ایسا نہیں ہے کہ ہم نہیں مانتے ہیں ‘یقینا ہم جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ دہلی میں کچھ تو بات ہے …….اس میں کچھ تو ہے کہ اس کی چھاؤں میں دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں …….کچھ دیر کیلئے ہی سہی ‘ لیکن بن جاتے ہیں ۔اب اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرا علیٰ‘ عمرعبداللہ اور میڈم …….میڈم محبوبہ جی کی بات ہی لیں ……. دونوں ایک دوسرے کے دشمن ‘ سیاسی دشمن ‘ دونوںایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ایک بھی موقع گنوانے کیلئے تیار نہیں ہو تے ہیں …….بالکل بھی نہیں ہوتے ہیں ‘ لیکن جب یہ دونوں دہلی میں ہوتے ہیں تو ……. تو دونوں ایک ہی چھت کے نیچے انڈیا بلا ک کی میٹنگ میں حلیف جماعتوں کے طور پر شریک ہو تے ہیں اور……. اور حلیف جماعتوں کے طور پر انڈیا بلا ک کے فیصلوں کو سر تسلیم خم کرکے قبول کرتے ہیں ……. واہ رے دہلی واہ ‘ تو بڑی کمال کی ہے اور ……. اور اس لئے ہے کہ جب یہ دونوں واپس کشمیر آئیں گے تو ……. تو دونوں ایک دوسرے کا وجود‘ سیاسی وجود تک برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے ……. ایک دوسرے کو سیاسی طور پر ختم کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اللہ میاں کی قسم سچ جھوٹ کا سہارا لے کر یہ ایک دوسرے کا سیاسی وجود ختم کرنے کیلئے دن رات اور رات دن پلان اور منصوبے بناتے رہتے ہیں ۔اور اس لئے بناتے رہتے ہیں کیونکہ یہ دہلی نہیں کشمیر ہے اوراگر دہلی دشمنوں کو دوست بنا سکتی ہے تو کشمیر کی فضاؤں میں کچھ ایسا زہر ہے کہ یہاں دوست بھی دشمن بن جاتے ہیں ۔جیسے اپنے عمر عبداللہ اور میڈم جی ہیں ……. سیاسی دشمن ۔ خیر !عمرعبداللہ نے انڈیا بلاک کی اکائیوں سے کہا ہے کہ وہ این سی کے ریاستی بحالی کیلئے دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں…….ہمیں یقین ہے کہ انڈیا بلاک کی اکائیاںاس میں شرکت کریں گی …….اور میڈم جی بھی شرکاء کی صف میں کھڑی نظر آئیں گی اور …….اوراس لئے آئیں گی کہ یہ احتجاج دہلی میں ہو رہا ہے ‘کشمیر میں نہیں‘بالکل بھی نہیں …….کہ اگر یہ احتجاج کشمیر میں ہو رہا ہوتا تو وزیر اعلیٰ میڈم جی کو مدعو کرتے اور نہ میڈم جی شرکت کرتیں ……. لیکن احتجاج دہلی میں ہو گا تو یقین کیجئے کہ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ میڈم جی کو مدعو کریں گے اور میڈم جی اس میں شرکت بھی کریں گی کہ ……. کہ یہ دہلی ہے دہلی جہاں دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں یا شاید بننا پڑتا ہے ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




