زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو کا حصول صرف ایک انجینئرنگ کامیابی نہیں بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ دنیا کی بلند ترین اور طویل ترین سنگل ٹیوب دو طرفہ سرنگوں میں شمار ہونے والا یہ منصوبہ برسوں پر محیط ایک خواب کی تعبیر بنتا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، خصوصاً سڑکوں اور سرنگوں کے میدان میں، غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے نہ صرف خطے کو ملک کے باقی حصوں سے مضبوطی کے ساتھ جوڑا ہے بلکہ سفر کو محفوظ، آسان اور ہر موسم میں ممکن بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں جغرافیائی حالات ہمیشہ ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ بلند و بالا پہاڑ، دشوار گزار درے، شدید برف باری اور بارشیں اکثر سڑکوں کو بند کر دیتی تھیں، جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاص طور پر وادی کشمیر اور لداخ کے درمیان رابطہ موسم سرما میں کئی ماہ تک منقطع رہتا تھا۔
زوجیلا پاس، جو اس رابطے کی واحد اہم کڑی تھا، برف باری کی وجہ سے بند ہو جاتا اور لداخ عملاً ملک کے باقی حصوں سے کٹ جاتا تھا۔تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ حکومت ہند نے جموں و کشمیر میں سڑک رابطے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد بڑے منصوبے شروع کیے جن میں شاہراہوں کی توسیع، نئے فلائی اوورز، بائی پاس سڑکوں اور جدید سرنگوں کی تعمیر شامل ہے۔ ان منصوبوں نے نہ صرف سفر کے اوقات میں نمایاں کمی کی بلکہ حادثات کے امکانات کو بھی کم کیا ہے۔
سرنگوں کی تعمیر اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ چند سال قبل تک کشمیر جانے والے مسافروں کو پٹنی ٹاپ کے خطرناک اور طویل راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔ لیکن چنانی،ناشری سرنگ، جسے اب ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اس سفر کو نہ صرف مختصر بلکہ محفوظ بھی بنا دیا۔ اس سرنگ نے جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کے وقت میں نمایاں کمی کی اور موسم کی خرابی کے باعث راستے بند ہونے کے مسائل کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔
اسی طرح قاضی گنڈ،بانہال سرنگ نے بھی وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پرانے بانہال پاس کی دشواریوں سے نجات دلاتے ہوئے اس جدید سرنگ نے سال بھر ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔ یہ منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ ایک اقتصادی شہ رگ ثابت ہوا ہے جس سے تجارت، سیاحت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا۔
اب زوجیلا سرنگ اس سلسلے کی سب سے بڑی اور اہم کڑی بننے جا رہی ہے۔ تقریباً۱۴کلومیٹر طویل یہ سرنگ سری نگر اور لداخ کے درمیان سفر کو ایک سے ڈیڑھ گھنٹے سے کم کرکے صرف پندرہ منٹ تک محدود کر دے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ رابطہ پورے سال برقرار رہے گا۔ اس سے نہ صرف عام شہریوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ طلبہ، مریضوں، تاجروں اور سیاحوں کے لیے بھی بے شمار سہولتیں پیدا ہوں گی۔
سرنگوں کے اس جال کا ایک اور اہم پہلو قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ کی سرحدیں حساس اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں۔ ایسے میں ہر موسم میں قابل اعتماد سڑک رابطہ فوجی نقل و حرکت اور دفاعی تیاریوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ زوجیلا سرنگ اور دیگر منصوبے سرحدی علاقوں تک رسائی کو آسان بنا کر ملک کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی ان منصوبوں کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ کشمیر اور لداخ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتے ہیں، لیکن موسمی رکاوٹوں کے باعث کئی علاقوں تک رسائی محدود رہتی تھی۔ بہتر سڑکیں اور جدید سرنگیں سیاحوں کو سال بھر ان علاقوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کریں گی۔ اس کے نتیجے میں ہوٹل، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔
اقتصادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بہتر رابطہ کسی بھی خطے کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب سڑکیں بہتر ہوں اور سفر محفوظ و تیز رفتار ہو تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل آسان ہوتی ہے، تجارتی سرگرمیاں بڑھتی ہیں اور سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران یہی تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بہتر رابطے نے مقامی مصنوعات کو بڑی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد دی ہے اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان منصوبوں نے انسانی زندگیوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسم کے باعث سینکڑوں مسافر مشکلات میں پھنس جاتے تھے۔ جدید سرنگیں ان خطرات سے بچاؤ کا موثر ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج سفر نہ صرف تیز تر بلکہ کہیں زیادہ محفوظ بھی ہو گیا ہے۔
زوجیلا سرنگ میں حاصل ہونے والا بریک تھرو اس بات کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر باقی کام بھی مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتا ہے تو یہ منصوبہ شمالی ہند کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی فتو لا سرنگ، تیلا پاس سرنگ اور دیگر مجوزہ منصوبے خطے کو مزید مضبوط رابطے فراہم کریں گے۔
بلاشبہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سڑکوں اور سرنگوں کی تعمیر نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔ یہ منصوبے صرف کنکریٹ اور فولاد کے ڈھانچے نہیں بلکہ ترقی، خوشحالی، قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کے ضامن ہیں۔ زوجیلا سرنگ کا تاریخی بریک تھرو اسی روشن مستقبل کی نوید ہے جہاں جموں و کشمیر اور لداخ سال بھر ملک کے باقی حصوں سے جڑے رہیں گے، سفر محفوظ ہوگا اور ترقی کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔




