کرنا پڑے گا۔

                اسی لیے ریاستی درجہ کی بحالی کا فیصلہ صرف ایک سیاسی اعلان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ساتھ قانون میں ضروری ترامیم، اسمبلی کے اختیارات کی ازسرِ نو تعیین اور مرکز و جموں و کشمیر کے درمیان آئینی تعلق کی نئی وضاحت جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ موجودہ دستیاب قانونی آراء کی روشنی میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ریاستی درجہ ملتے ہی لازماً اسمبلی تحلیل ہوجائے گی اور نئے انتخابات کرانا پڑیں گے؛ اس نکتے پر سیاسی مؤقف اور ماہرین کی قانونی تشریح اس وقت مختلف ہے۔

                اصل فیصلہ بہرحال اس قانونی و آئینی طریقۂ کار پر منحصر ہوگا جس کے ذریعے مرکز مستقبل میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق رپورٹ)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’حسبِ توقع وہی پرانا ٹال مٹول‘: بحری تصادم پر پاکستان کا جواب مسترد

Next Post

’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘
اہم ترین

’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘

2026-09-19
وادی کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارش
اہم ترین

’حسبِ توقع وہی پرانا ٹال مٹول‘: بحری تصادم پر پاکستان کا جواب مسترد

2026-09-19
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کے معاملے پر اختلاف، روس اور چین نے ’اسنیپ بیک‘ کو چیلنج کردیا
اہم ترین

امریکہ کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایرانی وفد کو ویزے، فلسطینی قیادت کا انکار

2026-09-19
مرکز نے بامعنی مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایا:وانگچک
اہم ترین

لداخ احتجاج کا ایک سال‘وانگچک مارچ کی قیادت کریں گے

2026-09-19
’پونچھ تصادم:جاں بحق ملی ٹینٹ بڑی واردات کو انجام دینے کی تاک میں تھے ‘
اہم ترین

وائٹ نائٹ کور کے  جی او سی کا ادھمپور میں انکاؤنٹر مقام کا دورہ جاری آپریشن کا جائزہ لیا

2026-09-19
ڈی جی پی کا انسداد دہشت گرد ی کارروائیوں کا جائزہ
اہم ترین

وردی ذمہ داری کی علامت ہے ، خطرات بھی ہوتے ہیں: پربھات

2026-09-19
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

لیہہ میں مٹی کا تودہ گرنے  سے لداخ میں دو مزدور ہلاک

2026-09-19
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل رقم  سے خریدی گئی جائیداد منسلک: پولیس

2026-09-19
Next Post
’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘

’تقرری نامہ محض دستاویز نہیں،خدمت کی دعوت ہے‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.