وادیٔ کشمیر میں جیسے جیسے عیدالاضحیٰ قریب آتی ہے، بازاروں میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا شور بڑھنے لگتا ہے۔ عید الاضحیٰ ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، مساوات اور انسان دوستی کا ایک عظیم درس بھی ہے۔ ہر سال ہزاروں خاندان اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ سنتِ ابراہیمیؑ کو زندہ رکھا جا سکے۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند برسوں سے عیدالاضحیٰ کی روحانیت پر ایک ایسا مسئلہ مسلسل سایہ فگن ہے جو عام لوگوں کے لیے شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا باعث بن چکا ہے، اور وہ ہے قربانی کے جانوروں کی بے قابو اور من مانی قیمتیں۔
اس وقت کشمیر کے مختلف مویشی بازاروں میں بھیڑ، بکری اور دیگر جانوروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ متوسط اور غریب طبقے کے لیے قربانی کا فریضہ ادا کرنا روز بروز مشکل بنتا جا رہا ہے۔ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ نہ تو کوئی سرکاری نرخ نامہ موجود ہے، نہ وزن کا کوئی واضح نظام اور نہ ہی بازاروں میں مؤثر نگرانی دکھائی دیتی ہے۔ نتیجتاً ہر تاجر اپنی مرضی کے مطابق قیمت وصول کر رہا ہے۔ ایک ہی جسامت اور صحت کے جانور کی قیمت مختلف بازاروں میں ہزاروں روپے کے فرق سے فروخت ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال صرف معاشی بدانتظامی نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بھی ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں جہاں پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے عام زندگی کو متاثر کر رکھا ہے، وہاں عید جیسے مذہبی موقع پر ناجائز منافع خوری عوامی اضطراب کو مزید بڑھا رہی ہے۔ پٹرول، سبزیاں، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان قربانی کے جانور بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب محکمہ خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین اور دیگر متعلقہ ادارے عید سے قبل بازاروں کی نگرانی کرتے تھے۔ نرخ نامے جاری کیے جاتے، بازاروں کا معائنہ ہوتا اور تاجروں پر دباؤ رہتا کہ وہ عوامی جذبات کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ اگرچہ وہ نظام مکمل طور پر مثالی نہیں تھا، لیکن کم از کم ایک توازن ضرور قائم رہتا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خود سرکاری افسران اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے پاس پہلے جیسی اختیارات باقی نہیں رہے اور بازار عملاً غیر منظم ہو چکے ہیں۔
یہ درست ہے کہ مہنگائی، چارے کی قیمت، نقل و حمل کے اخراجات اور جانوروں کی دیکھ بھال میں اضافے نے تاجروں کے اخراجات بڑھائے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان وجوہات کی آڑ میں کسی بھی قیمت کا مطالبہ جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ آزاد منڈی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جائے۔ ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ منڈی کے نظام میں شفافیت، توازن اور انصاف کو یقینی بنائے۔
اس مسئلے کا ایک اخلاقی اور دینی پہلو بھی ہے۔ عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام قربانی، عاجزی، تقویٰ اور دوسروں کے احساس کا ہے۔ اگر یہی تہوار لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ، معاشی بوجھ اور سماجی مقابلہ آرائی کا سبب بن جائے تو یہ روحِ عید کے منافی ہے۔ بدقسمتی سے اب قربانی کا جذبہ کئی جگہ نمود و نمائش اور معاشرتی حیثیت کے اظہار میں بدلتا جا رہا ہے۔ لوگ بعض اوقات مہنگے جانور خریدنے کو سماجی وقار سے جوڑ دیتے ہیں، جس سے بازار میں مصنوعی مہنگائی اور مقابلہ بازی مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہاں مذہبی علما اور خطباء کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہو جاتی ہے۔ مساجد اور دینی اجتماعات میں اس مسئلے پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ اسلام ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور استحصال کی سخت مذمت کرتا ہے، خصوصاً مذہبی مواقع پر۔ علما کو تاجروں کو انصاف، دیانت اور اعتدال کی تلقین کرنی چاہیے جبکہ عوام کو یہ سمجھانا چاہیے کہ قربانی کی اصل روح نیت اور اخلاص میں ہے، نہ کہ سب سے مہنگا جانور خریدنے میں۔
انتظامیہ کو بھی فوری طور پر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مویشی منڈیوں میں شفاف وزن کے نظام کو لازمی بنایا جائے، مختلف اقسام کے جانوروں کے لیے رہنما قیمتیں جاری کی جائیں، ویٹرنری جانچ کا انتظام ہو اور بازاروں میں خصوصی نگرانی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ اگر مکمل قیمت کنٹرول ممکن نہیں تو کم از کم ایک ایسا فریم ورک ضرور ہونا چاہیے جو ناجائز منافع خوری کو محدود کر سکے۔
اس کے علاوہ مقامی کمیٹیاں، سماجی تنظیمیں اور تاجر انجمنیں بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر محلوں اور دیہات کی سطح پر منصفانہ قیمتوں والی اجتماعی مویشی منڈیاں قائم کی جائیں تو عوام کو کچھ راحت مل سکتی ہے۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہوگا بلکہ تاجروں اور خریداروں کے درمیان کشیدگی بھی کم ہوگی۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کشمیر ہمیشہ اپنی مذہبی وابستگی، اجتماعی شعور اور سماجی اقدار کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ اگر قربانی جیسا مقدس عمل بھی منافع خوری اور استحصالی تجارت کی نذر ہو جائے تو یہ صرف معیشت کا نقصان نہیں بلکہ ہماری اخلاقی اقدار کی کمزوری بھی ہے۔
عیدالاضحیٰ کا پیغام انسانیت، مساوات اور ایثار ہے۔ اس تہوار کو دولت کی نمائش اور بے رحم بازاریت کی علامت بننے سے روکنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت، علما، تاجر اور عوام اگر سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کریں تو قربانی کے جانوروں کی خریداری ایک بار پھر آسان، شفاف اور باوقار بن سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف عام لوگوں کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھے گا بلکہ عید کی اصل روح کو بھی برقرار رکھے گا۔





