اپنے ہی ہاتھوں سے جنتِ کشمیر کو برباد نہ کریں
سیاحت نہ صرف کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا بھی بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن آج ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ اگر یہی ترقی موجودہ انداز میں جاری رہی تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلوں کو وہ کشمیر دیکھنے کو نہ ملے جسے ہم جنتِ ارضی کہتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔۲۰۱۸ ء میں جہاں تقریباً آٹھ لاکھ سیاح وادی آئے تھے، وہیں۲۰۲۴ ء میں یہ تعداد تقریباً پینتیس لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ یقیناً خوش آئند بات ہے کہ کشمیر دوبارہ دنیا کے نقشے پر ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہا ہے، مگر اس کامیابی کا دوسرا رخ نہایت تشویشناک ہے۔ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریزورٹس، ہوم اسٹیز اور دیگر تجارتی عمارتوں کی تعمیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے جس نے وادی کے قدرتی توازن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں کشمیر میں تقریباً پانچ ہزار ہوٹل تعمیر ہوئے، جن میں سے نوّے فیصد مبینہ طور پر غیر قانونی ہیں۔ اگر واقعی صورتحال ایسی ہے تو یہ صرف عمارتوں کی قانونی حیثیت کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی نظام، منصوبہ بندی اور ماحولیات کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ تصور ہی خوفناک ہے کہ اگر ہزاروں عمارتیں مناسب منظوری، ماحولیاتی جائزے اور تعمیراتی ضابطوں کے بغیر کھڑی ہو رہی ہیں تو آنے والے برسوں میں اس کے نتائج کس قدر تباہ کن ہوں گے۔
اصل مسئلہ صرف غیر قانونی تعمیرات نہیں بلکہ بے ہنگم اور بے قابو ترقی ہے۔ کشمیر کی زمین، پانی، جنگلات اور دلدلی علاقے ایک مخصوص ماحولیاتی توازن کے تحت کام کرتے ہیں۔ ہوکرسر، شال بگ اور دیگر آبی ذخائر محض خوبصورت مقامات نہیں بلکہ وادی کے قدرتی حفاظتی نظام کا حصہ ہیں۔ یہی آبی علاقے شدید بارشوں کے دوران اضافی پانی کو جذب کرکے سیلابی خطرات کم کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انہی علاقوں پر مسلسل قبضے، تعمیرات اور زمین کے غلط استعمال نے ان کی افادیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
۲۰۱۴ء کے تباہ کن سیلاب نے ہمیں ایک سبق دیا تھا کہ قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج بھی دلدلی زمینیں سکڑ رہی ہیں، ندی نالوں کے کنارے تعمیرات ہو رہی ہیں، پہاڑوں کو کاٹا جا رہا ہے، جنگلات کم ہو رہے ہیں اور سیاحتی مقامات پر کنکریٹ کے جنگل تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
کشمیر آنے والا سیاح شیش محل، فلک بوس عمارتیں یا بڑے بڑے تجارتی مراکز دیکھنے نہیں آتا۔ وہ یہاں فطرت کی آغوش میں چند دن گزارنے آتا ہے۔ اگر گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، دودھ پتھری، گریز اور دیگر مقامات پر ہر طرف سیمنٹ، کنکریٹ اور بے ہنگم تعمیرات نظر آئیں گی تو کشمیر کی اصل کشش ہی ختم ہو جائے گی۔ دنیا میں بے شمار ایسے سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ تعمیرات نے ان کی خوبصورتی کو تباہ کر دیا اور پھر سیاحوں نے بھی وہاں جانا کم کر دیا۔
اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سیاحت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ہوٹل، ٹرانسپورٹ، دستکاری، خشک میوہ جات، ٹور آپریٹرز، شال فروش، ریستوران، شکارہ چلانے والے، گھوڑے والے اور ہزاروں چھوٹے کاروبار اسی صنعت پر منحصر ہیں۔ اس لیے مقصد سیاحت کی مخالفت نہیں بلکہ اس کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ دنیا بھر میں اب’پائیدار سیاحت‘ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دی جاتی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی اب اسی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون صرف عام لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر سرمایہ کار، ہر ہوٹل مالک اور ہر بااثر شخص کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ جن تعمیرات نے ماحولیات کو نقصان پہنچایا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ کسی بھی نئی تعمیر کی اجازت صرف جامع ماحولیاتی جائزے کے بعد ہی دی جانی چاہیے۔
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر لامحدود تعداد میں سیاحوں کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ دنیا کے کئی مشہور سیاحتی مقامات نے اپنی قدرتی گنجائش کا تعین کر رکھا ہے۔ بعض مقامات پر روزانہ یا سالانہ آنے والے سیاحوں کی تعداد محدود ہوتی ہے تاکہ قدرتی وسائل، پانی، ٹریفک، صفائی اور ماحولیات پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ کشمیر میں بھی اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر وادی کی قدرتی گنجائش بیس لاکھ یا پچیس لاکھ سیاحوں کی ہے تو صرف زیادہ آمدنی کے لالچ میں اس تعداد کو چالیس یا پچاس لاکھ تک پہنچانا دانشمندی نہیں ہوگی۔
آج وادی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات محسوس کر رہی ہے۔ برفباری کے انداز بدل رہے ہیں، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، بارشوں کا نظام غیر متوازن ہو رہا ہے، گلیشیئر سکڑ رہے ہیں اور پانی کے قدرتی ذخائر دباؤ میں ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو نہ صرف سیاحت بلکہ زراعت، باغبانی، پینے کے پانی اور پوری معیشت متاثر ہوگی۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاحت کے لیے ایک طویل المدتی پالیسی مرتب کرے، جس میں ماحولیات کو اولین ترجیح حاصل ہو۔ ہر ضلع کے لیے ماحولیاتی استعداد کا سائنسی جائزہ لیا جائے، حساس علاقوں میں نئی تعمیرات پر پابندی عائد کی جائے، بارش کے پانی کے قدرتی راستوں کو محفوظ بنایا جائے، دلدلی علاقوں اور جنگلات کو قانونی تحفظ دیا جائے، اور ہر بڑے منصوبے کے لیے شفاف ماحولیاتی منظوری لازمی قرار دی جائے۔ اسی کے ساتھ عوام، ہوٹل مالکان اور سرمایہ کاروں میں بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ماحولیات کی حفاظت دراصل ان کے اپنے مستقبل کی حفاظت ہے۔
کشمیر کی اصل دولت اس کے پہاڑ، جنگلات، جھیلیں اور قدرتی حسن ہیں، نہ کہ سیمنٹ اور کنکریٹ کی عمارتیں۔ اگر یہ حسن باقی نہیں رہا تو سیاحت بھی باقی نہیں رہے گی۔ اقتصادی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ میں توازن ہی اس جنت نظیر خطے کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت، ماہرین ماحولیات، سیاحتی صنعت، سرمایہ کار اور عوام سب مل کر یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں فوری منافع چاہیے یا آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، سرسبز اور پائیدار کشمیر۔ اگر آج بھی ہم نے دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی، اور پھر تاریخ یہی لکھے گی کہ کشمیر کو کسی دشمن نے نہیں، بلکہ اس کے اپنے لوگوں نے بے ہنگم ترقی کے نام پر نقصان پہنچایا۔




