ایسا لگتا ہے کہ اپنے وزیراعلیٰ صاحب کی سمجھ میں یہ بات گئی ہے……. بالآخر آ ہی گئی ہے کہ ان کی وزارتی کونسل میں توسیع……. مجوزہ توسیع سچ میں ’’آ بیل مجھے مار‘‘ ہے اور کچھ نہیں ہے۔ اسی لیے تو یہ جناب توسیع……. ممکنہ توسیع کے حوالے سے تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ دیے جا رہے ہیں۔اب ان کا کہنا ہے کہ اجی، پہلے یومِ آزادی کا جشن منانے دیجیے، پھر توسیع ہوگی……. ان جناب نے کوئی حتمی تاریخ، حتمی دن نہیں دیا، بالکل بھی نہیں دیا، کیوں کہ یہ جناب جانتے ہیں کہ……. کہ بہت مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی۔پہلے پہل انہیں اس کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اب انہیں ہو گیا ہے……. یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ واقعی میں جتنا آسان انہوں نے وزارتی کونسل کی توسیع کا معاملہ سمجھ لیا تھا، اتنا نہیں ہے اور……. اور بالکل بھی نہیں ہے۔ہم نے صاحب انہیں پہلے ہی آگاہ کیا تھا……. اس حقیقت سے آگاہ کیا تھا کہ جناب، آپ بیل کو خود ہی دعوت کیوں دے رہے ہیں؟ آپ کو مارنے کی دعوت؟ لیکن یہ جناب ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔لیکن……. لیکن اب نہیں۔ ہمیں امید سے زیادہ یقین ہے کہ اب ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہوگی کہ توسیع اصل میں آگ سے کھیلنے جیسا ہے اور……. اور آپ جانتے ہی ہیں کہ آگ سے کھیلنے والوں کے ہاتھ بھی جل جاتے ہیں۔لیکن۔۔۔ لیکن اگر وزیراعلیٰ صاحب تھوڑی بھی جرأت کا مظاہرہ کریں تو اللہ میاں کی قسم، وہ اس آگ سے کھیل بھی سکتے ہیں اور۔۔۔ اور ان کے ہاتھ محفوظ بھی رہ سکتے ہیں۔ کہ سنا ہے، خبر یہ ہے کہ دہلی میں اس وقت بہت سارے کھیل ہو رہے ہیں۔ ان کھیلوں میں بھی کھیل ہو رہا ہے۔ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے، کس کے خلاف کھیل رہا ہے، کس سے مل کر کھیل رہا ہے، کوئی کچھ نہیں جانتا ہے…….بالکل بھی نہیں جانتا ہے۔افراتفری کا ایسا عالم ہے کہ دوسروں کو سنبھالنے والے، ہاتھ تھامنے والے آج خود گر رہے ہیں……. وہ سنبھل نہیں پا رہے ہیں……. جیسے ان کے پاؤں تلے زمین کھسک رہی ہو۔ اور ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو…….اور اگر اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر اپنے وزیراعلیٰ صاحب وزارتی کونسل میں توسیع کریں تو ممکن ہے کہ انہیں بیل مارنے کو آ جائے اور نہ آگ سے ان کے ہاتھ جل جائیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔





