ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ مرحومین کے اختیار میں کسی کے خواب میں آنا نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم جس جہاں میں رہتے ہیں، یہ ایک الگ چیز ہے، اور جو جہاں، جسے عالمِ ارواح بھی کہتے ہیں، مرحومین کا مسکن ہے، وہ ایک الگ قصہ ہے ……. دونوں میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے ……. دونوں میں کوئی روابط نہیں ہیں۔تو ہوا یوں کہ آج رات مرحومہ دفعہ ۳۷۰ خواب میں آئی …….انتقال کے بعد پہلی بار آئی ……. آئی، لیکن جھگڑا کرنے آئی۔ اسے غصہ تھا‘اس بات کا غصہ تھا کہ ہم نے کل یہاں لکھا تھا کہ دہلی یا سری نگر، دونوں کے اس سے مفاد اور مقاصد جڑے ہیں؛ دہلی کو اسے اس جہاں سے اُس جہاں پہنچانے میں، اور سری نگر کو اسے مرنے کے بعد بھی زندہ رکھنے کی کوشش میں۔اسی بات پر اسے …….دفعہ ۳۷۰ کو غصہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ دہلی کے حوالے سے ہماری کہی بات سے تو اس نے بھی اتفاق کیا، لیکن سری نگر کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا تھا، اسے وہ سچ اور صحیح ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسے مرنے کے بعد بھی یہی لگتا ہے کہ کشمیر میں لوگ اس سے سچی محبت کرتے تھے، عام لوگ بھی اور خاص لوگ، یعنی سیاست دان بھی۔اسی لیے جب ہم نے یہ لکھا کہ کشمیر کے سیاست دانوں کے بھی دفعہ ۳۷۰ کے مرنے کے بعد بھی اس سے مفادات وابستہ ہیں، تو یہ بات اسے بری لگی۔ وہ تڑپ اٹھی، اس کا سکون غارت ہوگیا، اور وہ اسی بے چینی کے عالم میں اُس عالم سے اِس عالم، ہمارے خواب میں آئی …….جیسے تیسے کرکے آئی، اور اس لیے آئی کہ ہم اپنی اس’غلط فہمی‘ کو دور کریں اور اسے اس بات کا یقین دلائیں کہ واقعی کشمیری، عام ہوں یا خاص، سب اس سے بے لوث محبت کرتے تھے۔لیکن ہم سے ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ ہم چاہ کر بھی اپنی اس ’غلط فہمی‘ کو دور نہیں کر سکتے تھے، اور ہم نے یہی بات مرحومہ کو سمجھانے کی کوشش کی ……. انتھک کوشش کی، لیکن مجال کہ وہ کچھ سمجھے۔ وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی کہ کشمیری اس سے بے لوث محبت کرتے تھے۔ہم نے اس سے پوچھا’اچھا، بتاؤ تمہاری موت کب ہوئی؟‘اس نے فوراً جواب دیا’۵؍ اگست ۲۰۱۹ کو‘۔ہم نے پوچھا’کیا واقعی اسی دن تمہاری موت ہوئی تھی‘؟اس نے اثبات میں جواب دیا۔ہم نے پھر ایک مختصر سا سوال کیا …….’۱۹۷۵ کا شیخ۔اندرا معاہدہ کیا تمہاری اصل تاریخِ وفات نہیں ہے؟‘ …….یہ سنتے ہی مرحومہ خاموش ہوگئی اور خاموشی سے خواب سے رخصت بھی ہوگئی۔ہے نا؟





