سرینگر؍۱۸ستمبر
امریکا نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد کے دیگر اہم ارکان کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کردیئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی حکام کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے سے انکار کردیا ہے، جس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات‘۱۷ ستمبر کو عباس کو پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان کے ذریعے اجلاس سے خطاب کی اجازت دے دی۔
اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا صدر دفتر امریکی سرزمین پر واقع ہے۔ تو کیا امریکا اقوام متحدہ کے اجلاس میں سرکاری امور کے لیے آنے والے غیر ملکی رہنماؤں اور حکام کے ویزے منظور یا مسترد کرسکتا ہے؟۱۹۴۷ میں طے پانے والے ایک معاہدے میں امریکی دائرۂ اختیار کی حد کے بارے میں کیا کہا گیا ہے، آئیے جانتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی حکام کو ویزے دینے سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ مسلسل دوسرے سال فلسطینی حکام اسرائیل کے ساتھ امن کے حصول کے لیے سابقہ معاہدوں کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اگست۲۰۲۵ میں بھی محکمہ خارجہ نے گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور فلسطینی اتھارٹی کے ارکان کے ویزے یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیئے تھے کہ وہ ’’امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘‘۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنا پڑا تھا۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ایک سیاسی اتحاد ہے جسے عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی ایک حکومتی ادارہ ہے جو اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں جزوی سول انتظامی اختیارات استعمال کرتی ہے۔
بدھ،۱۶ ستمبر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں قانونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ان قیدیوں کے خاندانوں کو وظائف بھی دے رہی ہے جنہیں اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔ بیان میں پی ایل او سے وابستہ بعض حکام کا بھی ذکر کیا گیا۔
ایران کے معاملے میں اس کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام کو ویزے تو جاری کردیئے گئے ہیں، تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ایرانی وفد پر سفری پابندیاں عائد ہوں گی اور اسے بعض امریکی مصنوعات خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پیگوٹ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایرانی حکومت کے اعلیٰ طبقے کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کو ’’ایرانی عوام کی مشکلات کی قیمت پر عیش و عشرت کی خریداری‘‘ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ ایرانی حکومت اپنی دولت اپنے ’’دہشت گرد پراکسی گروہوں‘‘ کی حمایت کے لیے استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے نیویارک کی دکانوں کو بھی خبردار رہنے کو کہا کہ وہ ایرانی وفد کو سامان فروخت نہ کریں۔
۲۶ جون۱۹۴۷ کو اقوام متحدہ اور امریکی حکومت کے درمیان اقوام متحدہ کے صدر دفتر سے متعلق ہونے والے معاہدے کے تحت امریکا عمومی طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کو نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے صدر دفتر تک رسائی کی اجازت دینے کا پابند ہے۔
معاہدے کے آرٹیکل چہارم، جو ’’ذرائع آمدورفت اور مواصلات‘‘ سے متعلق ہے، کی شق۱۱ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی وفاقی، ریاستی یا مقامی انتظامیہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں، اقوام متحدہ کے عہدیداروں یا خصوصی اداروں کے عہدیداروں، یا ان کے اہل خانہ کو اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے علاقے تک آنے یا وہاں سے جانے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گی۔
شق۱۲ میں بھی شق۱۱ کی دفعات کو دہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اصول اس بات سے قطع نظر لاگو ہوں گے کہ مذکورہ افراد کی حکومتوں اور امریکی حکومت کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔
شق۱۳ (ا) میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں غیر ملکیوں کے داخلے سے متعلق نافذ قوانین اور ضوابط کو اس انداز میں لاگو نہیں کیا جائے گا کہ وہ شق۱۱ میں دی گئی مراعات میں مداخلت کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ افراد کے لیے ویزا ضروری ہو تو انہیں بغیر کسی فیس کے اور حتی الامکان فوری طور پر جاری کیا جائے گا۔
ماضی میں واشنگٹن یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ ’’سلامتی، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی‘‘ کی بنیاد پر ویزے مسترد کرسکتا ہے۔
مثلاً ستمبر۲۰۲۲میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل اس وقت کی جو بائیڈن انتظامیہ نے ابتدائی طور پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے وفد کو ویزے دینے میں تاخیر کی تھی، تاہم اجلاس شروع ہونے سے چند روز قبل امریکا نے ویزے جاری کردیئے۔ اس وقت روس کی جانب سے فروری۲۰۲۲میں یوکرین پر حملہ کیے جانے کے بعد امریکا اور روس کے تعلقات شدید کشیدہ تھے۔
گزشتہ سال جب امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا تھا تو اس کے لیے ’’قومی سلامتی کے مفادات‘‘ کو بنیاد بنایا گیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ میں فلسطینی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں فلسطینی وفد کو باضابطہ طور پر ’’ریاست فلسطین‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم فلسطین اقوام متحدہ کا مکمل رکن نہیں ہے اور جنرل اسمبلی میں اسے ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں۔ اسے مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹیکن کے برابر ہے۔
اب فلسطینیوں کی نمائندگی جنرل اسمبلی میں وہ سفارت کار کریں گے جو پہلے ہی اقوام متحدہ میں باقاعدہ طور پر تعینات ہیں۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ڈیسک)










