مایوسی کی کوئی وجہ ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ خوشی کی‘ یہ ایک جاری عمل ہے‘اصولی اتفاقِ رائے ہے‘ کوئی حتمی معاہدہ نہیں:وانگچک
’مرکز نے آرٹیکل ۳۷۱ کی طرز پر تحفظات کی تجویز دی ہے اور پورے خطے کیلئے ایک انتظامی ڈھانچے پر رضامندی ظاہر کی ہے‘
ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۳مئی
لداخ کے کارکنان نے ہفتہ کو کہا کہ مرکز نے لداخ کو چھٹی شیڈول کے بجائے آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات اور ایک قانون ساز ادارہ دینے کی پیشکش کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت ابھی جاری ہے اور کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔
وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ جمعہ کو ہونے والی میٹنگ کے ایک دن بعد کارکن سونم وانگچک نے ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لداخ کے لیے آرٹیکل ۳۷۱ ؍اے ؍اور ۳۷۱ جی کی طرز پر تحفظات کی تجویز دی ہے اور اصولی طور پر پورے خطے کے لیے ایک انتظامی ڈھانچے پر رضامندی ظاہر کی ہے، بجائے اس کے کہ اختیارات صرف ضلعی کونسلوں تک محدود رکھے جائیں۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے ) کے رکن سجاد کرگلی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ مرکز نے لداخ کے لیے قانون ساز، انتظامی، ایگزیکٹو اور مالی اختیارات کی بھی تجویز دی ہے اور اس سلسلے میں ایک باضابطہ مسودہ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ قانونی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جا سکے۔
لیہ ایپکس باڈی(ایل اے بی)‘کے ڈی اے ؍ اور وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے نمائندوں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی میٹنگ میں لداخ کے لیے آئینی تحفظ، جمہوری نمائندگی اور ریاستی درجے کے دیرینہ مطالبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وانگچک کے مطابق بات چیت کا مرکز لداخ کو چھٹی شیڈول میں شامل کرنے اور ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ تھا، جبکہ حکومت نے آرٹیکل۷۳۱کے تحت تحفظات کی تجویز پیش کی۔
وانگچک نے کہا’’حکومت نے کہا کہ اسے چھٹی شیڈول کے حوالے سے کچھ مسائل ہیں، لیکن وہ آرٹیکل۳۷۱ کے تحت تحفظات دینے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے‘‘۔
آرٹیکل۳۷۱بعض ریاستوں کو ان کی منفرد سماجی، ثقافتی اور علاقائی ترقیاتی ضروریات کے مطابق خصوصی، عبوری اور عارضی دفعات فراہم کرتا ہے۔
چھٹی شیڈول کے تحت بعض شمال مشرقی ریاستوں کے قبائلی علاقوں کو خودمختار ضلعی کونسلوں کے ذریعے زمین، جنگلات، مقامی طرز حکمرانی، رسوم و رواج اور بعض عدالتی و دیوانی معاملات پر خصوصی انتظامی اور قانون ساز تحفظات حاصل ہیں۔
مرکز کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ وانگچک نے کہا کہ اس سے پہلے دی گئی تجاویز میں اختیارات کو لیہ اور کرگل کی ضلعی کونسلوں تک محدود رکھنے اور بڑے فیصلے لیفٹیننٹ گورنر اور بیوروکریسی کے ہاتھ میں رکھنے کی بات کی گئی تھی۔انہوں نے کہا’’کل انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جو بھی آئینی انتظام قائم کیا جائے گا، وہ پورے لداخ کی سطح پر ہوگا، نہ کہ ضلعی سطح پر‘‘۔ انہوں نے اسے سابقہ تجاویز سے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا۔
وانگچک نے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں تین بڑے زمروں‘ قانون ساز، انتظامی اور مالی اختیارات ‘ میں تقسیم کیا۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت پورے لداخ کی نمائندگی کرنے والے ایک منتخب ادارے کو قانون سازی، انتظامی نگرانی اور مالی اختیارات حاصل ہوں گے۔
وانگچک نے کہا’’یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے‘‘، اور نشاندہی کی کہ فی الحال منتخب نمائندوں کا لداخ کے سالانہ بجٹ پر محدود اختیار ہے جبکہ زیادہ تر فیصلے افسران اور لیفٹیننٹ گورنر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’بھارت میں بہترین انتظام ایک ریاست کا ہوتا ہے۔ ہم قانون ساز اسمبلی والی یونین ٹیریٹری یا ریاستی درجے کی سمت بڑھ رہے ہیں‘‘۔
ماحولیاتی کار کن نے اشارہ دیا کہ ریاستی درجے کے حوالے سے مرکز کا بڑا اعتراض لداخ کی مالی خود کفالت اور اپنے وسائل سے انتظامی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔انہوں نے کہا’’ان کا اعتراض بنیادی طور پر آمدنی اور وسائل سے متعلق تھا‘‘، اور مزید کہا کہ لداخ کی معاشی صلاحیت اور مستقبل کی آمدنی کا جائزہ لینے کے لیے مطالعات کیے جا رہے ہیں۔ساتھ ہی وانگچک نے خبردار کیا کہ حالیہ بات چیت کو حتمی تصفیہ نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا’’نہ مایوسی کی کوئی وجہ ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ خوشی کی۔ یہ ایک جاری عمل ہے۔ اصولی اتفاق رائے ہے، معاہدہ نہیں‘‘۔
ادھر کرگلی نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے وفد کے سامنے ایک تجویز رکھی ہے لیکن اس کے مندرجات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا، ’’حکومت نے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لداخ کو آرٹیکل ۳۷۱ اے؍ اور۳۷۱ جی کے تحت تحفظات دیے جائیں گے اور قانون ساز، انتظامی، ایگزیکٹو اور مالی اختیارات بھی فراہم کیے جائیں گے‘‘۔
آرٹیکل ۳۷۱ اے ناگالینڈ پر لاگو ہوتا ہے اور اس کے تحت پارلیمنٹ ناگا مذہب، سماجی روایات، رسم و رواج، زمین کے حقوق اور دیوانی و فوجداری انصاف سے متعلق معاملات پر ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر قانون سازی نہیں کر سکتی۔ اسی طرح کے تحفظات آرٹیکل ۳۷۱ جی کے تحت میزورم کو بھی حاصل ہیں۔
کرگلی نے کہا کہ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک تحریری مسودہ فراہم کرے، جیسا کہ لداخ کے نمائندوں نے پہلے اپنا میمورنڈم پیش کیا تھا۔انہوں نے کہا’’ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ہمیں ایک مسودہ دے تاکہ ہم اپنے قانونی اور آئینی ماہرین سے اس پر بات چیت کر سکیں اور پھر اپنا جواب دیں‘‘۔
کرگلی نے مزید کہا کہ اگرچہ بات چیت کا جاری رہنا خوش آئند ہے، لیکن یہ عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔انہوں نے کہا’’نہ مایوسی ہے اور نہ ہی خوشی۔ یہ صرف ایک بات چیت ہے، اور جب ہمیں مسودہ ملے گا تب مزید بات کی جا سکتی ہے‘‘۔انہوں نے مذاکرات کے جاری رہنے کو ہی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا’’مذاکرات بھی ایک مثبت چیز ہیں۔ بات چیت بند کرنا مثبت نہیں ہوتا‘‘۔
کارگلی نے کہا کہ دونوں فریق بظاہر ایک قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔میٹنگ کے ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات “دو مخالف فریقوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہی فریق کے طور پر” ہو رہے ہیں، جن کا مشترکہ مقصد لداخ کے عوام کے خدشات کو دور کرنا ہے۔انہوں نے کہا’’لداخ کے عوام کو علاقائی حساسیت، تنوع اور توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ لوگوں کو نمائندگی اور احترام ملنا چاہیے‘‘۔
اگلے دور کی بات چیت کے لیے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم کرگلی نے کہا کہ وفد نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اگلی میٹنگ سے پہلے مسودہ فراہم کیا جائے۔
لداخ کی دو بڑی سول سوسائٹی تنظیمیں لیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس ‘۲۰۱۹ میں لداخ کو بغیر اسمبلی کے یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد سے ریاستی درجے، زمین اور ملازمتوں کے آئینی تحفظات اور زیادہ جمہوری اختیارات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں تنظیموں نے کہا کہ وہ حکومت ہند کے ساتھ لداخ میں جمہوریت کی بحالی اور ناگالینڈ، سکم اور میزورم کی طرز پر آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات فراہم کرنے کے حوالے سے ’اصولی اتفاق رائے‘ تک پہنچ گئی ہیں۔(ایجنسیاں)










