تو صاحب اپنی بی جے پی کو پریشانی ہے‘اس بات کی پریشانی ہے کہ گورے گورے بانکے چھورے ‘جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ اعلیٰ حضرت جناب عمرعبداللہ صاحب لاپتہ ہیں ……غائب ہیں ‘ کم و بیش دس بارہ دنوں سے لاپتہ ہیں ۔ہم قائد ثانی ‘ڈاکٹر فاروق عبداللہ تو نہیں ہیں جو بی جے پی کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیں ……ہم ایسا نہیں کریں گے اور اس لئے نہیں کریں گے کہ ہمارے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی ہے اور بالکل بھی نہیں رکھتی ہے کہ گورے گورے بانکے چھورے واقعی میں لاپتہ ہیں ‘ غائب ہیں یا کشمیر میں ہی ہیں……اللہ میاں کی قسم ہمارے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی ‘ ہمارے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں ہے ۔اور اس لئے نہیں ہے کہ اس بات سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے کہ گورے گورے بانکنے چھورے کشمیر سے لاپتہ ہیں یا یہاں حاضر ہیں ۔یہاں حاضر ‘ یہاں موجود رہ کر بھی وہ کون سا تیر مارتے ہیں ‘ یہاں ہو کر وہ اپنی موجودگی کا ہمیں اور آپ کو کون سا احساس دلاتے رہتے ہیں جوہمیں ان کی کمی محسوس ہو گی ۔سچ تو یہ ہے کہ یہاں ہو کر گورے گورے بانکے چھورے کا ایک ہی رونا ہوتا ہے اور بار بار ہو تا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے ……جو کچھ بھی ہے وہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے کشمیر سے لاپتہ ہونے سے ہمیں ان کا یہ راگ نہیں سننا پڑرہا ہے ……ورنہ یہ راگ سنتے سنتے ہمارے تو کان پک گئے تھے ۔اس لئے صاحب اچھا ہی ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ صاحب لاپتہ ہیں ‘ کیوں ہیں یہ ہم نہیں جانتے ہیں …… بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ کوئی اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ سے کہہ دے …… تب کہہ دے جب وہ لاپتہ نہیں رہیں گے اور واپس جلوہ افروز ہو ں گے ‘ یہ کہہ دے کہ جناب کچھ ایسا تو کیجئے ‘ کوئی ایک کام ایسا تو کیجئے کہ کل کو اگر آپ ایک دن کیلئے بھی لاپتہ ہو جائیں تو …… تو لوگوں کو آپ کی کمی ‘ آپ کی عدم موجودگی محسوس ہو جائیگی کہ ……کہ آج کے دن کی حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کمی یہاں کسی کو محسوس نہیں ہو رہی ہے…… بالکل بھی نہیں ہو رہی ہے‘ سوائے اپنی بی جے پی کو ۔اسے کیوں محسوس ہو رہی ہے یہ ہم نہیں جانتے ہیں ‘ لیکن وزیر اعلیٰ صاحب !آپ ضرور جانتے ہوں گے ۔ ہے نا؟




